ایم ڈی کیٹ: سندھ میں 5100 نشستوں پر 33 ہزار امیدوار قسمت آزمائیں گے

کراچی: ایم ڈی کیٹ کے لیے سندھ میں 5100 نشستوں پر 33 ہزار سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔
کراچی سمیت پورے سندھ میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے ٹیسٹ اتوار 16 اگست کو ہوں گے۔ سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ سروس کے تحت لیے جائیں گے۔
سکھر آئی بی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف شیخ کے مطابق ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں پورے سندھ میں ساڑھے 33 ہزار سے زائد امیدوار شریک ہوں گے، جن میں 20934 طالبات اور 12 ہزار 600 سے زائد طلبہ شامل ہیں۔
اُدھر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سراج میمن کے مطابق سندھ میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے کل 5100 نشستیں مختص ہیں، جن میں ایم بی بی ایس کی 2300 اور بی ڈی ایس کی 2800 نشستیں ہیں، جس میں تمام کوٹا نشستیں بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اس بار داخلوں کی ذمے داری جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو سونپی گئی ہے۔
علاوہ ازیں آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر کے مطابق صرف کراچی میں 10 ہزار 661 امیدوار ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں شریک ہورہے ہیں جن میں 8186 طالبات اور 2475 طلبہ شامل ہوں گے۔
دیگر شہروں کے مراکز میں حیدرآباد میں 9470 امیدوار شریک ہوں گے، جن میں 5287 طالبات اور 4183 طلبہ شامل ہیں۔
اسی طرح لاڑکانہ میں 3066، میرپورخاص میں 2067، شہید بینظیرآباد میں 2511 اور سکھر میں 5462 امیدوار شریک ہوں گے جب کہ ایک امتحانی مرکز اسلام آباد میں بھی بنایا گیا ہے، جس 300 امیدوار شریک ہوں گے۔
ٹیسٹ کے لیے کراچی میں سینٹر این ای ڈی یونیورسٹی میں ہوگا، جہاں والدین کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی سے ملحق بینکوئٹ میں نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
طلبہ کو صبح ساڑھے 6 بجے ٹیسٹ مرکز پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹیسٹ صبح 10 بجے شروع ہوگا۔ 3 گھنٹے کا ایم سی کیوز پر مشتمل ٹیسٹ 180 مارکس کا ہوگا۔ میڈیکل کالج ایڈمیشن کے لیے پاسنگ مارکس 55 فیصد اور ڈینٹل کالج کے لیے 50 فیصد ہوں گے۔ ٹیسٹ میں کوئی نیگیٹیو مارکنگ نہیں ہوگی۔
وائس چانسلر سکھر آئی بی اے نے بتایا کہ ’آنسر کی‘ ٹیسٹ کے بعد اپ لوڈ کی جائے گی، تاہم شفافیت کے لیے طلبہ کاربن کاپی کے ساتھ ٹیسٹ کا پرچہ حل کرسکیں گے جو طلبہ کے پاس ہی رہے گی اور ٹیسٹ کے نتائج 22 اگست تک متوقع ہیں۔