عبدالعزیز بلوچ
شہر کے ایک پرانے محلے میں اکبر نام کا نوجوان رہتا تھا۔ وہ محنتی تھا، خواب دیکھتا تھا اور اپنی زندگی بدلنے کے لیے دن رات کوشش کرتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا، مگر کئی مہینوں سے حالات خراب تھے۔ کبھی مال خراب ہوجاتا، کبھی گاہک ادھار لے کر غائب ہوجاتا اور کبھی اچانک کوئی ایسا خرچ سامنے آجاتا کہ اکبر کی ساری جمع پونجی ختم ہوجاتی۔ ایک دن اس نے غصے میں دکان کا شٹر بند کیا اور سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا: "یااللہ! میں نے کیا غلط کیا ہے؟ میں محنت بھی کرتا ہوں، کسی کا حق بھی نہیں مارتا، پھر میری زندگی میں آسانی کیوں نہیں آتی؟”
اسی وقت ایک بوڑھا شخص اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ وہ محلے کی مسجد کا پرانا خادم تھا۔ اس نے اکبر کو دیکھا اور خاموشی سے کہا: "بیٹا! کبھی سوچا ہے کہ شاید تم جس چیز کو سزا سمجھ رہے ہو، وہ دراصل اللہ کی طرف سے تربیت ہو؟” اکبر نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "تربیت؟ اتنی مشکلات بھی کوئی تربیت ہوتی ہیں؟”
بوڑھے نے مسکرا کر کہا: "ہاں! لوہا آگ میں جاتا ہے تو جلتا ضرور ہے، مگر اسی آگ سے گزر کر مضبوط بھی بنتا ہے۔”
اکبر خاموش ہوگیا۔ بوڑھے نے کہا: "ایک بات یاد رکھو، بیٹا۔ اللہ کبھی کبھی تمہیں وہ نہیں دیتا جو تم مانگ رہے ہوتے ہو، کیونکہ وہ تمہیں وہ دینے کی تیاری کررہا ہوتا ہے جس کا تم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔”
یہ جملہ اکبر کے دل میں اتر گیا۔ اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی مشکلات سے لڑے گا، مگر شکایت کم کرے گا۔ اس نے دکان دوبارہ کھولی۔ پہلے دن کوئی گاہک نہیں آیا۔ دوسرے دن بھی نہیں۔ تیسرے دن صرف ایک شخص آیا اور معمولی سا سامان خرید کر چلا گیا۔ اکبر نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ "یااللہ! کم ہے، لیکن تیرا دیا ہوا ہے۔ الحمدللہ۔”
دن گزرتے گئے۔ اکبر نے ایک نئی عادت بنالی۔ ہر رات سونے سے پہلے وہ تین چیزیں لکھتا: آج اللہ نے مجھے کیا دیا؟ آج میں نے کیا سیکھا؟ اور کل مجھے کیا بہتر کرنا ہے؟
کچھ ہفتوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کی سوچ بدل رہی ہے۔ پہلے وہ نقصان کو اختتام سمجھتا تھا، اب اسے سبق سمجھنے لگا تھا۔ پہلے ناکامی پر خود کو بدقسمت کہتا تھا، اب کہتا: "شاید اللہ مجھے کسی بہتر راستے کی طرف موڑ رہا ہے۔” پھر ایک دن اس کے پاس ایک بڑا تاجر آیا۔ اس نے اکبر کا کام دیکھا اور کہا: "میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم ایمان داری سے کام کرو تو ہم مل کر کاروبار بڑھاسکتے ہیں۔”
اکبر کو یقین نہیں آیا۔ جس شخص کو چند ماہ پہلے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی ختم ہوگئی ہے، آج اس کے سامنے ایک نیا راستہ کھڑا تھا۔ مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ تاجر نے کہا: "تمہیں بہت بڑا منافع مل سکتا ہے، لیکن ایک شرط ہے۔ کچھ حساب کتاب ایسا بنانا ہوگا جس سے ٹیکس کم ہوجائے گا۔”
اکبر چند لمحے خاموش رہا۔ اسے اپنی پرانی مشکلات یاد آئیں۔ اسے گھر کے اخراجات یاد آئے۔ اسے وہ قرض یاد آیا جو ابھی باقی تھا۔ دل نے کہا: "موقع ہاتھ سے مت جانے دو!” مگر ضمیر نے کہا: "رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حرام راستہ اختیار کرکے حلال منزل نہیں مل سکتی۔”
اکبر نے تاجر سے کہا: "معاف کیجیے گا، میں یہ کام نہیں کرسکتا۔” تاجر ناراض ہوگیا۔ موقع ختم ہوگیا۔ اکبر دوبارہ خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ اس رات وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے جائے نماز بچھائی اور سجدے میں چلا گیا۔ کافی دیر تک کچھ نہیں بولا۔ پھر صرف اتنا کہا: "یا اللہ! آج میں نے تیرے لیے ایک موقع چھوڑا ہے، اب تو میرے لیے ایسا دروازہ کھول دے جہاں میری عزت بھی محفوظ ہو اور میرا رزق بھی۔”
چند دن بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ وہی بوڑھا مسجد کا خادم اکبر کی دکان پر آیا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا۔ اس نے کہا: "یہ میرا بھانجا ہے۔ اسے تمہارے جیسے ایمان دار آدمی کی ضرورت ہے۔ اس کا کاروبار بڑھ رہا ہے اور اسے شریکِ کار چاہیے۔”
اکبر نے حیرت سے پوچھا: "آپ کو میرے بارے میں کیسے معلوم؟” بوڑھا مسکرایا: "بیٹا، تم سمجھتے ہو تمہاری ایمان داری کسی نے نہیں دیکھی؟” پھر اس نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "زمین پر لوگ نہ دیکھیں، اوپر والا دیکھ رہا ہوتا ہے۔” اکبر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اسے اچانک اپنی ساری پرانی مشکلات سمجھ آنے لگیں۔ وہ نقصان جنہیں وہ تباہی سمجھتا تھا۔۔۔ وہ اسے غلط راستے سے بچا رہے تھے۔ وہ تاخیر جسے وہ بدقسمتی سمجھتا تھا۔۔۔ وہ اسے صحیح وقت کے لیے تیار کررہی تھی۔ اور وہ موقع جو اس نے چھوڑ دیا تھا۔۔۔ وہ شاید اس کے ایمان کا امتحان تھا۔
چند سال بعد اکبر ایک کامیاب کاروباری شخص بن چکا تھا۔ مگر اس نے اپنی دکان کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی تختی لگا رکھی تھی، جس پر لکھا تھا: "رزق کے لیے محنت کرو، مگر رزق دینے والے کو نہ بھولو۔ دروازے بند ہوں تو مایوس نہ ہونا، ممکن ہے اللہ تمہیں اپنے دروازے کی طرف بلا رہا ہو۔”
اکبر اکثر نوجوانوں سے کہتا: "زندگی میں ہر ناکامی کے فوراً بعد یہ مت پوچھو کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ کبھی یہ بھی پوچھو کہ اللہ مجھے اس واقعے سے کیا سکھانا چاہتا ہے؟” کیونکہ کبھی کبھی ہماری سب سے بڑی شکست۔۔۔ ہماری سب سے بڑی کامیابی کی ابتدا ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اللہ ہمیں ایک راستے سے اس لیے ہٹاتا ہے کہ آگے خطرہ ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی وہ ہمیں انتظار اس لیے کرواتا ہے کہ جو چیز ہمارے لیے آرہی ہوتی ہے۔۔۔ وہ ہماری خواہش سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔
اس لیے اگر آج آپ کی زندگی میں مشکلات ہیں۔۔۔ کاروبار میں نقصان ہے۔۔۔ ملازمت میں ناکامی ہے۔۔۔ لوگ آپ کو چھوڑ رہے ہیں۔۔۔ یا آپ کو لگتا ہے کہ دعائیں قبول نہیں ہورہیں۔۔۔ تو ایک لمحے کے لیے رکیں۔ سانس لیں۔ اور اپنے رب سے کہیں: "یااللہ! میں نہیں جانتا کہ میرے لیے کیا بہتر ہے، لیکن تُو جانتا ہے۔ مجھے وہ راستہ دے جس میں تیری رضا ہو۔”
یاد رکھیں۔۔۔ اللہ کی طرف سے آنے والی تاخیر، اللہ کی طرف سے انکار نہیں ہوتی۔ بس محنت جاری رکھیں۔۔۔ دعا جاری رکھیں۔۔۔ حلال راستہ نہ چھوڑیں۔۔۔ اور اللہ سے امید کبھی نہ توڑیں۔ کیونکہ جس رب نے اندھیری رات کے بعد صبح رکھی ہے۔۔۔
وہ آپ کی زندگی کی رات کے بعد بھی ایک خوبصورت صبح ضرور رکھتا ہے۔