غلام مصطفیٰ
جمعۃ المبارک صرف ایک دن نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔ اس مبارک دن میں ایک مسلمان نمازِ جمعہ ادا کرتا ہے، درودِ پاک کی کثرت کرتا ہے، دعا مانگتا ہے اور اپنے دل کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک سوال ہم سب کو خود سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ہماری روزمرہ زندگی میں کوئی ایسی نیکی موجود ہے جو مسلسل ہمارے اعمال نامے کو روشن کررہی ہو؟
اسلام ہمیں صرف بڑی عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ یہی معمولی نظر آنے والے اعمال انسان کی شخصیت کو بدل دیتے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ہمیشہ مسکراکر لوگوں سے ملتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ یہ ایک ایسی نیکی ہے جس کے لیے نہ مال چاہیے، نہ طاقت اور نہ ہی کوئی خاص موقع۔ صرف خلوص اور اچھا اخلاق درکار ہوتا ہے۔ آج کے دور میں جب ہر شخص ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کا شکار ہے، ممکن ہے آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کے دل سے مایوسی کا بوجھ ہلکا کردے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ خلافت سنبھالنے کے بعد بھی وہ خاموشی سے ایک نابینا بوڑھی خاتون کے گھر جاتے، اس کے لیے پانی بھرتے، صفائی کرتے اور کھانے کا انتظام کرتے تھے۔ وہ خاتون یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کی خدمت کرنے والا شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کا انتقال ہوا تو وہ خاتون کہنے لگیں، "آج میرا خادم دنیا سے چلا گیا۔” یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل نیکی وہ ہے جس میں شہرت یا تعریف کی خواہش نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔
حضرت عمر بن خطابؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہیں کوئی بھوکا، بیمار یا پریشان تو نہیں۔ ایک رات انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہانڈی میں پانی ابال رہی تھی تاکہ بچے یہ سمجھ کر سوجائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ حضرت عمرؓ فوراً بیت المال گئے، اپنے کندھوں پر آٹے کی بوری اٹھائی اور خود اس گھر تک لے کر آئے۔ جب ایک ساتھی نے عرض کیا کہ بوری مجھے دے دیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا، "کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟” یہ احساسِ ذمے داری اور خدمتِ خلق کا وہ جذبہ تھا جس نے اسلامی معاشرے کو مضبوط بنایا۔
حضرت عثمان بن عفانؓ کی سخاوت بھی ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ مدینہ میں پانی کی قلت تھی۔ ایک کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا جو پانی فروخت کرتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے وہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا، تاکہ ہر شخص بلاقیمت پانی حاصل کرسکے۔ ایک چھوٹا سا فیصلہ ہزاروں لوگوں کے لیے آسانی اور صدقۂ جاریہ بن گیا۔
اسلامی تاریخ میں ایک اور خوبصورت واقعہ حضرت حسن بصریؒ سے منسوب ہے۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ دل کی سختی کیسے دور ہو؟ انہوں نے فرمایا: "یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو، بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو۔” یہ تینوں اعمال ایسے ہیں جن پر کوئی خرچ بھی زیادہ نہیں آتا، مگر ان کا اثر انسان کے دل، کردار اور آخرت پر بہت گہرا ہوتا ہے۔
آج ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ مال ہوگا تو ہم خیرات کریں گے، جب وقت ملے گا تو عبادت کریں گے، جب حالات بہتر ہوں گے تو نیکیاں شروع کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیکی کے لیے کسی خاص وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایک اچھا لفظ، کسی کو معاف کردینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادینا، والدین سے محبت سے بات کرنا، کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا، یا کسی دُکھی انسان کو تسلی دینا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم عمل ہوسکتا ہے۔
جمعۃ المبارک ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ جو نیکی آج کی جا سکتی ہے، اسے کل پر نہ چھوڑیں۔ معلوم نہیں اگلا جمعہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ اس لیے آج ہی یہ عہد کریں کہ ہم روزانہ کم از کم ایک ایسی نیکی ضرور کریں گے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہو۔ یہی چھوٹے چھوٹے اعمال وقت کے ساتھ ہمارے کردار کو سنوارتے اور آخرت کے لیے قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ عمل کی مقدار سے زیادہ اس کے اخلاص کو پسند فرماتا ہے۔ ممکن ہے ایک چھوٹی سی نیکی، ایک سچی مسکراہٹ، ایک خالص دعا، ایک معافی یا ایک پوشیدہ صدقہ ہماری نجات کا سبب بن جائے۔ اس جمعۃ المبارک پر اپنے دل میں یہ عہد تازہ کریں کہ ہم صرف بڑے مواقع پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر لمحے میں نیکی کو اپنا معمول بنائیں گے۔ یہی عادت دنیا میں سکون، معاشرے میں محبت اور آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔