دانیال جیلانی
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، مشکل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ہمارے ہزاروں شہریوں کو متاثر کیا بلکہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، فرنٹیئر کور، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے بے شمار افسران اور جوانوں نے بھی وطن کے امن و استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہیں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج جب ملک کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے تو قومی اتحاد، ریاستی اداروں پر اعتماد اور قانون کی بالادستی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جس عزم کا اظہار کیا، وہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کا یہ مؤقف کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم کریں گے، اس قومی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی اداروں اور عوام کے باہمی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی اہمیت اور جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس صوبے کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ بعض علاقوں میں بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے، لیکن ان واقعات کو پورے صوبے یا وہاں کے عوام کی نمائندگی قرار دینا درست نہیں۔ بلوچستان کے اکثریتی عوام امن، ترقی، تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے خواہاں ہیں، اور یہی وہ قوت ہے جو دہشت گردی کے بیانیے کو کمزور کرتی ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو روکنا ہے۔ ان آپریشنز کے دوران پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے غیر معمولی جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی قربانیوں کی بدولت پاکستان میں کئی برسوں کے دوران مجموعی سیکیورٹی صورت حال میں نمایاں بہتری بھی دیکھی گئی، اگرچہ چیلنج مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ دہشت گردی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور نفسیاتی چیلنج بھی ہے۔ اس کے اثرات تعلیم، سرمایہ کاری، کاروبار، سیاحت، صحت اور روزگار سمیت قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں امن قائم ہوتا ہے تو وہاں اسکول آباد ہوتے ہیں، اسپتال بہتر انداز میں کام کرتے ہیں، صنعت و تجارت کو فروغ ملتا ہے اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری میدان کی کامیابی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی کامیابی ہوتی ہے۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو شہداء کی عظیم قربانیاں ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ ان شہداء کے اہلِ خانہ نے بھی صبر، حوصلے اور استقامت کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جنہیں پوری قوم احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ قوم پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھے، ان کے خاندانوں کی عزت و تکریم کرے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی اقدامات کی حمایت کرے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر حکمرانی، انصاف کی فراہمی، تعلیم، نوجوانوں کے لیے روزگار، مقامی ترقیاتی منصوبے اور عوامی اعتماد بھی نہایت اہم ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے وسیع اور وسائل سے مالا مال صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولتوں اور عوامی شمولیت کو مزید مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ قومی اتحاد دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ جب قوم سیاسی، لسانی، مذہبی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے متحد ہوتی ہے تو دہشت گرد عناصر کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومی یکجہتی کے مواقع پر قوم نے بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کیا ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی پر بھی اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل میں برداشت، آئینی شعور، قومی ہم آہنگی اور ذمے دار شہری ہونے کا احساس پیدا کریں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، مگر تشدد، نفرت اور دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کا احترام کرے، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ اداروں تک پہنچائے اور قومی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفادات پر ترجیح دے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، لیکن اس کے باوجود ریاست اور عوام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج بھی ملک کے سرحدی علاقوں، حساس تنصیبات اور مختلف شہروں میں سیکیورٹی اہلکار دن رات اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ ان کی خدمات اور قربانیاں قومی تاریخ کا قابلِ احترام حصہ ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے اجتماعی ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کی قانونی اور آئینی کوششوں کی حمایت، قومی اتحاد کا فروغ، شہداء کی قربانیوں کا احترام اور عوامی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو پائیدار امن اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ اگر قوم متحد رہے، قانون کی بالادستی پر یقین رکھے اور امن کو اپنی مشترکہ ترجیح بنائے تو پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے چیلنج پر قابو پا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک زیادہ مستحکم، محفوظ اور خوشحال ریاست کے طور پر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔