بلال ظفر سولنگی
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر سرحدیں تو تبدیل کی جاسکتی ہیں، لیکن قوموں کے جذبات، ان کی شناخت اور آزادی کی خواہش کو دبانا ہمیشہ ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ کشمیر بھی ایسے ہی تنازعات میں شمار ہوتا ہے جو صرف جغرافیے یا سیاست تک محدود نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں، بنیادی حقوق اور عالمی انصاف کے اصولوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے نزدیک کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جس کا تعلق لاکھوں کشمیریوں کے مستقبل، شناخت اور حقِ خودارادیت سے ہے۔ اسی تصور کے تحت ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کی توجہ اس مسئلے کے انسانی پہلو کی جانب مبذول کرائی جاسکے۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں کو پاکستان نے یک طرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے نے نہ صرف مسئلے کی حساسیت میں اضافہ کیا بلکہ خطے میں پہلے سے موجود بے اعتمادی کو بھی مزید گہرا کردیا۔ اسی لیے یومِ استحصالِ کشمیر پاکستان کے نزدیک ایک یاد دہانی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے اور اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے کو انسانی حقوق کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جو اصول اور قوانین وضع کیے گئے ہیں، ان کی روح یہ ہے کہ ہر انسان کو جان، آزادی، عزت، اظہارِ رائے، مذہبی آزادی اور سیاسی شرکت جیسے بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ پاکستان مختلف بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ان رپورٹس کا حوالہ دیتا ہے، جن میں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جب کہ بھارت ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو داخلی معاملات اور انتظامی اصلاحات قرار دیتا ہے۔
کسی بھی تنازع کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ جب حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو تعلیم، صحت، تجارت، روزگار اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ خاندان بکھرتے ہیں، نوجوان بے یقینی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں اور ایک پوری نسل اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو ایک پُرامن، باوقار اور محفوظ ماحول میسر آنا چاہیے تاکہ وہ خوف اور بے یقینی کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔ یومِ استحصالِ کشمیر اسی احساس کو زندہ رکھنے کا نام ہے کہ دنیا انسانی المیوں کو صرف اعداد و شمار کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ ان کے پس منظر میں موجود انسانی کہانیوں کو بھی سمجھے۔ ہر وہ بچہ جو تعلیم کے بہتر مواقع کا خواہاں ہے، ہر وہ ماں جو اپنے خاندان کے محفوظ مستقبل کی دعا کرتی ہے اور ہر وہ نوجوان جو امن و استحکام کا خواب دیکھتا ہے، وہ اس مسئلے کا انسانی چہرہ ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ دنیا میں تنازعات کو پُرامن ذرائع سے حل کیا جائے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کمزور طبقات کو انصاف فراہم کیا جائے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیر کے معاملے میں بھی بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سفارتی اصولوں کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ پاکستان بارہا اس بات کا اعادہ کرچکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل مذاکرات، سفارت کاری اور پُرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کے عوام ہر سال یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں خصوصی دعائیں، سیمینارز، ریلیاں، مذاکرے اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان تقریبات کا مقصد نہ صرف قومی یکجہتی کا اظہار کرنا ہوتا ہے بلکہ نئی نسل کو بھی اس مسئلے کی تاریخی، قانونی اور انسانی جہتوں سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
میڈیا اس حوالے سے ایک اہم ذمے داری ادا کرتا ہے۔ ذمے دار صحافت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی تنازع کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے۔ جب دنیا کے سامنے عام شہریوں کی مشکلات، انسانی حقوق سے متعلق خدشات اور امن کی ضرورت کو مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو عالمی رائے عامہ بھی ان مسائل پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرتی ہے۔ پاکستانی میڈیا یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی نشریات، دستاویزی پروگرام، مضامین اور تجزیے پیش کرکے اسی مقصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کا دور صرف روایتی سفارت کاری کا نہیں بلکہ عوامی اور ڈیجیٹل سفارت کاری کا بھی ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے نوجوان مختلف آن لائن مہمات، علمی مباحث اور معلوماتی مواد کے ذریعے کشمیر کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ اس عمل میں ذمے داری، تحقیق اور شائستگی کو بنیادی اصول ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ایک سنجیدہ اور مؤثر پیغام پہنچ سکے۔
یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنوبی ایشیا کی ترقی اور خوش حالی کا دارومدار امن پر ہے۔ پاکستان بارہا اس عزم کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون، تجارت، عوامی روابط اور مذاکرات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک ایسے تمام تنازعات، جن میں کشمیر بھی شامل ہے، کا حل طاقت کے بجائے بات چیت، بین الاقوامی قوانین اور باہمی احترام کے اصولوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے، لیکن اس راہ میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور جنونی طبیعت رُکاوٹ ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ انسانی وقار، انصاف اور آزادی کی اقدار کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوتیں۔ جب دنیا کے کسی بھی حصے میں بنیادی حقوق سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں تو عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ان پر توجہ دے اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرے۔ پاکستان اسی اصول کے تحت کشمیر کے معاملے کو عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ کشمیری عوام کو ایسا ماحول میسر آنا چاہیے جہاں وہ امن، عزت اور تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یومِ استحصالِ کشمیر محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور امن کے عالمی اصولوں کی یاد دہانی بھی ہے۔ پاکستان کے نزدیک مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی جاری رکھے گا اور خطے میں امن، استحکام اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔