کتاب کے اندر چھپا راز

عبدالعزیز بلوچ

شہر کی سب سے پرانی گلی میں ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ لکڑی کا بوسیدہ دروازہ، دیواروں تک پہنچے ہوئے کتابوں کے ڈھیر اور ایک کونے میں رکھا پرانا پنکھا، جو گرمی میں بھی بس اتنا گھومتا تھا جیسے اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس دکان کا مالک حازم تھا۔ وہ کتابیں بیچنے سے زیادہ انہیں سنبھالنے کا کام کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کتاب صرف کاغذ نہیں ہوتی، کسی انسان کی پوری زندگی اس کے صفحات میں چھپی ہوسکتی ہے۔
ایک دن ایک بوڑھا آدمی دکان پر آیا۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک پرانی کتاب تھی۔ اس نے کہا، “بیٹا، یہ کتاب بیچنی ہے۔” حازم نے کتاب کھولی تو اندر ہاتھ سے لکھے ہوئے کئی صفحات تھے۔ آخری صفحے پر ایک نام لکھا تھا اور ساتھ ایک جملہ: “یہ کتاب میرے بیٹے کے لیے ہے، جب وہ سچ کو دولت پر ترجیح دینا سیکھ جائے۔”
حازم نے حیرت سے پوچھا، “یہ کس کی کتاب ہے؟”
بوڑھے نے نظریں جھکا لیں۔ “میرے والد کی۔ وہ کئی برس پہلے فوت ہوگئے۔ گھر کے حالات خراب ہیں، اس لیے بیچنے آیا ہوں۔”
حازم نے کتاب کی قیمت لگائی۔ بوڑھا رقم سن کر کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “اگر ممکن ہو تو تھوڑے زیادہ دے دو۔ گھر میں دوا کے پیسے نہیں ہیں۔”
حازم نے اپنی جیب دیکھی۔ دکان کی کمائی بھی معمولی تھی۔ اس نے اپنی جمع پونجی نکالی اور بوڑھے کے ہاتھ پر رکھ دی۔ بوڑھا حیران رہ گیا۔ “یہ تو کتاب کی قیمت سے بہت زیادہ ہے!”
حازم مسکرایا۔ “مجھے معلوم ہے۔ مگر شاید آج مجھے کتاب نہیں، کسی کی ضرورت خریدنی تھی۔”
بوڑھا چلا گیا۔ کچھ دن بعد حازم نے کتاب کے باقی صفحات ترتیب دینا شروع کیے۔ اچانک اسے ایک لفافہ ملا۔ لفافے میں پرانے زمانے کے کچھ کاغذات اور ایک جائیداد کا اصل ملکیتی دستاویز تھا۔
حازم چونک گیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ یہ کاغذات اگر وہ اپنے پاس رکھ لے تو شاید کسی کو کبھی خبر نہ ہو۔
اسی وقت اس کے دل میں خیال آیا: “دکان کے قرضے اتر سکتے ہیں۔ نیا کاروبار شروع ہوسکتا ہے۔ زندگی بدل سکتی ہے۔”
وہ کئی گھنٹے کاغذات کو دیکھتا رہا۔ پھر اسے کتاب کا وہ جملہ یاد آیا: “جب وہ سچ کو دولت پر ترجیح دینا سیکھ جائے۔”
حازم نے کاغذات دوبارہ لفافے میں رکھے۔ اگلے دن اس نے بوڑھے کو تلاش کیا۔ کافی جگہ ڈھونڈا، بالآخر کئی گلیاں پوچھنے کے بعد وہ ایک چھوٹے سے مکان تک پہنچا۔ بوڑھا دروازے پر بیٹھا تھا۔ حازم نے لفافہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: “یہ کتاب میں رہ گیا تھا۔”
بوڑھے نے لفافہ کھولا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ “بیٹا… تمہیں معلوم ہے یہ کیا ہے؟”
حازم نے کہا، “جی۔”
“اور تم نے اسے اپنے پاس نہیں رکھا؟”
حازم خاموش رہا۔ بوڑھے کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
“میرے والد کہتے تھے، دنیا میں سب سے مشکل کام حرام چیز سے ہاتھ روکنا ہے، خاص طور پر جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ آج مجھے یقین ہوگیا کہ ان کی تربیت میرے خاندان میں کہیں نہ کہیں ابھی زندہ ہے۔”
کچھ دن بعد بوڑھا دوبارہ حازم کی دکان پر آیا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا۔ اس نے کہا: “یہ میرا بیٹا ہے۔ یہ شہر سے باہر رہتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اسے اپنے ساتھ کام سکھاؤ۔”
حازم نے نوجوان کو دیکھا۔ “کتابیں بیچنا سیکھو گے؟”
نوجوان نے کہا، “اگر آپ سکھائیں گے تو سب سیکھوں گا۔”
حازم نے اسے دکان میں رکھ لیا۔ مہینے گزرتے گئے۔ نوجوان نے محنت کی، کاروبار سمجھا اور آہستہ آہستہ دکان سنبھالنے لگا۔
ایک دن اس نے حازم سے پوچھا: “آپ نے وہ کاغذات واپس کیوں کیے تھے؟ آپ چاہتے تو امیر ہوسکتے تھے۔”
حازم نے ایک پرانی کتاب بند کی اور کہا: “بیٹا، جو دولت کسی دوسرے کا حق چھین کر ملے، وہ جیب میں آسکتی ہے، دل میں نہیں۔”
نوجوان نے پوچھا، “پھر اصل کامیابی کیا ہے؟”
حازم نے جواب دیا: “یہ کہ رات کو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر تمہیں اپنی زندگی کا کوئی صفحہ چھپانا نہ پڑے۔”
کئی سال بعد حازم کی دکان شہر کی معروف کتابوں کی دکان بن گئی۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ اس معمولی دکان نے اتنی ترقی کیسے کی۔ حازم ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا: “میں نے کاروبار میں ایک اصول رکھا تھا: کسی کی مجبوری کو اپنی کمائی کا ذریعہ نہیں بنانا۔”
وہ جانتا تھا کہ انسان کبھی کبھی ایک غلط فیصلہ کرکے برسوں کی محنت ضائع کردیتا ہے، لیکن ایک درست فیصلہ ایسی برکت لے آتا ہے جس کا حساب انسان اپنی عقل سے نہیں لگا سکتا۔
زندگی میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب حلال راستہ مشکل، لمبا اور کم فائدہ مند دکھائی دیتا ہے جب کہ غلط راستہ آسان اور فوری فائدے والا نظر آتا ہے۔ اصل امتحان وہیں شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ہاں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ تم نے کتنا کمایا۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ تم نے کمایا کیسے۔ اور بعض اوقات انسان کے ہاتھ سے نکلنے والی سب سے بڑی دولت وہ ہوتی ہے جسے وہ حرام سمجھ کر واپس کردیتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔