بلال ظفر سولنگی
گاؤں کے کچے راستوں پر شام آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ ہر طرف عیدالاضحیٰ کی رونقیں بڑھ رہی تھیں۔ کہیں بچے بکرے کے گلے میں رنگین پھول ڈال رہے تھے، کہیں لوگ اپنے جانوروں کی تصویریں بنا بنا کر سوشل میڈیا پر لگا رہے تھے۔ بازاروں میں رش تھا، ہر شخص دوسروں سے بڑھ کر مہنگا اور خوبصورت جانور خریدنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔
اسی گاؤں میں اللہ دتہ نام کا ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ اس کی چھوٹی سی جھونپڑی تھی، دو بچے تھے اور بوڑھی ماں۔ سارا سال اینٹیں اٹھا اٹھا کر جو کچھ کماتا، بمشکل گھر کا خرچ چلتا۔ لیکن ایک چیز ایسی تھی جسے وہ ہر حال میں نبھانے کی کوشش کرتا تھا اور وہ تھی اللہ کی رضا کے لیے قربانی۔
اس سال حالات پہلے سے زیادہ خراب تھے۔ مہنگائی نے کمر توڑ دی تھی۔ بچے کئی دنوں سے نئے کپڑوں کی ضد کررہے تھے مگر اللہ دتہ خاموش رہتا۔ اس کے دل میں صرف ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ایک جانور خرید لے تاکہ سنتِ ابراہیمی ادا ہوسکے۔
ایک دن وہ مویشی منڈی گیا۔ ہر طرف شور تھا۔ لوگ جانوروں کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے، قیمتیں بتا بتا کر فخر کررہے تھے۔ کسی کو جانور کی صحت کی فکر نہ تھی، کسی کو اس کے آرام کا خیال نہ تھا۔ کئی جانور گرمی اور پیاس سے بے حال کھڑے تھے۔
اللہ دتہ ایک کونے میں پہنچا تو اس کی نظر ایک کمزور سے بکرے پر پڑی۔ بکرے کی آنکھوں میں عجیب اداسی تھی۔ اس کے پاس کھڑا بیوپاری بولا، “یہ بکرا کوئی نہیں خریدتا، کمزور ہے، زیادہ اچھا نہیں لگتا۔”
اللہ دتہ نے بکرے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ بکرا خاموشی سے اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔ نہ جانے کیوں اللہ دتہ کے دل میں اس جانور کے لیے محبت پیدا ہوگئی۔ اس نے اپنی جمع پونجی نکالی اور وہی بکرا خرید لیا۔
گاؤں واپس آیا تو کچھ لوگ مذاق اڑانے لگے۔ “ارے اللہ دتہ! یہ قربانی ہے یا مذاق؟ اتنا کمزور بکرا؟”
کسی نے کہا، “بھائی، قربانی تو ایسی ہونی چاہیے کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں!”
اللہ دتہ مسکرا کر خاموش ہوگیا۔ رات کو اس نے بکرے کے لیے صاف پانی رکھا، خود بھوکا رہا مگر اس کے لیے چارہ لے آیا۔ اس کے بچے بھی بکرے سے محبت کرنے لگے۔ چھوٹی بیٹی روز اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہتی، “ابو! ہمارا بکرا سب سے پیارا ہے۔”
عید سے ایک دن پہلے گاؤں کے ایک امیر آدمی چوہدری حشمت نے اپنے گھر کے باہر بڑے بڑے جانور باندھے۔ پورا گاؤں دیکھنے آیا۔ ہر طرف ویڈیوز بن رہی تھیں۔ چوہدری صاحب بار بار لوگوں سے کہتے، “دیکھا؟ اس بار پورے ضلع میں ایسے جانور کسی کے پاس نہیں!”
مگر انہی جانوروں کے پاس نہ سایہ تھا، نہ پانی۔ نوکر صرف تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔ رات کو اچانک بارش شروع ہوگئی۔ لوگ اپنے گھروں میں چلے گئے۔ اللہ دتہ فوراً اٹھا اور اپنے بکرے کو جھونپڑی کے اندر لے آیا تاکہ وہ موسم کے اثرات سے محفوظ رہے۔ وہ ساری رات اس کے پاس بیٹھا رہا۔ دوسری طرف چوہدری صاحب کے کئی جانور بارش میں بھیگتے رہے۔ صبح ایک مہنگا جانور بیمار پڑگیا۔
عید کی نماز کے بعد سب قربانی کی تیاری کرنے لگے۔ اللہ دتہ نے پہلے اپنے بکرے کو پانی پلایا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے بولا، “اللہ کی رضا کے لیے تجھے قربان کررہا ہوں۔”
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ادھر چوہدری صاحب کے گھر شور تھا، کیمرے تھے، موبائل لائیو چل رہے تھے۔ ہر کوئی دکھاوے میں مصروف تھا۔
اسی دوران مسجد کے امام صاحب وہاں آئے۔ انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا،
“یاد رکھو! اللہ کو نہ جانور کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون۔ اللہ کے ہاں صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ قربانی عبادت ہے، مقابلہ نہیں۔ جانور بے زبان مخلوق ہیں، ان پر رحم کرو، ان کو تکلیف نہ دو۔”
لوگ خاموش ہوگئے۔ امام صاحب کی نظر اللہ دتہ پر پڑی جو اپنے بکرے کے ساتھ نہایت محبت اور احترام سے پیش آرہا تھا۔ امام صاحب بولے، “اصل قربانی یہ ہے۔ جس میں اخلاص ہو، محبت ہو، اللہ کی رضا ہو۔”
یہ الفاظ سن کر کئی لوگوں کے سر جھک گئے۔ قربانی کے بعد اللہ دتہ نے گوشت کے تین حصے کیے۔ ایک اپنے لیے رکھا، ایک رشتہ داروں کو دیا اور تیسرا محلے کے غریب لوگوں میں تقسیم کردیا۔ اس کے اپنے گھر میں زیادہ کچھ نہ تھا، مگر اس کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔
اسی شام چوہدری حشمت اپنے بڑے صحن میں اکیلا بیٹھا تھا۔ اس کے جانوروں کی تصویریں تو سوشل میڈیا پر بہت چلیں، مگر دل میں سکون نہ تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس نے قربانی اللہ کے لیے کم اور لوگوں کو دکھانے کے لیے زیادہ کی تھی۔
وہ خاموشی سے اللہ دتہ کے گھر پہنچا۔ دیکھا کہ غریب ہونے کے باوجود وہاں محبت، سکون اور خوشی موجود ہے۔ بچے مسکرا رہے ہیں، بوڑھی ماں دعا دے رہی ہے۔ چوہدری کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے اللہ دتہ سے کہا، “بھائی، آج تم نے مجھے قربانی کا اصل مطلب سمجھادیا۔” اللہ دتہ نے مسکرا کر جواب دیا، “قربانی جانور کی نہیں، اپنے غرور، دکھاوے اور انا کی ہوتی ہے۔”
یہ جملہ چوہدری کے دل میں اتر گیا۔ اگلے سال عید آئی تو گاؤں والوں نے ایک نیا منظر دیکھا۔ چوہدری حشمت اس بار سادہ لباس میں منڈی گیا۔ اس نے جانور خریدنے سے پہلے ان کے لیے پانی کا انتظام کیا، غریب لوگوں کے لیے مفت چارہ تقسیم کیا اور سب سے اہم بات، اس بار اس کے گھر میں نہ شور تھا، نہ نمائش۔ لوگ حیران تھے کہ اتنی تبدیلی کیسے آگئی؟
چوہدری صرف اتنا کہتا، “میں نے ایک غریب مزدور سے سیکھا ہے کہ قربانی دکھاوے کا نہیں، دل کے اخلاص کا نام ہے۔”
عیدالاضحیٰ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اللہ کے راستے میں دی گئی ہر قربانی صرف اسی وقت قبول ہوتی ہے جب اس میں خلوص ہو۔ جانوروں پر رحم کرنا، ان کا خیال رکھنا، انہیں بھوکا پیاسا نہ رکھنا اور اپنی عبادت کو نمود و نمائش سے بچانا ہی اصل سنت ہے۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی چیز مہنگا جانور نہیں، بلکہ سچا دل ہے۔