رفاقت علی
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کررہی ہے۔ کوئی اسے سیاسی ضرورت قرار دے رہا ہے، کوئی انتظامی مجبوری، کوئی اسے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ سمجھتا ہے تو کوئی اسے سیاسی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ لیکن اس پوری بحث میں ایک بنیادی سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے: آخر ریاست کا نظام کس کے لیے ہے؟
ریاستی ڈھانچہ اگر شہری کی زندگی آسان بنانے کے لیے ہے تو پھر سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کو حکومت تک پہنچنے میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایک شہری کو ڈومیسائل، زمین، تعلیم، صحت، پولیس، عدلیہ یا کسی دوسرے سرکاری معاملے کے لیے کتنے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں؟ ایک دُور دراز علاقے کا شخص اپنے ضلعی یا صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے کتنے گھنٹے اور کتنے پیسے خرچ کرتا ہے؟ اور اگر ایک معمولی سرکاری کام کے لیے بھی شہری کو کئی دن اپنی روزمرہ زندگی چھوڑنا پڑے تو کیا یہ مؤثر انتظامیہ کی علامت ہے؟
شاید نئے انتظامی یونٹس کی بحث کا آغاز یہیں سے ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں انتظامی ڈھانچے جامد نہیں ہوتے۔ آبادی بڑھتی ہے، شہر پھیلتے ہیں، نئی بستیاں وجود میں آتی ہیں، معاشی مراکز تبدیل ہوتے ہیں اور عوام کی ضروریات بدلتی ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں کو بھی اپنی ساخت پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان میں کئی علاقے آج ایسی آبادی اور جغرافیائی وسعت اختیار کرچکے ہیں جو پرانے انتظامی بندوبست سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک طرف بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، دوسری جانب دوردراز علاقوں میں بنیادی سہولتوں تک رسائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی انتظامی فارمولا پورے ملک کی بدلتی ہوئی ضروریات پوری کرسکتا ہے؟ اور اگر نہیں کرسکتا تو پھر متبادل انتظامی ماڈلز پر سنجیدہ بحث کیوں نہیں ہونی چاہیے؟
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطلب لازماً نئے صوبے بنانا ہے؟ ضروری نہیں۔ بحث کو صرف صوبوں تک محدود کرنے کے بجائے ڈویژن، اضلاع، تحصیلوں، میٹروپولیٹن اداروں اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں تک پھیلانا ہوگا۔ ممکن ہے بعض علاقوں کے مسائل نئے صوبے سے زیادہ مضبوط مقامی حکومت کے ذریعے حل ہوسکیں جبکہ بعض بڑے اور دور افتادہ علاقوں کے لیے انتظامی سطح پر مزید اختیارات اور وسائل کی ضرورت ہو۔
اصل مسئلہ نام کا نہیں، اختیار کا ہے۔ اگر نیا صوبہ بن بھی جائے لیکن تمام اختیارات چند بڑے شہروں میں مرکوز رہیں تو عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟
اگر نیا انتظامی یونٹ بنے مگر بجٹ، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی چند ہاتھوں تک محدود رہے تو کیا یہ حقیقی انتظامی اصلاح ہوگی؟ اور اگر مقامی حکومت کے پاس اختیار ہی نہ ہو تو گلی، سڑک، پانی، صفائی، صحت اور تعلیم کے مسائل کون حل کرے گا؟ اسی لیے نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ایک اور بحث ناگزیر ہے: اختیار کی آخری منزل کہاں ہونی چاہیے؟
ریاستی اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، اتنی ہی شہری کی رسائی بڑھے گی۔ لیکن اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ضروری ہے۔ چھوٹا انتظامی یونٹ اگر زیادہ خودمختاری حاصل کرتا ہے تو اسے اپنے وسائل، بجٹ، کارکردگی اور فیصلوں کے بارے میں عوام کو جواب بھی دینا ہوگا۔ یہاں نئے انتظامی یونٹس کے مخالفین کا مؤقف بھی سننا ضروری ہے۔ نئے صوبے بنانے سے انتظامی اخراجات بڑھ سکتے ہیں، نئی اسمبلیاں، محکمے اور ادارے قائم کرنا پڑسکتے ہیں اور سیاسی مفادات بھی اس عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام کی ناکامی کی قیمت بھی ہم نہیں ادا کررہے؟
لمبی قطاریں، دور دراز سرکاری دفاتر، بنیادی سہولتوں کی کمی، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، بڑے شہروں پر بڑھتا ہوا دباؤ اور چھوٹے علاقوں میں ترقی کی سست رفتار، کیا یہ سب مفت میں ہورہا ہے؟ اگر ایک شہری ہر سال اپنے مسائل کے حل کے لیے وقت، کرایہ اور روزگار کے دن قربان کررہا ہے تو یہ بھی ریاستی انتظام کی ایک معاشی لاگت ہے۔ اس لیے فیصلہ جذبات سے نہیں، اعداد و شمار سے ہونا چاہیے۔
ہر بڑے انتظامی خطے کا آبادی، رقبے، آمدن، وسائل، بنیادی سہولتوں، فاصلے اور انتظامی اخراجات کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کہاں حکومت کی رسائی کم ہے، کہاں آبادی اور رقبے کا بوجھ غیر معمولی ہے اور کہاں نئے انتظامی بندوبست سے واقعی عوام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اور سب سے اہم بات: نئے انتظامی یونٹس کسی زبان، نسل یا علاقے کے خلاف منصوبہ نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ ریاست کو کمزور کرنے کا نہیں، ریاستی خدمات کو عوام کے قریب لانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد سیاسی نقشہ بدلنا نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی بہتر بنانا ہو۔
پاکستان کو شاید صرف نئے صوبوں کی نہیں، نئے انتظامی سوچ کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچ جو یہ پوچھے کہ حکومت کا دفتر کہاں ہے، یہ نہیں؛ بلکہ یہ پوچھے کہ حکومت عوام سے کتنی دُور ہے؟ کیونکہ ایک عام شہری کے لیے ریاست کی طاقت کسی بڑے دفتر، لمبی عمارت یا سرکاری مہر میں نہیں ہوتی۔ ریاست کی طاقت اُس وقت محسوس ہوتی ہے جب اس کا مسئلہ سنا جائے، اس کا کام وقت پر ہو اور اسے اپنے حق کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔
لہٰذا نئے انتظامی یونٹس پر بحث ضرور ہونی چاہیے، مگر نعروں کے ساتھ نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ملک کو کتنے صوبے چاہئیں۔ سوال یہ ہے: ملک کے ہر شہری تک حکومت کتنے فاصلے پر ہونی چاہیے؟اگر اس سوال کا جواب ہمارے موجودہ انتظامی نقشے میں نہیں ملتا، تو پھر نئے نقشے پر بحث سے گریز بھی دانش مندی نہیں۔