کراچی: سندھ میں 31 جولائی سے 2 اگست تک بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے سندھ کے مختلف اضلاع میں 31 جولائی سے 2 اگست تک بارش اور گرج چمک کی پیش گوئی کی ہے جب کہ ملک کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور موبائل ہیلتھ سروسز کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مون سون 2026 کے دوران ممکنہ بارشوں، سیلابی خطرات، ہنگامی منصوبہ بندی اور امدادی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تھرپارکر، بدین اور میرپورخاص ڈویژن میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہوگا، جس کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
گیانچند ایسرانی نے کہا کہ پی ڈی ایم اے 14 ہزار متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کیمپس، خوراک اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو پی ڈی ایم اے سے منسلک رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 نے اجلاس کو بتایا کہ ممکنہ اربن فلڈنگ اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ادارہ مکمل طور پر تیار ہے جب کہ موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں طبی سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد، شمال مشرقی پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے جب کہ ڈی جی خان اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ہے۔