عبدالعزیز بلوچ
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں شہر کی سڑکوں کو بھگو رہی تھیں۔ عارف اپنی پرانی موٹرسائیکل پر آہستہ آہستہ گھر کی طرف جارہا تھا۔ جیب میں صرف 120 روپے تھے جب کہ گھر پہنچتے ہی اسے بچوں کی اسکول فیس، راشن، بجلی کے بل اور بیمار والدہ کی دواؤں کے سوالات کا سامنا کرنا تھا۔ وہ ایک نجی ادارے میں ملازم تھا۔ دس سال تک پوری دیانت داری سے کام کرنے کے بعد ایک دن کمپنی بند ہوگئی۔ نئی ملازمت ملی تو تنخواہ آدھی تھی۔ حالات ایسے ہوئے کہ قرض بڑھتے گئے اور عزت بچانا مشکل ہونے لگی۔ اس رات عارف دیر تک جاگتا رہا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا: "یااللہ! میں تھک گیا ہوں… اب میرے لیے کوئی راستہ کھول دے۔”
اگلی صبح بھی حالات وہی تھے۔ انسان اکثر سمجھتا ہے کہ اللہ اس کی دعا نہیں سن رہا، حالانکہ کبھی کبھی اللہ بندے کو اس کے اپنے اندر چھپی طاقت سے ملوانے کے لیے آزمائش کو کچھ دیر اور بڑھا دیتا ہے۔ چند دن بعد عارف ایک مسجد میں عصر کی نماز پڑھنے گیا۔ نماز کے بعد ایک بوڑھے شخص نے اسے سلام کیا اور پوچھا: "بیٹا! پریشان لگتے ہو؟” عارف کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا۔ اس نے اپنی پوری داستان سنا دی۔ بزرگ نے خاموشی سے سنا، پھر صرف ایک جملہ کہا: "بیٹا، رزق کی کمی سے زیادہ خطرناک امید کی کمی ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ عارف کے دل میں اتر گئے۔ بوڑھے نے مزید کہا: "کبھی سورۂ واقعہ پڑھتے ہو؟” عارف نے نفی میں سر ہلایا۔ انہوں نے کہا: "رزق صرف پیسے کا نام نہیں، سکون بھی رزق ہے، عزت بھی رزق ہے، اچھے لوگ بھی رزق ہیں۔ اللہ سے تعلق مضبوط کرو، پھر دیکھو وہ کیسے راستے بناتا ہے۔” اس دن کے بعد عارف نے اپنی زندگی کا معمول بدل دیا۔ وہ فجر کی نماز باجماعت پڑھنے لگا۔ روزانہ کچھ وقت قرآن کی تلاوت کرتا، استغفار کو معمول بناتا اور ہر رات سونے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھ کر اپنے رب سے باتیں کرتا۔ حالات فوراً نہیں بدلے۔
ایک مہینہ گزرا… پھر دوسرا… پھر تیسرا… لیکن اس کے اندر کچھ بدل گیا۔ پہلے وہ ہر وقت شکایت کرتا تھا، اب شکر ادا کرنے لگا تھا۔ پہلے ہر دروازہ بند نظر آتا تھا، اب اسے یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں اللہ نے ایک دروازہ اس کے لیے کھلا رکھا ہے۔ ایک دن وہ روزگار کی تلاش میں ایک دفتر گیا۔ وہاں پہلے ہی درجنوں امیدوار موجود تھے۔ عارف نے دل ہی دل میں دعا کی۔ انٹرویو لینے والے شخص نے اچانک پوچھا: "اگر ہم آپ کو نوکری نہ دیں تو؟” عارف نے مسکرا کر جواب دیا: "پھر بھی میرا رزق کم نہیں ہوگا، کیونکہ آپ نہیں، میرا رب رزق دینے والا ہے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ انٹرویو ختم ہوا اور عارف گھر واپس آگیا۔ تین دن بعد فون آیا۔ اسے نوکری مل گئی تھی، لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ تنخواہ اس کی پچھلی تمام ملازمتوں سے زیادہ ہے۔ عارف خوش ضرور تھا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ اس نے سجدے میں جاکر کہا: "یااللہ! میں نوکری ملنے پر خوش نہیں… میں اس بات پر خوش ہوں کہ تُو نے مجھے تیرے اوپر بھروسا کرنا سکھادیا۔” چند ماہ بعد اس کی مالی حالت سنبھلنے لگی۔ قرض اترنے لگے۔ بچوں کی فیس وقت پر جمع ہونے لگی۔ گھر میں سکون واپس آگیا۔
ایک دن وہی بزرگ دوبارہ مسجد میں ملے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا: "بیٹا، اب کیسا ہے؟” عارف نے کہا: "اللہ نے کرم کردیا۔” بوڑھے نے جواب دیا: "نہیں بیٹا… اللہ نے کرم پہلے بھی کیا ہوا تھا، فرق صرف یہ تھا کہ تم اُس کے کرم کو اپنی پریشانی کے دھند میں دیکھ نہیں پارہے تھے۔” یہ جملہ عارف کی زندگی کا سرمایہ بن گیا۔
کئی سال گزر گئے۔ اب عارف ایک کامیاب کاروباری شخص تھا۔ اس کے پاس پیسہ تھا، عزت تھی، سکون تھا۔ لیکن اس نے کبھی وہ دن نہیں بھلائے جب اس کے پاس صرف 120 روپے تھے۔ وہ ہر مہینے خاموشی سے چند مستحق خاندانوں کی مدد کرتا، مگر کسی کو اپنا نام نہیں بتاتا۔ ایک دن اس کے دفتر میں ایک نوجوان آیا۔ آنکھوں میں آنسو، ہاتھ میں فائل اور چہرے پر مایوسی تھی۔ وہ بولا: "سر! میں ہر جگہ ناکام ہوگیا ہوں۔ لگتا ہے اللہ نے مجھے بھلا دیا ہے۔”
عارف مسکرایا۔ اس نے دراز کھولی، ایک پرانا بٹوہ نکالا اور اس میں رکھا ہوا ایک پرانا، مڑا تڑا سو روپے کا نوٹ اور بیس روپے کا نوٹ نوجوان کے سامنے رکھ دیا۔ نوجوان حیران ہوکر بولا: "یہ کیا ہے؟”
عارف نے کہا: "یہ وہ رقم ہے جو ایک وقت میں میری کل دولت تھی۔ میں نے اسے اس لیے سنبھال کر رکھا ہے تاکہ مجھے کبھی غرور نہ آئے اور کبھی یہ نہ بھولوں کہ اللہ بندے کو زمین کی گہرائیوں سے اٹھا کر بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔” پھر اس نے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "یاد رکھنا، اللہ کے ہاں دیر ہوسکتی ہے، اندھیر نہیں۔ اگر تمہارے ہاتھ خالی ہیں مگر دل اللہ سے جڑا ہوا ہے تو تم حقیقت میں خالی نہیں ہو۔”
نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ خاموشی سے اٹھا، عارف کو گلے لگایا اور بولا: "آج آپ نے مجھے نوکری نہیں، زندگی دے دی ہے۔” عارف کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ آسمان کی طرف دیکھا۔ وہی بارش برس رہی تھی جو کئی سال پہلے اس کی مایوسی کی گواہ بنی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس دن وہ بارش اسے اندھیرا لگ رہی تھی اور آج وہی بارش اسے اللہ کی رحمت محسوس ہو رہی تھی۔
زندگی کا سب سے خوبصورت راز یہی ہے کہ اللہ کبھی کسی بند دروازے پر کہانی ختم نہیں کرتا۔ انسان سمجھتا ہے کہ سب راستے بند ہوگئے، مگر اللہ وہیں سے ایک ایسا دروازہ کھول دیتا ہے، جس کا تصور بھی انسان نے کبھی نہیں کیا ہوتا۔
قرآن ہمیں امید دیتا ہے: "اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا کردیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔” (سورۂ الطلاق: 2-3)
اس لیے اگر آج حالات مشکل ہیں، تو مایوس نہ ہوں۔ سجدہ چھوڑنے کے بجائے اسے اور مضبوط کردیں، کیونکہ بندے کی زندگی کا آخری فیصلہ حالات نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت کرتی ہے۔