غذائی تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی

بلال ظفر سولنگی

پنجاب سے مبینہ طور پر 45 لاکھ ٹن اور سندھ سے 6 لاکھ ٹن گندم کے سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے کی اطلاعات نے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگر یہ دعوے حقائق پر مبنی ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض انتظامی غفلت یا ریکارڈ کی غلطی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ قومی غذائی تحفظ، زرعی معیشت، نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرے گا۔ ایسے حساس معاملے میں فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقیقت قوم کے سامنے آسکے اور ذمے دار عناصر کا تعین کیا جاسکے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، جہاں گندم نہ صرف سب سے اہم غذائی جنس ہے بلکہ کروڑوں شہریوں کی روزمرہ خوراک کا بنیادی حصہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گندم کی پیداوار، خریداری، ذخیرہ، نقل و حمل اور تقسیم کا نظام ملکی معیشت اور عوامی زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اس پورے نظام میں معمولی سی بے ضابطگی بھی آٹے کی قیمتوں، غذائی تحفظ، مہنگائی اور معاشی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اگر لاکھوں ٹن گندم واقعی ریکارڈ سے غائب ہوئی ہے یا غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی نذر ہوگئی ہے تو اس کے نتائج صرف موجودہ بحران تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ مستقبل میں بھی خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو سرکاری خریداری کی پالیسی بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے امدادی قیمت مقرر کیے جانے کے باوجود نجی شعبے نے مطلوبہ سطح پر گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی جب کہ بعد میں قیمتوں میں اضافے اور غیر قانونی خریداری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اگر مارکیٹ میں نگرانی مؤثر نہ ہو اور پالیسی سازی زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو تو ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جن سے ذخیرہ اندوز عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں جب کہ نقصان کسان، صارف اور قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان پہلے ہی مہنگائی، مالی دباؤ اور زرمبادلہ کے محدود ذخائر جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ اگر گندم کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہ ہوئی اور ملک کو درآمدات کا سہارا لینا پڑا تو ایک ارب ڈالر تک کے اضافی درآمدی بوجھ کی اطلاعات مزید تشویش میں اضافہ کرتی ہیں۔ اتنی بڑی درآمد نہ صرف قومی خزانے پر دباؤ ڈالے گی، بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ آٹے اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔
اس بحران نے زرعی شعبے میں ریکارڈ رکھنے کے موجودہ نظام پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا جدید ڈیجیٹل ٹریکنگ، جیو ٹیگنگ، آن لائن اسٹاک مینجمنٹ اور شفاف سپلائی چَین کے نظام سے استفادہ کررہی ہے، پاکستان میں لاکھوں ٹن گندم کے بارے میں بے یقینی صورت حال انتظامی کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گندم کی خریداری سے لے کر ذخیرہ، نقل و حمل اور تقسیم تک ہر مرحلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹر کیا جائے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کا بروقت سراغ لگایا جاسکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی بھی ناگزیر ہے۔ اگر کسی فرد، گروہ یا ادارے نے عوامی مفاد کے خلاف گندم کو غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا ہے یا سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ احتساب صرف نچلے درجے کے اہلکاروں تک محدود نہ رہے بلکہ جہاں بھی ذمے داری عائد ہوتی ہو، وہاں قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنایا جائے۔ یہی شفافیت عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مشترکہ تحقیقات، مؤثر رابطہ کاری اور حقائق پر مبنی فیصلے ہی اس بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ زرعی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کو مناسب معاوضہ ملے، مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا نہ ہو، صارفین کو مناسب قیمت پر آٹا دستیاب رہے اور قومی غذائی تحفظ ہر حال میں برقرار رکھا جاسکے۔
قومی غذائی تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمے داری اور مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔ گندم جیسے حساس معاملے میں غفلت، بدانتظامی یا شفافیت کا فقدان نہ صرف معاشی نقصان کا سبب بنتا ہے بلکہ عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عوام بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، حقائق بلاتاخیر سامنے لائے جائیں، ذمے داروں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے اور ایسے مؤثر اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں جو مستقبل میں اس نوعیت کے بحرانوں کا مستقل سدباب کرسکیں۔ یہی راستہ قومی مفاد، غذائی تحفظ اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔