سمندری سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت

غلام مصطفیٰ

پاکستان میں ساحلی سلامتی، اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز کا کردار گزشتہ چند برسوں میں نہایت اہم اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کی جانب سے حالیہ بیان اور پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے نہ صرف اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں بلکہ ملک کی معیشت اور سلامتی کو مضبوط بنانے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر مملکت نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ رواں سال اسمگلنگ میں 80 فیصد تک کمی ایک بڑی کامیابی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز اور دیگر متعلقہ اداروں کی مربوط حکمت عملی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ کمی نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ سمندری راستوں سے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر مؤثر کنٹرول حاصل کیا جارہا ہے۔
پاکستان کی طویل ساحلی پٹی ہمیشہ سے چیلنجز کا مرکز رہی ہے، جہاں غیر قانونی تجارت، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے خطرناک جرائم سر اٹھاتے رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی موجودگی ایک مضبوط دفاعی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیر مملکت کے مطابق اس ادارے کے 23 جوانوں نے ملک کی ساحلی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو ان کی قربانیوں اور فرض شناسی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ قربانیاں اس بات کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ پاکستان کے محافظ ہر سطح پر اپنی ذمے داریوں کو قومی جذبے کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں نئے ریکروٹس کی شمولیت اس ادارے کی مسلسل مضبوطی اور توسیع کی علامت ہے۔ تربیت مکمل کرنے والے جوان اب اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ ساحلی علاقوں میں نگرانی، گشت اور انسداد اسمگلنگ کی کارروائیوں میں فعال کردار ادا کریں۔ ان کی تربیت نہ صرف جسمانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارتی ہے بلکہ ان میں قومی خدمت کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہے۔
وزیر مملکت نے منشیات کی روک تھام کو ایک قومی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز اس حوالے سے بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ نہ صرف نوجوان نسل کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ معاشرتی برائیوں میں اضافے کا بھی سبب بنتی ہے۔ اس لیے اس کے خلاف سخت کارروائیاں ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔
اسی طرح غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام بھی پاکستان کوسٹ گارڈز کی اہم ذمے داریوں میں شامل ہے۔ سمندری راستوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی نقل و حمل کو کنٹرول کرنا نہ صرف ملکی قوانین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ذمے دار ریاست کے طور پر ساکھ کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی قابل تحسین ہیں۔ سمندری وسائل کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا تحفظ مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری اور سمندری آلودگی کی روک تھام میں اس ادارے کا کردار ماحولیات کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان کوسٹ گارڈز کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ریاست اپنے محافظوں کی بہتری اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر تربیت اور وسائل کی فراہمی سے اس ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز ملک کی ساحلی سلامتی کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ مستقبل میں بھی ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ ریاستی اداروں کی یہ ہم آہنگی ہی وہ طاقت ہے جو پاکستان کو ہر قسم کے خطرات کے خلاف مضبوط بناتی ہے۔