غلام مصطفیٰ
شہر کے ایک پرانے حصے میں سہیل نام کا خاموش مزاج آدمی رہتا تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر حساب کتاب لکھنے کا کام کرتا تھا۔ آمدن زیادہ نہیں تھی مگر اس کی ایک عادت ایسی تھی جس سے محلے کے لوگ واقف تھے۔ وہ ہر جمعے کو اپنی جیب میں سے کچھ رقم نکالتا، ایک سفید لفافے میں ڈالتا اور مسجد کے باہر رکھے صدقے کے ڈبے میں ڈال دیتا۔ کسی نے کبھی نہیں پوچھا کہ لفافے میں کتنے پیسے ہوتے ہیں اور سہیل نے کبھی کسی کو نہیں بتایا۔
ایک دن دکان بند کرکے وہ گھر واپس جارہا تھا کہ اسے سڑک کے کنارے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا نظر آیا۔ بوڑھے کے ہاتھ میں ایک پرانی فائل تھی اور آنکھوں میں عجیب سی بے بسی۔ سہیل نے قریب جاکر پوچھا، "بابا جی! خیریت ہے؟”
بوڑھے نے سر اٹھایا اور دھیمی آواز میں کہا، "بیٹا، اسپتال سے واپس آرہا ہوں۔ بیٹی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر نے دوا لکھی ہے، مگر میرے پاس پیسے نہیں۔”
سہیل نے جیب ٹٹولی۔ اس کے پاس صرف اتنے پیسے تھے جن سے وہ گھر کے لیے راشن خریدنے والا تھا۔ وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اسے اپنی بیوی مہرین کی بات یاد آئی، "سہیل، آج آٹا ختم ہے، واپسی پر ضرور لے آنا۔”
اس نے دوبارہ بوڑھے کی طرف دیکھا۔ بوڑھے نے نظریں جھکا لیں۔ "بیٹا، رہنے دو۔ اللہ کسی اور ذریعے کا انتظام کردے گا۔” سہیل نے جیب سے تمام رقم نکالی اور بوڑھے کے ہاتھ پر رکھ دی۔ بوڑھا حیران رہ گیا۔
"لیکن بیٹا، تمہارے اپنے گھر کا کیا ہوگا؟” سہیل مسکرایا۔ "بابا جی، رزق میں اور میرے اللہ میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا۔ دونوں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔”
بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ دعا دیتا ہوا چلا گیا۔ سہیل گھر پہنچا تو مہرین دروازے پر کھڑی تھی۔ "راشن لے آئے؟”
سہیل کچھ نہ بول سکا۔ مہرین نے اس کی خالی جیب دیکھی اور سب سمجھ گئی۔ وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی، "آپ نے پھر کسی کی مدد کردی؟”
سہیل نے نظریں جھکالیں۔ مہرین نے گہری سانس لی اور کہا، "اللہ نے دیا ہے تو اللہ ہی کے کسی بندے پر خرچ ہوا ہے۔ آج ہم گزارا کر ہی لیں گے۔”
سہیل نے حیرت سے اسے دیکھا۔ مہرین مسکرائی۔ "رزق صرف پیسے کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی صبر بھی رزق ہوتا ہے۔” اس رات دونوں نے واقعی سادہ سا کھانا کھایا۔ سہیل دیر تک جاگتا رہا۔ اس کے دل میں ایک سوال تھا۔ کیا اس کی معمولی سی مدد واقعی کسی کام آئے گی؟
چند دن گزر گئے۔ اچانک سہیل مالی پریشانیوں میں گِھر گیا، لیکن شکر گزاری اور رب کا دامن ہرگز نہیں چھوڑا۔ ایک صبح سہیل کی دکان پر ایک نوجوان آیا۔ اس نے پوچھا، "آپ سہیل صاحب ہیں؟”
"جی۔”
نوجوان نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا۔ "یہ آپ کے لیے ہے۔” سہیل نے حیرت سے پوچھا، "کس کی طرف سے؟”
نوجوان نے کہا، "میرے والد کی طرف سے۔”
سہیل کا دل دھک سے رہ گیا۔ "کون سے والد؟”
نوجوان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ "وہی بوڑھے جنہیں آپ نے سڑک پر پیسے دیے تھے۔” سہیل خاموش ہوگیا۔
نوجوان نے بتایا کہ اس کی بہن کی دوا وقت پر مل گئی تھی۔ چند دن بعد اس کی حالت بہتر ہوگئی، لیکن اس کے والد بار بار ایک ہی بات کہتے رہے، "جس آدمی نے اپنے گھر کا راشن چھوڑ کر میری بیٹی کی دوا خریدی، اللہ اسے کبھی محتاج نہ کرے۔”
نوجوان نے لفافہ آگے بڑھایا۔ "ابو نے اپنی جمع پونجی میں سے یہ رقم بھیجی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ احسان کا بدلہ نہیں، بس آپ کی امانت ہے۔”
سہیل نے لفافہ کھولا۔ اندر اتنی رقم تھی کہ اس کے کئی مہینوں کے گھریلو اخراجات پورے ہوسکتے تھے۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اسی شام دکان کا مالک سہیل کے پاس آیا۔ اس نے کہا، "سہیل، میں نے تمہیں کئی سال کام کرتے دیکھا ہے۔ تم ایمان دار ہو۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دکان کا سارا نظام اب تم سنبھالو گے اور تمہاری تنخواہ بھی دوگنی ہوگی۔”
سہیل کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مالک نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "اور ہاں، ایک بات پوچھنی ہے۔”
"جی؟”
"تم ہر جمعہ مسجد کے صدقے کے ڈبے میں لفافہ ڈالتے ہو، وہ کس کے نام ہوتا ہے؟”
سہیل مسکرایا۔ "کسی کے نام نہیں۔”
مالک نے پوچھا، "پھر کیوں ڈالتے ہو؟”
سہیل نے آہستہ سے جواب دیا، "کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اللہ کے درمیان کچھ ایسا ضرور ہو جس کا علم کسی تیسرے شخص کو نہ ہو۔”
مالک خاموش ہوگیا۔ کچھ دن بعد سہیل کو معلوم ہوا کہ مسجد کے امام صاحب نے اس کے ان لفافوں سے کئی غریب خاندانوں کی مدد کی تھی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اسے اچانک قرآن کی وہ تعلیم یاد آئی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال ضائع نہیں ہوتا۔
اس رات اس نے مہرین سے کہا، "میں آج سمجھا ہوں کہ نیکی کا حساب انسان نہیں رکھتا، اللہ رکھتا ہے۔”
مہرین نے مسکرا کر کہا، "اور شاید اسی لیے نیکی کا اصل صلہ وہاں سے آتا ہے جہاں انسان نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔”
سہیل نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے زندگی اسے ایک راز سمجھا رہی ہو۔ کسی کی مدد کرتے وقت یہ مت دیکھو کہ تمہارے پاس کتنا ہے۔ یہ دیکھو کہ تمہارے ہاتھ سے کسی کا کتنا درد کم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کبھی تمہاری جانب سے کی گئی مدد کسی کی زندگی کا پہلا سہارا بن جاتی ہے۔ اور کبھی تم کسی کی مشکل آسان کرتے ہو، تو اللہ تمہارے لیے ایسی راہیں کھول دیتا ہے جن کا تم نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا۔ نیکی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی شکل میں، تمہاری طرف واپس ضرور آتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ نیکی کرتے وقت نظریں لوگوں پر نہیں، اپنے رب پر ہوں۔