حسان احمد
شہر کے معروف نجی ادارے میں نعمان نام کا ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا۔ ملازمت اسے اچھی سفارش سے ملی تھی، تنخواہ بھی معقول تھی اور دفتر کا ماحول بھی بہترین تھا، لیکن نعمان کی ایک عادت ایسی تھی جس نے آہستہ آہستہ اس کی ساکھ کو خراب کرنا شروع کردیا۔ وہ حد درجے کا کام چور تھا۔ نعمان روزانہ دفتر وقت پر تو پہنچ جاتا، مگر اس کا زیادہ وقت چائے، موبائل فون، سوشل میڈیا، غیر ضروری گفتگو اور بہانوں میں گزرتا۔ جب بھی کوئی اہم کام آتا تو وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اسے اپنے ساتھیوں کے سپرد کردیتا۔ کبھی کہتا، "یار! آج طبیعت ٹھیک نہیں، ذرا یہ فائل تم مکمل کردو۔” کبھی بولتا، "مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے، تم یہ رپورٹ بھیج دو۔” شروع شروع میں اس کے ساتھی انسانی ہمدردی کے تحت اس کا کام کردیتے، لیکن وقت کے ساتھ یہ ہمدردی مجبوری میں بدل گئی۔ نعمان اپنی ذمے داریاں دوسروں پر ڈال کر خود آرام کرتا جب کہ اس کے ساتھی اپنے کام کے ساتھ اس کا بوجھ بھی اٹھاتے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ مہینے کے آخر میں تنخواہ ملتے ہی نعمان سب سے پہلے اکاؤنٹس سیکشن پہنچ جاتا۔ اگر تنخواہ ایک دن بھی تاخیر سے ملتی تو وہ سب سے زیادہ شور مچاتا۔ وہ ہمیشہ کہتا، "میں نے پورا مہینہ کام کیا ہے، میری تنخواہ وقت پر ملنی چاہیے۔” یہ سن کر اس کے ساتھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے اور دل ہی دل میں افسوس کرتے کہ جس شخص کا آدھا سے زیادہ کام انہوں نے کیا ہو، وہ خود کو سب سے زیادہ محنتی سمجھ رہا ہے۔ ادارے کے منیجر، سلیم صاحب، ایک نہایت سمجھ دار اور تجربہ کار انسان تھے۔ وہ کئی ہفتوں سے خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کبھی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بعض لوگ ڈانٹ سے نہیں بلکہ تجربے سے سیکھتے ہیں۔
ایک دن کمپنی کو ایک نہایت اہم منصوبہ ملا۔ منیجر نے اعلان کیا کہ اس منصوبے کی کامیابی پر بہترین کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو خصوصی بونس، ترقی اور اعزازی اسناد دی جائیں گی۔ ہر ملازم پوری محنت سے اپنے حصے کا کام کرنے لگا، مگر نعمان حسبِ عادت اپنی ذمے داریاں دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس بار اس کے ساتھیوں نے ادب سے معذرت کرلی۔ ایک ساتھی نے مسکراتے ہوئے کہا، "نعمان بھائی! آج ہر کسی کے پاس اپنا کام بہت زیادہ ہے، اس لیے آپ کو اپنا حصہ خود ہی مکمل کرنا ہوگا۔” یہ سن کر نعمان پریشان تو ہوا، مگر اس نے پھر بھی کام سنجیدگی سے نہ لیا۔ اسے یقین تھا کہ آخر میں کوئی نہ کوئی اس کی مدد کر ہی دے گا۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔ منصوبہ مکمل ہونے کا دن آیا تو تمام ملازمین نے اپنی رپورٹس بروقت جمع کرادیں، سوائے نعمان کے۔ اس کی فائل نامکمل تھی، اعداد و شمار غلط تھے اور کئی ضروری دستاویزات موجود ہی نہیں تھیں۔
جب اجلاس میں تمام رپورٹس پیش کی گئیں تو منیجر نے سب کے کام کی تعریف کی، لیکن نعمان کی باری آئی تو خاموشی چھا گئی۔ سلیم صاحب نے نرمی سے پوچھا،
"نعمان! یہ رپورٹ اتنی ناقص کیوں ہے؟” نعمان نے حسبِ عادت کئی بہانے بنائے۔
"سر! وقت کم تھا۔” "سر! کمپیوٹر خراب ہوگیا تھا۔” "سر! مجھے مکمل معلومات نہیں ملی تھیں۔”
منیجر نے میز کی دراز سے ایک فائل نکالی۔ اس میں گزشتہ کئی مہینوں کی کارکردگی کا مکمل ریکارڈ موجود تھا۔ انہوں نے سکون سے کہا، "نعمان، یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ پچھلے 6 ماہ سے تمہارا زیادہ تر کام دوسرے ملازمین مکمل کررہے ہیں۔ ہمارے پاس ہر رپورٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔ ہم سب کچھ دیکھتے رہے، کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ تم خود اپنی غلطی محسوس کرو۔” پھر انہوں نے نعمان کے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ اپنا کام بھی کرتے رہے اور تمہارا بھی۔ مگر تنخواہ اور تعریف دونوں تم برابر چاہتے رہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟”
یہ الفاظ نعمان کے دل پر تیر کی طرح لگے۔ اسی وقت منیجر نے اعلان کیا کہ اس منصوبے کا بونس صرف ان ملازمین کو ملے گا جنہوں نے حقیقت میں محنت کی ہے۔ تمام ساتھیوں کے نام پکارے گئے، مگر نعمان کا نام شامل نہ تھا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب اسے اپنی سستی کی حقیقی قیمت چکانا پڑی تھی۔ دفتر سے واپسی پر وہ خاموش تھا۔ پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا کہ وہ صرف دوسروں پر بوجھ نہیں تھا بلکہ اپنی عزت بھی کھورہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ جب وہ تنخواہ کے لیے سب سے زیادہ آواز بلند کرتا تھا تو اس کے ساتھی خاموش کیوں ہوجاتے تھے۔ اس رات اسے نیند نہ آئی۔ اس نے سوچا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو ایک دن شاید ملازمت بھی ہاتھ سے نکل جائے گی اور سب سے بڑھ کر لوگ اس پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔
اگلی صبح دفتر میں ایک مختلف نعمان آیا۔ وہ وقت سے پہلے پہنچا، اپنی میز صاف کی، تمام فائلیں ترتیب دیں اور بغیر کسی کے کہے اپنا کام شروع کردیا۔ ساتھی حیران تھے۔ کچھ دنوں تک سب نے سمجھا کہ شاید یہ تبدیلی عارضی ہے، لیکن ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور نعمان اپنی نئی عادت پر قائم رہا۔ اب اگر کسی ساتھی پر کام کا زیادہ بوجھ ہوتا تو نعمان خود آگے بڑھ کر کہتا، "آج آپ آرام سے اپنا ضروری کام مکمل کریں، باقی میں دیکھ لیتا ہوں۔” وہ پہلے سے زیادہ محنت کرنے لگا، ہر ذمے داری وقت پر پوری کرتا اور غلطی ہونے پر بہانہ بنانے کے بجائے اسے تسلیم کرکے درست کرتا۔
چند ماہ بعد کمپنی کو ایک اور اہم منصوبہ ملا۔ اس بار نعمان نے اپنی پوری صلاحیت، دیانت داری اور محنت سے کام کیا۔ اس کی رپورٹ نہ صرف وقت پر مکمل ہوئی بلکہ معیار کے لحاظ سے بھی بہترین ثابت ہوئی۔ سالانہ تقریب میں جب بہترین ملازمین کے ناموں کا اعلان ہوا تو اس بار نعمان کا نام بھی شامل تھا۔ اسٹیج پر جاتے ہوئے اس کی آنکھیں نم تھیں۔ اعزازی سند وصول کرنے کے بعد اس نے مختصر خطاب میں کہا،
"میں سمجھتا تھا کہ صرف تنخواہ لینا میرا حق ہے، لیکن میں یہ بھول گیا تھا کہ حق کے ساتھ فرض بھی ہوتا ہے۔ میں نے دوسروں پر اپنا بوجھ ڈال کر خود کو نقصان پہنچایا۔ آج جو عزت مجھے ملی ہے، وہ صرف محنت، دیانت داری اور ذمے داری کی وجہ سے ملی ہے۔” ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس دن کے بعد نعمان صرف ایک اچھا ملازم ہی نہیں بلکہ نئے آنے والوں کے لیے ایک مثال بھی بن گیا۔ وہ ہمیشہ انہیں یہی نصیحت کرتا تھا کہ رزق صرف تنخواہ کا نام نہیں بلکہ اس میں برکت، عزت اور لوگوں کا اعتماد بھی شامل ہوتا ہے اور یہ سب صرف ایمان داری، محنت اور ذمے داری سے حاصل ہوتا ہے۔
سبق: کام چوری وقتی طور پر آسان ضرور محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ انسان کی عزت، اعتماد اور ترقی کے راستے بند کردیتی ہے۔ جو شخص اپنی ذمے داری ایمان داری سے ادا کرتا ہے، وہ دیر سے سہی مگر ضرور کامیاب ہوتا ہے جب کہ دوسروں کے سہارے جینے والا ایک نہ ایک دن اپنی کوتاہی کی قیمت ضرور چُکاتا ہے۔