وقاص بیگ
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گررہی تھیں۔ شہر کے ایک چھوٹے سے محلے میں 45 سالہ عثمان اپنے ٹوٹے ہوئے دروازے کے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پر تھکن، آنکھوں میں بے بسی اور دل میں سیکڑوں سوال تھے۔ ایک زمانہ تھا جب عثمان کی چھوٹی سی ورکشاپ خوب چلتی تھی۔ لوگ دُور دُور سے اس کے پاس کام کروانے آتے تھے، مگر وقت نے پلٹا کھایا۔ مہنگائی بڑھی، آرڈر کم ہوتے گئے، قرض بڑھتا گیا اور ایک دن ایسا آیا کہ ورکشاپ بند ہوگئی۔
گھر میں بیوی اور دو بچے تھے۔ اخراجات بڑھ رہے تھے مگر آمدن نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہر رات وہ یہی سوچتا… "شاید اب میری قسمت بدلنے والی نہیں۔” ایک دن محلے کی مسجد کے امام صاحب نے اسے بلایا اور کہا: "بیٹا، پہاڑی کے اُس پار ایک بزرگ رہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کسی کی قسمت نہیں بدلتے، لیکن سوچ بدل دیتے ہیں۔”
عثمان نے اگلی صبح ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ دو گھنٹے پیدل چلنے کے بعد وہ ایک چھوٹے سے کچے گھر کے سامنے پہنچا۔ سفید داڑھی والے بزرگ باہر بیٹھے پرندوں کو دانہ ڈال رہے تھے۔ عثمان نے سلام کیا اور اپنی پوری کہانی سنادی۔ بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر اندر گئے اور لکڑی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ لے آئے۔ ڈبہ کھولا تو اس میں دس پرانی چابیاں تھیں۔ بزرگ نے کہا… "اس کمرے کا دروازہ کھولو۔”
دروازے پر ایک پرانا سا تالا لگا تھا۔ عثمان نے پہلی چابی آزمائی۔ تالا نہ کھلا۔ دوسری… تیسری… چوتھی… پانچویں… چھٹی… ساتویں… آٹھویں… نویں… ہر بار ناکامی۔ اس نے مایوسی سے کہا… "بابا جی، یہ سب بے کار ہے۔” بزرگ نے مسکرا کر صرف اتنا کہا… "ایک چابی ابھی باقی ہے۔”
عثمان نے بے دلی سے آخری چابی اٹھائی۔ جیسے ہی چابی کو تالے میں ڈال کر گھمایا… کلک… دروازہ کھل گیا۔ اندر کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف ایک آئینہ رکھا تھا۔
عثمان حیران رہ گیا۔ "یہ کیا ہے؟” بزرگ بولے… "یہ تمہارا جواب ہے۔”
عثمان کچھ نہ سمجھا۔ بزرگ نے کہا… "دیکھو، اگر تم نویں چابی کے بعد ہار مان لیتے تو تم ہمیشہ یہی سمجھتے کہ کوئی بھی چابی کام نہیں کرتی۔” "حالانکہ کامیابی صرف ایک قدم دور تھی۔” پھر انہوں نے آئینے کی طرف اشارہ کیا۔ "یہ آئینہ اس لیے رکھا ہے تاکہ تم جان سکو کہ آخری چابی ہمیشہ انسان خود ہوتا ہے۔”
"قسمت نہیں بدلتی…” "سوچ بدلتی ہے…” "عادت بدلتی ہے…” "ہمت بدلتی ہے…” اور پھر زندگی بدل جاتی ہے۔ یہ الفاظ عثمان کے دل میں اتر گئے۔
وہ واپس آیا۔ پرانی ورکشاپ کھولنے کے بجائے اس نے لوگوں کے گھروں میں جاکر کام کرنا شروع کیا۔ شروع میں صرف ایک آرڈر ملا۔ پھر دو۔ پھر پانچ۔ ایک مہینے بعد اس کے پاس اتنا کام تھا کہ اسے دو مزدور رکھنے پڑے۔
6 ماہ بعد اس نے اپنی ورکشاپ دوبارہ کھول لی۔ ایک سال بعد اسی شہر میں اس کی تین شاخیں تھیں۔ ایک نوجوان نے اس سے پوچھا… "آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟”
عثمان مسکرایا اور اپنی جیب سے ایک پرانی زنگ آلود چابی نکالی۔ وہی آخری چابی۔
نوجوان حیران ہوا۔ "یہ؟” عثمان بولا… "یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ جب سب راستے بند لگیں… تب بھی ایک آخری کوشش باقی ہوتی ہے۔”
جب عثمان بوڑھا ہوگیا تو اس نے وہی چابی اپنے بیٹے کو دے دی۔ بیٹے نے پوچھا… "ابا، کیا یہ کسی خزانے کی چابی ہے؟”
عثمان نے جواب دیا… "ہاں… مگر خزانہ سونے کا نہیں…” "ہمت کا ہے۔” "یاد رکھنا…”
زندگی میں اکثر لوگ کامیابی سے صرف ایک کوشش پہلے ہار مان لیتے ہیں۔ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ اگلا قدم ہی منزل ہوسکتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی صرف اس وجہ سے نہ رکنا کہ آج کامیابی نہیں ملی۔ ممکن ہے… کل تمہاری آخری چابی تمہارا انتظار کر رہی ہو۔
آج کا سبق: کبھی بھی آخری کوشش سے پہلے ہار نہ مانیں۔ ناکامی صرف یہ بتاتی ہے کہ یہ راستہ نہیں، کوئی اور راستہ آزمائیں۔ مستقل مزاجی، ہمت اور اللہ پر بھروسہ وہ چابیاں ہیں جو بند دروازے بھی کھول دیتی ہیں۔ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے، لیکن آسانی تک پہنچنے کے لیے چلتے رہنا ضروری ہے۔