کیا اب نظام بدلنے کا وقت نہیں؟

دانوشہ تنویر

ریاست صرف نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں کا نام نہیں، ریاست دراصل اس فاصلے کا نام بھی ہے جو ایک عام شہری اور اس کے مسئلے کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ اگر ایک معمولی نوعیت کا مسئلہ حل کرانے کے لیے شہری کو ضلعی دفتر، ڈویژنل مرکز، صوبائی دارالحکومت اور کبھی وفاقی سطح تک دروازے کھٹکھٹانے پڑیں تو سوال صرف انتظامی تاخیر کا نہیں رہتا، یہ ریاست اور شہری کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا سوال بن جاتا ہے۔ پاکستان کی آبادی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار 431 تک پہنچ چکی ہے۔ 1951ء میں یہی آبادی قریباً 3 کروڑ 37 لاکھ تھی، یعنی سات دہائیوں میں آبادی سات گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ مگر آبادی کے اس غیر معمولی پھیلاؤ کے مقابلے میں انتظامی ڈھانچے کی بحث اتنی رفتار سے آگے نہیں بڑھی۔ آج بھی پاکستان چار صوبائی اکائیوں کے بنیادی ڈھانچے میں کام کرتا ہے جب کہ صوبوں کے اندر ڈویژن، اضلاع اور تحصیلیں موجود ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق انتظامی ساخت میں صوبے ڈویژنوں، ڈویژن اضلاع اور اضلاع ذیلی انتظامی اکائیوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
یہاں نئے انتظامی یونٹس کی بحث محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انتظامی فلسفے کا سوال بن جاتی ہے: کیا ایک بڑھتی ہوئی آبادی کو وہی انتظامی حجم مؤثر انداز میں سنبھال سکتا ہے جو ایک نسبتاً کم آبادی کے دور میں تشکیل پایا تھا؟ مردم شماری کے اعدادوشمار ایک اور حقیقت بھی سامنے رکھتے ہیں۔ پاکستان کی شہری آبادی کا تناسب 1998 کے 32.5 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 38.82 فیصد ہوگیا۔ سندھ میں شہری آبادی کا حصہ 53.73 فیصد تک پہنچ چکا ہے جب کہ پنجاب میں یہ شرح 40.70 فیصد ہے۔ شہر بڑھ رہے ہیں، آبادی پھیل رہی ہے، معاشی سرگرمیاں نئے مراکز پیدا کررہی ہیں، مگر انتظامی فیصلوں کی رفتار اگر اسی نسبت سے نہ بڑھے تو شہری زندگی میں بنیادی سہولتوں کا بحران جنم لیتا ہے۔ پانی، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، بلدیاتی خدمات، زمین کے استعمال اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات ایسے ہیں جنہیں فائلوں کے بجائے زمینی ضرورت کے مطابق چلنا چاہیے۔
نئے انتظامی یونٹس کا تصور اسی مقام پر ایک ممکنہ انتظامی راستے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ موجودہ شناختیں ختم کردی جائیں یا کسی صوبے کی وحدت کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انتظامی اختیار، وسائل اور فیصلہ سازی کو ان علاقوں کے قریب لایا جائے جہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل ایک ہی اصول پر نہیں ہوئی۔ کہیں آبادی، کہیں جغرافیہ، کہیں تاریخی ضرورت اور کہیں انتظامی کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا۔ پاکستان میں بھی اگر نئے انتظامی یونٹس کی بحث آگے بڑھتی ہے تو اس کے لیے جذبات سے زیادہ واضح معیار درکار ہوں گے: آبادی کتنی ہے؟ جغرافیہ کتنا وسیع ہے؟ انتظامی مرکز تک شہری کا سفر کتنا ہے؟ وسائل کہاں سے آئیں گے؟ ادارے کس طرح منتقل ہوں گے؟ اور سب سے اہم، کیا نئی اکائی واقعی شہری تک حکومت کی رسائی بہتر بنائے گی؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ نئی اکائی بننے سے محض ایک نیا نام اور نیا دفتر پیدا ہوگا یا اختیارات بھی نچلی سطح تک منتقل ہوں گے؟ اگر انتظامی نقشہ بدل جائے لیکن فیصلہ سازی، بجٹ اور اختیارات وہیں رہیں تو تبدیلی صرف کاغذ پر ہوگی۔
اس لیے نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو صوبائیت بمقابلہ مرکزیت، زبان بمقابلہ زبان یا شہر بمقابلہ دیہات کی کشمکش بنانے کے بجائے گورننس کی بحث بنانا زیادہ نتیجہ خیز ہوسکتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2023ء کی مردم شماری میں پورے ملک کے لیے 185,489 مردم شماری بلاکس تشکیل دیے گئے، جن میں شہری اور دیہی دونوں علاقے شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس انتظامی پیچیدگی کا اندازہ دیتے ہیں جس میں ایک ہی ملک کے اندر مختلف جغرافیائی اور آبادیاتی حقیقتیں موجود ہیں۔ اصل سوال شاید یہ نہیں کہ نیا انتظامی یونٹ بنایا جائے یا نہ بنایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ شہری کو ریاست کتنی جلد، کتنی آسانی اور کتنی جواب دہی کے ساتھ دستیاب ہوسکتی ہے۔
اگر ایک نئے انتظامی ڈھانچے سے ہسپتال شہری کے قریب، یونیورسٹی نوجوان کے قریب، سرکاری دفتر سائل کے قریب، بجٹ ضرورت کے قریب اور افسر عوام کے قریب آتا ہے تو یہ بحث انتظامی اصلاحات کی بحث بن جاتی ہے۔ لیکن اگر نئی حد بندی صرف سیاسی مفادات، عہدوں کی تقسیم یا نئے دفاتر کے قیام تک محدود رہ جائے تو مسئلہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔
اس لیے نئے انتظامی یونٹس کی ہر تجویز کے ساتھ ایک جامع انتظامی منصوبہ، مالیاتی خاکہ، واضح اختیارات، مقامی حکومتوں کا مضبوط کردار اور شفاف احتساب ضروری ہے۔ ریاست کا حُسن اس کے رقبے میں نہیں، اس کی رسائی میں ہوتا ہے۔ شہری کو اگر انصاف، تعلیم، صحت، پانی اور بنیادی سہولت کے لیے اپنی زندگی کے دن دفتروں کے چکروں میں نہ گزارنے پڑیں تو یہی انتظامی کامیابی ہے۔ شاید وقت کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم نقشے کو نہیں، نظام کو کتنا بدلنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی صرف زیادہ لوگوں کا نام نہیں، یہ زیادہ مسائل، زیادہ ضروریات اور زیادہ جواب دہ حکومت کا تقاضا بھی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس اسی بڑے سوال کا ایک ممکنہ جواب ہیں مگر ان کی کامیابی کا فیصلہ نعروں سے نہیں، شہری کی زندگی میں آنے والی حقیقی آسانی سے ہوگا۔