نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے بہتر حکمرانی

تحریر: رفاقت علی

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو اگر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ سمجھا جائے تو شاید اس کے اصل مقصد تک پہنچنا مشکل ہوجائے۔ یہ سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی آئندہ نسلیں کس انتظامی نقشے میں زندگی گزاریں گی؟ کیا ہم نصف صدی پہلے کے انتظامی ڈھانچے کو بڑھتی ہوئی آبادی، پھیلتے شہروں، بدلتی معیشت اور نئی نسل کی بڑھتی ضروریات کے ساتھ چلاتے رہیں گے یا انتظامیہ کو بھی وقت کے ساتھ تبدیل کریں گے؟
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ملک میں 30 ڈویژن، 136 اضلاع اور 591 تحصیلیں موجود ہیں۔ یہ اعداد صرف مردم شماری کی جدول نہیں، ایک بہت بڑا انتظامی سوال ہیں۔ آج پاکستان کا شہری پہلے کی نسبت زیادہ متحرک، زیادہ باخبر اور زیادہ سہولت طلب ہے۔ موبائل فون پر چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنے والا شہری جب ایک معمولی سرکاری کام کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگاتا ہے تو اسے ریاست کا نظام سست اور دُور محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے نئے انتظامی یونٹس کم کرسکتے ہیں۔ مگر نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر ہماری سیاسی اور عوامی بحث میں نسبتاً کم بات ہوتی ہے، معاشی نقشہ۔
پاکستان میں معاشی سرگرمیاں یکساں طور پر تقسیم نہیں۔ کچھ شہر صنعتی مراکز ہیں، کچھ زرعی منڈیاں، کچھ بندرگاہی اور تجارتی مراکز، کچھ معدنی وسائل کے علاقے اور کچھ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری مراکز۔ اگر انتظامی منصوبہ بندی ان معاشی حقیقتوں کے مطابق کی جائے تو ہر خطے کی مخصوص صلاحیت کو ترقی کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک زرعی خطے کی انتظامیہ کے لیے آب پاشی، زرعی تحقیق، کولڈ اسٹوریج، منڈیوں، فوڈ پروسیسنگ اور دیہی سڑکوں کی منصوبہ بندی مرکزی اہمیت رکھتی ہے جب کہ صنعتی شہر کے لیے بجلی، صنعتی زون، ہنرمند افرادی قوت، ٹرانسپورٹ اور برآمدی سہولت زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔ ایک ہی انتظامی فارمولا ہر خطے کی مختلف ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ اسی لیے نئے انتظامی یونٹس کو محض سیاسی سرحدوں کے بجائے معاشی اکائیوں کے طور پر بھی سوچنا ہوگا۔
دنیا بدل رہی ہے اور پاکستان کے اندر بھی شہر اپنا کردار بدل رہے ہیں۔ آج کا چھوٹا شہر کل کا بڑا تجارتی مرکز ہوسکتا ہے۔ آج کا ضلعی صدر مقام آنے والے برسوں میں صنعتی یا تعلیمی مرکز بن سکتا ہے۔ اگر انتظامی اختیار، انفرا اسٹرکچر اور منصوبہ بندی اس تبدیلی سے پہلے نہ پہنچے تو آبادی کے پھیلاؤ کے بعد مسائل کا علاج کہیں زیادہ مہنگا ہوجاتا ہے۔ پنجاب کے 16 درمیانے درجے کے شہروں میں عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کا تجربہ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شہری منصوبہ بندی، مالی انتظام، پانی، صفائی، سڑکوں اور بلدیاتی خدمات کو مقامی سطح پر بہتر منصوبہ بندی اور کارکردگی سے جوڑا جاسکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اس پروگرام سے 45 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو بہتر بلدیاتی خدمات سے فائدہ پہنچا۔ یہ تجربہ ایک اہم سبق دیتا ہے: انتظامی یونٹ بنانا کافی نہیں، اسے کام کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
اسی لیے نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ایک نیا اصول بھی طے ہونا چاہیے کہ جس علاقے کو انتظامی حیثیت دی جائے، اسے صرف نیا سیکریٹریٹ، نئی گاڑیاں اور نئے عہدے نہ دیے جائیں بلکہ واضح ترقیاتی اہداف دیے جائیں۔ مثلاً پانچ سال میں کتنے نئے روزگار پیدا ہوں گے؟ کتنے اسکول بہتر ہوں گے؟ کتنے مراکز صحت فعال ہوں گے؟ کتنے دیہات سڑک سے منسلک ہوں گے؟ پینے کے پانی کی فراہمی میں کتنا اضافہ ہوگا؟ مقامی محصولات کتنے بڑھیں گے؟ صنعتی اور زرعی پیداوار میں کیا اضافہ ہوگا؟
اگر ان سوالات کے قابلِ پیمائش جواب موجود ہوں تو انتظامی اصلاح محض دعویٰ نہیں بلکہ قابلِ جانچ پالیسی بن سکتی ہے۔ یہاں ایک اور اہم مسئلہ سامنے آتا ہے: نوجوان آبادی۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ عالمی بینک نے بھی حالیہ تجزیے میں نشان دہی کی ہے کہ پاکستان میں ہر سال قریباً 35 لاکھ افراد افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ روزگار کے مواقع کہاں پیدا ہوں گے؟ اگر تمام معاشی امکانات چند بڑے شہروں میں مرکوز رہیں گے تو اندرونِ ملک سے بڑے شہروں کی طرف ہجرت بڑھے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ بڑے شہر آبادی، ٹریفک، رہائش، پانی، کچرے اور روزگار کے دباؤ میں مزید گھرتے جائیں گے جب کہ چھوٹے اور درمیانے شہر اپنی انسانی صلاحیت سے محروم ہوتے جائیں گے۔ نئے انتظامی یونٹس اس رجحان کو متوازن کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر یونٹ کو اپنے مقامی معاشی امکانات کے مطابق ترقیاتی پالیسی دی جائے۔
ایک نیا انتظامی مرکز صرف سرکاری دفاتر کا مجموعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے یونیورسٹی، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، اسپتال، صنعتی یا زرعی تحقیق کا مرکز، جدید مارکیٹ، ڈیجیٹل سروسز اور کاروباری سہولتوں کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ یوں انتظامی اصلاح براہ راست معاشی اصلاح سے جڑ سکتی ہے۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو قدرتی آفات بھی ہیں۔ پاکستان سیلاب، خشک سالی، شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمی خطرات سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں فیصلوں کی رفتار زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں ضلعی اور مقامی اداروں کے پاس مناسب وسائل، ڈیٹا، ریسکیو صلاحیت اور ہنگامی منصوبہ بندی موجود ہو تو بحران کے وقت اوپر سے احکامات کا انتظار کم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے پانی، جنگلات، زراعت اور شہری پھیلاؤ کی مقامی سطح پر بہتر نگرانی بھی ممکن ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی شرط ہے: اختیار کے ساتھ پیسہ بھی آنا چاہیے۔
عالمی بینک کی 2026 کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے ذریعے ہونے والے مجموعی سرکاری اخراجات کا حصہ 2005 کے تقریباً 10 فیصد سے کم ہوکر 2024 میں 5 فیصد سے بھی نیچے آگیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق اضلاع میں وسائل کی تقسیم اب بھی بڑی حد تک تاریخی بنیادوں پر ہوتی ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کو زیادہ قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ یہ نکتہ نئے انتظامی یونٹس کی پوری بحث کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر نیا یونٹ بن جائے لیکن بجٹ، اختیارات اور فیصلہ سازی بدستور چند مراکز میں قید رہیں تو شہری کو نئے نقشے کے باوجود پرانا نظام ہی ملے گا۔ لہٰذا نئے انتظامی یونٹس کے لیے ایک جامع مالیاتی فارمولا ضروری ہے۔ آبادی کے ساتھ غربت، پس ماندگی، رقبہ، انفرا اسٹرکچر کا خلا، شہری پھیلاؤ اور آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی وسائل کی تقسیم میں شامل کیا جائے۔ جو یونٹ بہتر محصولات جمع کرے، شفافیت دکھائے اور بہتر خدمات فراہم کرے اسے کارکردگی کی بنیاد پر اضافی وسائل دیے جائیں۔ یہ نظام مقابلے کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
اگر ایک انتظامی یونٹ یہ ثابت کرے کہ اس نے پانچ سال میں اسکولوں کی حالت بہتر کی، کاروبار آسان بنایا، ٹیکس وصولی بڑھائی اور صحت کی سہولتیں بہتر کیں تو دوسرے یونٹس کے لیے بھی ایک عملی مثال سامنے آسکتی ہے۔ پاکستان کو شاید آج اسی قسم کے انتظامی مقابلے کی ضرورت ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کسی زبان، نسل، جماعت یا علاقے کے خلاف منصوبہ نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا بنیادی مقصد شہری کو ریاست کے قریب لانا، وسائل کو ضرورت کے مطابق تقسیم کرنا اور ترقی کو چند بڑے مراکز تک محدود رہنے سے روکنا ہونا چاہیے۔
اس معاملے میں آئینی طریقہ کار اور متعلقہ علاقوں کی مشاورت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس خود ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو صوبوں، ڈویژنوں، اضلاع اور تحصیلوں کی شکل میں بیان کرتا ہے، جس سے واضح ہے کہ انتظامی سطحوں کا تصور پہلے ہی ریاستی نظام کا حصہ ہے۔ لہٰذا بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ انتظامی یونٹس کا تصور نیا ہے یا پرانا۔ بحث یہ ہونی چاہیے کہ کیا موجودہ انتظامی بندوبست آنے والے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کے حق میں ٹھوس اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ اگر جواب نہیں میں ہے تو اصلاح کے راستے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہ نہیں ہوگا کہ کسی شہر کو نیا دارالحکومت یا نیا سیکریٹریٹ مل جائے گا۔ اصل فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ فیصلے کا مرکز شہری کے قریب آجائے، مقامی معیشت کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا موقع ملے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مراکز پیدا ہوں، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھے اور ریاستی وسائل وہاں پہنچیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کو صرف نئے نقشوں کی نہیں، نئے ترقیاتی مراکز کی ضرورت ہے۔ ہم اگر انتظامی یونٹس کی بحث کو سیاسی نعروں سے نکال کر آبادی، معیشت، روزگار، ماحولیات، شہری منصوبہ بندی، مالیاتی اختیار اور عوامی خدمات کے سوال سے جوڑ دیں تو یہی بحث پاکستان کی اگلی بڑی انتظامی اصلاح کا آغاز بن سکتی ہے۔ کیونکہ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جس کا مرکز بہت طاقتور ہو؛ مضبوط ریاست وہ ہے جہاں مرکز سے دور بیٹھا شہری بھی یہ محسوس کرے کہ ریاست اس کے دروازے تک موجود ہے۔