کراچی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں اور مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ ذہن میں واپس لایا جا سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ جس ماحولیاتی ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد دوبارہ فعال ہوسکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض یادیں مٹنے کے بجائے دماغ میں ایسی حالت اختیار کرلیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد نہیں کیا جاسکتا۔
ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت انتہائی پیچیدہ اور ناقص نظام ہے۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہوجاتی ہیں جب کہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا دوسرے اشارے سے اچانک واپس آسکتی ہیں۔
تاہم، محققین کے مطابق دماغ حقیقی یادوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جھوٹی یادیں بھی کیوں تشکیل دیتا ہے، اس عمل کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جاسکا۔
تحقیق میں کہا گیا کہ حقیقی یادوں کی بازیابی اور غلط یادوں کی تشکیل کے پیچھے موجود عصبی عمل اب بھی سائنس کے لیے ایک اہم سوال ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں ماحول اور بیرونی اشارے کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔