جھوٹ کا دردناک انجام

وقاص بیگ

شہر کے ایک مصروف علاقے میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام حماد تھا۔ حماد ذہین تھا، بات کرنے میں چالاک تھا اور لوگوں کو قائل کرنے کا فن بخوبی جانتا تھا۔ مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی، وہ جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتا تھا۔ شروع میں اس کے جھوٹ چھوٹے تھے۔ کبھی کسی ملاقات سے بچنے کے لیے بہانہ، کبھی کام سے جان چھڑانے کے لیے کوئی کہانی۔ مگر وقت کے ساتھ یہ عادت اس کی شخصیت کا حصہ بن گئی۔ وہ سمجھنے لگا کہ دنیا میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو باتوں کو اپنے حق میں موڑ لے۔ نوکری کے دوران بھی اس نے یہی رویہ اپنایا۔ وہ اپنے باس کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹی رپورٹس بناتا، اپنی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا اور دوسروں کی محنت کو اپنے نام سے جوڑ دیتا۔ حیرت انگیز طور پر، کچھ عرصے کے لیے وہ کامیاب بھی نظر آنے لگا۔ اسے ترقی مل گئی، تنخواہ بڑھ گئی اور وہ دفتر میں ایک "مثالی ملازم” کے طور پر جانا جانے لگا۔ مگر یہ سب ایک دھوکہ تھا، ایسا دھوکا جو آہستہ آہستہ اس کے گرد جال بُن رہا تھا۔
ایک دن کمپنی میں ایک بڑا پروجیکٹ شروع ہوا جس کی نگرانی براہ راست ہیڈ آفس سے ہونی تھی۔ حماد کو اس پروجیکٹ کا لیڈ مقرر کیا گیا۔ یہ اس کے کیریئر کا سب سے بڑا موقع تھا۔ اس نے حسبِ عادت اپنے کام کو خوبصورت الفاظ میں پیش کیا، مگر اصل حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ٹیم کمزور تھی، کام ادھورا تھا اور بہت سی رپورٹس صرف کاغذی تھیں۔ لیکن حماد کو یقین تھا کہ وہ اپنی باتوں سے سب کچھ چھپا لے گا۔ ہیڈ آفس سے ایک سینئر آفیسر، مسٹر ریحان، معائنہ کے لیے آئے۔ وہ تجربہ کار تھے اور لوگوں کی باتوں سے زیادہ ان کے کام کو دیکھتے تھے۔ پہلے دن سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا۔ حماد نے خوبصورت پریزنٹیشن دی، اعداد و شمار پیش کیے اور اعتماد سے بات کی۔ لیکن مسٹر ریحان خاموشی سے سب نوٹ کرتے رہے۔
اگلے دن جب وہ فیلڈ وزٹ پر گئے تو اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ پروجیکٹ کی حالت انتہائی خراب تھی۔ رپورٹس اور زمینی حقیقت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ٹیم کے کئی ارکان نے بھی سچ بولنا شروع کردیا۔ حماد کی ساری عمارت ایک لمحے میں گرنے لگی۔ میٹنگ بلائی گئی۔ اس بار ماحول مختلف تھا۔ نہ تالیاں تھیں، نہ تعریفیں، صرف سوال تھے۔ "یہ رپورٹ کس بنیاد پر تیار کی گئی؟”، "یہ ڈیٹا کہاں سے آیا؟”، "اصل ذمے دار کون ہے؟”
حماد کے پاس جواب نہیں تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ جھوٹ صرف وقتی پردہ ڈالتا ہے، حقیقت کو نہیں بدلتا۔ مسٹر ریحان نے سخت مگر پرسکون لہجے میں کہا:
"تم نے لوگوں کو نہیں، خود کو دھوکا دیا ہے۔” یہ جملہ حماد کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا اور انکوائری شروع ہوگئی۔ مگر اصل سزا نوکری کا ختم ہونا نہیں تھا، اصل سزا وہ اعتماد تھا جو ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ وہ دن اس کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ کچھ ہفتے وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ دوستوں نے ساتھ چھوڑ دیا، گھر والوں کو شرمندگی ہوئی اور وہ خود اپنی نظروں میں گر چکا تھا۔ ہر رات اسے وہ جھوٹ یاد آتے جو وہ آسانی سے بول دیتا تھا اور ہر صبح ایک نیا افسوس اس کا انتظار کرتا تھا۔ ایک دن وہ شہر سے باہر ایک چھوٹے سے قصبے میں چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک چھوٹی ورکشاپ میں کام شروع کیا۔ یہ کام چھوٹا تھا، مگر سچا تھا۔ نہ کوئی جھوٹ، نہ کوئی بناوٹ۔
شروع میں اسے بہت مشکل ہوئی۔ وہ اب بھی کبھی کبھی باتوں کو گھمانے کی کوشش کرتا، مگر پھر خود کو روک لیتا۔ آہستہ آہستہ اس نے سچ بولنے کی عادت ڈالی، چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن اسی قصبے میں ایک چھوٹا سا بزنس پروجیکٹ شروع ہوا۔ لوگوں کو ایمان دار اور ذمے دار شخص کی ضرورت تھی۔ کسی نے حماد کا نام لیا۔ اس بار وہ پہلے والا حماد نہیں تھا۔ اس نے صاف صاف کہا: "میں کامل نہیں ہوں، مگر اب میں جھوٹ نہیں بولتا۔ اگر کوئی غلطی ہو تو میں اسے تسلیم کروں گا۔” یہی بات اس کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔
لوگوں نے اس پر اعتماد کیا اور آہستہ آہستہ وہ ایک چھوٹے مگر کامیاب منصوبے کا حصہ بن گیا۔ اس بار کامیابی جھوٹ پر نہیں بلکہ سچائی پر قائم تھی۔ ایک شام وہ اپنی ورکشاپ کے باہر بیٹھا تھا۔ سورج غروب ہورہا تھا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب وہ جھوٹ کے سہارے اونچائی پر تھا اور پھر ایک دن سب کچھ گر گیا تھا۔ اس نے خود سے کہا: "اگر میں پہلے سچ کا راستہ اپناتا، تو شاید گرنے کی نوبت نہ آتی۔” اور یہی اس کی سب سے بڑی سیکھ تھی۔
سچ دیر سے آئے، تو بھی اندھیروں کو ختم کردیتا ہے اور جھوٹ جلدی آئے، تو بھی آخرکار گر ہی جاتا ہے۔