عبدالعزیز بلوچ
سردی کی ایک خوبصورت مگر یخ بستہ صبح تھی۔ سورج ابھی افق کے پیچھے سے اپنی کرنیں پھیلانے کی کوشش کررہا تھا، لیکن کُہرا اتنا گہرا تھا کہ چند قدم آگے دیکھنا بھی محال تھا۔ کراچی کے ایک پُرسکون علاقے میں رہنے والا 16 سالہ بلال بستر سے اٹھا۔ آج اتوار کا دن تھا اور بلال کے لیے یہ روز کسی عید سے کم نہ تھا کیونکہ اسے اپنے محلے کے نوجوانوں کے ساتھ ایک اہم فٹ بال میچ کھیلنے جانا تھا اور وہ بھی قریبی گراؤنڈ میں، جہاں شہر بھر کی نظریں تھیں۔
بلال کا دل خوشی سے ناچ رہا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے کپڑے بدلے، جوتوں کے تسمے باندھے، کاندھے پر اپنا اسپورٹس بیگ لٹکایا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔ اس کی ماں نے پیچھے سے آواز دی، "بلال! بیٹا، ناشتہ تو کرلو۔” بلال نے باہر بھاگتے ہوئے کہا، "امی، دیر ہورہی ہے، میچ کا ٹاس ہونے والا ہے، میں راستے میں کچھ کھا لوں گا!”
بلال گلی سے نکل کر مین روڈ کی طرف تیزی سے قدم بڑھارہا تھا۔ اس کا ذہن صرف اس بات پر اٹکا ہوا تھا کہ آج کے میچ میں اسے پہلا گول کرنا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی دنیا میں گم تھا کہ اچانک اس کا پاؤں کسی سخت اور بے ترتیب چیز سے ٹکرایا۔ وہ سنبھل نہ سکا اور دھڑام سے زمین پر جاگرا۔ اس کے گھٹنے میں شدید چوٹ آئی اور کہنی پر خراشوں سے خون رسنے لگا۔ کاندھے کا بیگ دور جاگرا۔
بلال نے غصے سے اٹھ کر دیکھا کہ آخر وہ کس چیز سے ٹکرایا ہے۔ سڑک کے عین درمیان، جہاں سے لوگ گزرتے ہیں، سیمنٹ کی ایک بھاری بوری اور پرانے لکڑی کے تختے پڑے ہوئے تھے، جو کسی گھر کی مرمت کے بعد لاپروائی سے وہیں پھینک دیے گئے تھے۔ ساتھ ہی، ایک بڑا سا گڑھا بھی تھا، جس میں گزشتہ روز کی بارش کا گندا پانی بھرا ہوا تھا اور اس کے اردگرد کچرے کے لفافے بکھرے پڑے تھے۔
بلال کراہتے ہوئے اٹھا۔ اس کے گھٹنے میں تیز درد اٹھ رہا تھا۔ وہ غصے میں بڑبڑایا، "یہ کون بے وقوف ہے جو اس طرح راستے میں کچرا اور سامان پھینک دیتا ہے؟ کسی کو اتنی بھی عقل نہیں کہ یہ چلنے کی جگہ ہے؟” اس کا غصہ اس وقت اور بڑھ گیا جب اس نے دیکھا کہ اس کے نئے جوتے اور سفید شرٹ کیچڑ سے خراب ہو چکے تھے۔ وہ درد اور غصے کی کیفیت میں لنگڑاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ اس کا میچ کا سارا جوش جیسے کافور ہوچکا تھا۔
راستے میں اسے محلے کے انتہائی بزرگ و مخلص انسان، چاچا رحمت، ایک درخت کے سائے میں بیٹھے تسبیح پڑھتے ہوئے نظر آئے۔ چاچا رحمت نے جب بلال کی یہ حالت دیکھی کہ اس کے کپڑے کیچڑ سے لت پت ہیں اور چہرے پر درد و غصہ صاف عیاں ہے، تو وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھے اور اس کے پاس آئے۔
"ارے بلال بیٹا! یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ کیا ہوا؟” چاچا رحمت نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔
بلال نے غصے سے سسکی لیتے ہوئے کہا، "چاچا جان! پوچھیں مت۔ مین روڈ پر کسی نے جان بوجھ کر لکڑی کے تختے اور کچرا پھینک رکھا تھا، میں جلدی میں دیکھ نہیں پایا اور زوردار طریقے سے گر گیا۔ میرا گھٹنا زخمی ہوگیا اور میچ کا وقت بھی نکل رہا ہے۔ لوگوں کو ذرا بھی احساس نہیں کہ راستے کتنے خطرناک بنادیتے ہیں!”
چاچا رحمت نے پیار سے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اسے اپنے ساتھ بٹھایا، اپنے رومال سے اس کا زخم صاف کیا اور مسکرا کر بولے، "بیٹا، غصہ تو تمہارا جائز ہے، لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو۔ جو تکلیف تمہیں آج پہنچی ہے، کیا یہی تکلیف کل کسی معصوم بچے، کسی بوڑھے یا کسی نابینا شخص کو نہیں پہنچ سکتی تھی؟”
بلال نے حیرت سے چاچا کی طرف دیکھا۔ چاچا رحمت نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی اور پھر بلال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "بیٹا! اسلام نے ہمیں راستے کے حقوق (حقوق الطریق) کا جو درس دیا ہے، وہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع اور اہم ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، بلکہ یہ ایمان کا ایک بنیادی حصہ ہے۔”
بلال نے درد کو بھول کر پوچھا، "چاچا جان! راستے کے بھی کوئی خاص حقوق ہوتے ہیں؟”
چاچا رحمت کی آنکھوں میں چمک آگئی اور انہوں نے بڑی شفقت سے سمجھانا شروع کیا: "ہاں بیٹا! ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، ہم وہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہاں بیٹھنا ہی ہے تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر جھکانا، کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔”
چاچا رحمت نے مزید گہری بات کہی: "اور ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ راستے سے کانٹا، پتھر یا کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کی شاخوں میں سے ہے۔ سوچو بیٹا! جب تم گرے تو تمہیں تکلیف ہوئی، لیکن اگر تم اسی راستے کو ویسا ہی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے، تو تمہارے بعد کتنے ہی لوگ اس کی وجہ سے گریں گے یا اس کچرے سے تکلیف اٹھائیں گے؟ کیا مسلمان کا یہ شیوہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے لیے راستے میں کانٹے بچھائے؟”
بلال کے اندر جیسے ایک دھماکا ہوا۔ اس کے دل میں جو غصہ تھا، وہ شرمندگی میں بدل گیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ خود بھی اکثر اسکول جاتے ہوئے کاپیوں کے فالتو صفحات پھاڑ کر گلی میں پھینک دیتا تھا یا کبھی کبھار کھیل کا سامان راستے میں چھوڑ دیتا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے آج اس کا یہ گرنا کوئی حادثہ نہیں بلکہ اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ایک ربانی اشارہ تھا۔
بلال نے چاچا رحمت کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے کہا، "چاچا! آپ نے بالکل سچ کہا۔ میں تو صرف اپنے میچ کے بارے میں سوچ رہا تھا، لیکن میں نے یہ نہیں سوچا کہ اس راستے سے تو کتنے ہی کمزور اور ناتواں لوگ گزرتے ہوں گے۔ آج اگر میں نے یہ راستہ صاف نہ کیا، تو شاید میرا ضمیر مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔”
چاچا رحمت کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے کہا، "یہی تو اصل جوانی ہے بیٹا! مومن وہ ہے جو خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ جاؤ، اپنا میچ بھی کھیلو، لیکن پہلے اپنے اس اخلاقی فریضے کو پورا کرو۔”
بلال نے عزم مصمم کے ساتھ سرہلایا۔ اس نے میچ کے لیے تاخیر کی پروا کیے بغیر قریبی دکان سے ایک جھاڑو اور بیلچہ ادھار لیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے محلے کے دو اور لڑکوں، علی اور زین، کو بھی آواز دے کر بلالیا جنہوں نے گزرتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے بلال کو اس حالت میں دیکھا تو پہلے تو وہ ہنسے، لیکن جب بلال نے انہیں راستے کے حقوق اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا، تو وہ بھی شرمندہ ہوگئے اور فوراً اس کے ساتھ کام میں جُت گئے۔
ان لڑکوں نے مل کر نہ صرف اس بھاری بوری اور تختوں کو اٹھا کر ایک محفوظ جگہ پر رکھا، بلکہ اس گڑھے کو مٹی اور ریت سے بھردیا تاکہ کوئی اور اس کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے اردگرد بکھرا ہوا کچرا اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالا۔ اس دوران بلال کے گھٹنے کا درد اب محسوس بھی نہیں ہورہا تھا، بلکہ اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اور اطمینان اتر رہا تھا جو دنیا کی کسی جیت سے بڑھ کر تھا۔
جب وہ صفائی مکمل کر کے فارغ ہوئے، تو سڑک بالکل صاف اور محفوظ ہوچکی تھی۔ وہاں سے گزرنے والے ایک ضعیف بزرگ نے جب ان نوجوانوں کو دیکھا، تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دل سے دعادی، "بیٹا! اللہ تعالیٰ تمہیں سدا سلامت رکھے، تم نے آج کتنے ہی لوگوں کو مصیبت سے بچالیا ہے۔”
اس دعا کو سن کر بلال کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ فٹ بال کے میدان میں گول کرنے سے کہیں زیادہ بڑی خوشی اور کامیابی آج اس نے سڑک کے اس گڑھے کو بھر کر حاصل کی ہے۔
جب بلال گھر لوٹا، تو اس کا چہرہ ایک انوکھی چمک سے روشن تھا۔ اگرچہ اس کا میچ تاخیر کی وجہ سے چھوٹ چکا تھا اور اس کی ٹیم ہار گئی تھی، لیکن بلال کے چہرے پر ذرا سا بھی ملال نہیں تھا۔ اس کی امی نے جب اسے دیکھا تو پوچھا، "بیٹا! میچ کیسا رہا؟ تم اتنی دیر سے کیوں آئے اور تمہارے کپڑے پھر گندے ہوگئے ہیں؟”
بلال نے مسکرا کر اپنی ماں کو گلے سے لگالیا اور کہا، "امی! آج میرا میچ تو چھوٹ گیا، لیکن میں نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا ہے۔ میں نے راستے کے حقوق کی اصل حقیقت جان لی ہے۔ آج میں نے گلی کا ایک کانٹا ہٹایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے اس چھوٹے سے عمل سے میرا رب مجھ سے راضی ہو گیا ہوگا۔”
اس کی ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے، انہوں نے اپنے بیٹے کو دعاؤں سے نوازا۔ اس دن کے بعد سے بلال صرف خود ہی راستے کے آداب کا خیال نہیں رکھتا تھا، بلکہ اپنے پورے محلے کے لیے ایک مثال بن گیا تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں اور راستے کی صفائی اور حفاظت دراصل بندے کے ایمان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔