حسان احمد
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام شایان تھا۔ وہ بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک مزدور تھے اور ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔ گھر میں اکثر فاقے ہوتے تھے، لیکن شایان کی آنکھوں میں خواب بہت بڑے تھے۔ اُس کا خواب تھا کہ وہ بڑا آدمی بنے، اپنے ماں باپ کی زندگی بدل دے اور اپنے گاؤں کا نام روشن کرے۔ مگر اس کے راستے میں مشکلات اتنی تھیں کہ اکثر لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
اس کے دوست کہتے: “تُو غریب ہے، تُو کچھ نہیں کرسکتا۔ پڑھائی چھوڑ دے اور کام کرلے۔” لیکن شایان ہر بار مسکرا کر کہتا: “میں ابھی ہارا نہیں ہوں… میں بس تیاری کررہا ہوں۔” شایان کے پاس نہ اچھے کپڑے تھے، نہ مہنگی کتابیں۔ وہ پرانی روشنی میں پڑھتا تھا، کبھی چراغ کی لو میں، کبھی موبائل کی ٹارچ سے۔ ایک دن اسکول میں استاد نے سب بچوں کو کہا: “جو بچہ سب سے بڑا خواب رکھتا ہے، وہ بتائے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے؟”
سب بچوں نے ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ کے خواب بتائے۔ جب شایان کی باری آئی تو وہ کھڑا ہوا اور کہا: “میں وہ بننا چاہتا ہوں جو اپنے ماں باپ کی غربت ختم کرے اور اپنے گاؤں کے بچوں کو تعلیم دے۔” کلاس میں کچھ بچے ہنس پڑے۔ لیکن استاد خاموش رہے اور صرف اتنا کہا: “خواب بڑا رکھنا آسان ہے، مگر اسے پورا کرنا ہمت والوں کا کام ہے۔”
وقت گزرتا گیا۔ شایان نے دن رات محنت شروع کردی۔ وہ اسکول کے بعد کھیتوں میں کام کرتا، پھر رات کو پڑھتا۔ کئی بار وہ تھک کر سو جاتا مگر پھر بھی ہار نہیں مانتا تھا۔ ایک دن امتحان کا نتیجہ آیا۔ پورے اسکول میں شایان نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ پورا گاؤں حیران تھا۔ وہی لوگ جو اس کا مذاق اڑاتے تھے، اب اس کی تعریف کررہے تھے۔ مگر شایان نے کہا: “یہ صرف آغاز ہے… منزل ابھی دُور ہے۔”
شایان نے مزید محنت کی۔ وہ شہر چلا گیا اعلیٰ تعلیم کے لیے۔ وہاں بھی اسے مشکلات آئیں، پیسوں کی کمی، تنہائی اور سخت مقابلہ… لیکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
کئی سال بعد وہی شایان ایک کامیاب انسان بن چکا تھا۔ اس نے ایک بڑا تعلیمی ادارہ قائم کیا، جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ افتتاح کے دن وہ اپنے گاؤں واپس آیا۔ وہی لوگ جو کبھی اس کا مذاق اڑاتے تھے، آج اس کے سامنے سر جھکا رہے تھے۔ شایان نے مائیک پر کہا: “میں کوئی خاص نہیں تھا… بس میں نے ہار ماننے سے انکار کیا تھا۔ اگر آپ بھی اپنی مشکلات سے لڑیں تو کوئی بھی خواب ناممکن نہیں۔”
اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے وہی چراغ جل رہا تھا جس کی روشنی میں وہ بچپن میں پڑھتا تھا۔ زندگی میں حالات چاہے جتنے بھی سخت ہوں، اگر انسان محنت، صبر اور مستقل مزاجی نہ چھوڑے تو قسمت بھی راستہ بدل دیتی ہے۔