لندن کا آخری وعدہ

عبدالعزیز بلوچ

لندن کی ایک بے حد سرد رات تھی۔ ہوا میں نمی تھی اور ہلکی ہلکی دھند نے سڑکوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ اسٹریٹ لائٹس کی مدھم روشنی دھند میں گم ہوکر ایک اداس منظر پیش کررہی تھی۔ شہر، جو دن کے وقت شور اور زندگی سے بھرا ہوتا ہے، اس وقت عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔
مگر اسی خاموشی کے بیچ، ایک بس اسٹاپ کے پرانے سے بینچ پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ اس کا نام آرتھر تھا۔
اس کے کپڑے میلے اور بوسیدہ تھے، جیسے کئی دنوں سے اس نے انہیں بدلا نہ ہو۔ اس کے ہاتھ سردی سے کانپ رہے تھے اور وہ بار بار اپنی انگلیوں کو آپس میں رگڑ کر کچھ گرمی حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کی آنکھیں… وہ خالی نہیں تھیں، بلکہ کسی گہری امید سے بھری ہوئی تھیں، ایسی امید، جو شاید حقیقت سے بہت دور جا چکی تھی۔
ہر چند منٹ بعد جب کوئی بس دور سے آتی دکھائی دیتی، آرتھر سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک آجاتی… جیسے ابھی کوئی معجزہ ہونے والا ہو۔ مگر جیسے ہی بس آتی… دروازہ کھلتا… چند لوگ اترتے یا چڑھتے… اور پھر بس آگے بڑھ جاتی، آرتھر کی امید بھی اس کے ساتھ ہی دور چلی جاتی۔ وہ پھر خاموشی سے بیٹھ جاتا۔ یہ سلسلہ جانے کب سے چل رہا تھا۔
اسی دوران، ایک نوجوان لڑکی، ایما، وہاں سے گزری۔ وہ اپنے کوٹ میں لپٹی ہوئی تھی اور جلدی جلدی گھر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر جیسے ہی اس کی نظر آرتھر پر پڑی، اس کے قدم رک گئے۔
کچھ تو تھا اس بوڑھے کے چہرے میں… ایک خاموش فریاد… ایک ٹوٹا ہوا انتظار… ایما آہستہ آہستہ اس کے قریب گئی۔
“آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔
آرتھر نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی، مگر ساتھ ہی ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی۔
“ہاں بیٹی… میں ٹھیک ہوں۔”
ایما نے ادھر اُدھر دیکھا، پھر دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“آپ یہاں… اس وقت… اکیلے کیوں بیٹھے ہیں؟”
آرتھر نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، جیسے الفاظ تلاش کر رہا ہو۔
پھر آہستہ سے بولا: “میں کسی کا انتظار کر رہا ہوں…”
“کون؟” ایما نے پوچھا۔
آرتھر کی آواز میں اچانک ایک نمی آ گئی: “میرا بیٹا… اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے لینے آئے گا…”
ایما کے چہرے پر حیرت ابھری۔ “کب کا وعدہ؟” یہ سوال سنتے ہی آرتھر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے نظریں جھکا لیں۔ “آج سے… پندرہ سال پہلے…”
یہ سن کر ایما جیسے ساکت ہوگئی۔ پندرہ سال…
کوئی انسان اتنا طویل انتظار کیسے کر سکتا ہے؟
اس نے محسوس کیا کہ یہ صرف ایک انتظار نہیں… یہ ایک زندگی کی کہانی ہے، جو ادھوری رہ گئی ہے۔
ایما نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اسے اس حالت میں نہیں چھوڑ سکتی۔
“چلیے، یہاں بہت سردی ہے۔ میں آپ کو چائے پلاتی ہوں،” اس نے نرمی سے کہا۔
آرتھر نے ہلکا سا انکار کیا، مگر ایما کے اصرار کے آگے ہار گیا۔
قریبی کیفے میں داخل ہوتے ہی گرمی کی ایک لہر نے دونوں کو گھیر لیا۔ آرتھر نے جیسے برسوں بعد سکون کا سانس لیا ہو۔
ایما نے اس کے لیے گرم چائے منگوائی۔ جیسے ہی اس نے کپ کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اس کی انگلیوں کا کانپنا کچھ کم ہو گیا۔
آہستہ آہستہ، باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایما کو پتا چلا کہ آرتھر کبھی ایک کامیاب کاروباری آدمی تھا۔ اس کی ایک چھوٹی سی فیملی تھی، بیوی اور ایک بیٹا۔ وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتا تھا۔
اس نے اپنی ہر خوشی، ہر خواب، ہر خواہش اپنے بیٹے کے نام کردی تھی۔ اسے بہترین تعلیم دی، ہر مشکل سے بچایا، ہر راستہ آسان کیا۔ مگر وقت کے ساتھ… سب کچھ بدل گیا۔
بیوی دنیا سے چلی گئی اور بیٹا… آہستہ آہستہ دور ہوتا گیا۔
ایک دن اس نے کہا: “ابو، میں آپ کو لینے آؤں گا… بس تھوڑا وقت دیں…”
اور وہ “تھوڑا وقت”… پندرہ سال میں بدل گیا۔ ایما کی آنکھیں بھی نم ہوچکی تھیں۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی، مگر اب ایما کے دل میں ایک اور ہی فیصلہ جنم لے چکا تھا۔ “آپ میرے ساتھ چلیں… میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی،” اس نے کہا۔آرتھر نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔ “اگر میرا بیٹا آ گیا تو؟” یہ سوال… صرف ایک جملہ نہیں تھا… یہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کی آخری امید تھی۔
ایما نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “اگر وہ آتا… تو پندرہ سال پہلے آچکا ہوتا…” یہ الفاظ تیر کی طرح آرتھر کے دل میں اتر گئے۔ وہ خاموش ہو گیا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے… مگر اس بار ان آنسوؤں میں صرف درد نہیں تھا… ایک عجیب سا سکون بھی تھا، جیسے اس نے آخرکار سچ کو قبول کرلیا ہو۔
کچھ مہینے گزرے۔ ایما نے آرتھر کا ایسے خیال رکھا جیسے وہ اس کا اپنا باپ ہو۔ مگر وقت… کسی کے لیے نہیں رکتا۔ ایک دن… آرتھر خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ایما ٹوٹ گئی۔ مگر جاتے جاتے آرتھر اس کے لیے ایک خط چھوڑ گیا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط کھولا۔ “بیٹی، میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھویا… مگر آخر میں تم جیسی بیٹی پا کر سب کچھ پا لیا۔ تم نے مجھے وہ محبت دی… جو میرا اپنا خون بھی نہ دے سکا۔ اگر دنیا میں ہر انسان تم جیسا بن جائے… تو کوئی بھی بوڑھا تنہا نہیں مرے گا۔ خوش رہنا… اور کبھی کسی کو اکیلا نہ چھوڑنا…”
ایما کے آنسو کاغذ پر گرنے لگے۔ وہ خط اس کے ہاتھ میں تھا… مگر اس کا دل جیسے کہیں اور جا چکا تھا۔
ہم زندگی میں کامیابی، پیسہ اور خوابوں کے پیچھے اس قدر بھاگتے ہیں… کہ وہ ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے ہمیں چلنا سکھایا تھا۔ ماں باپ انتظار نہیں کرتے… وہ بس خاموش ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کے والدین زندہ ہیں… تو آج… ابھی… اسی وقت… ان سے بات کریں۔ کیونکہ… کچھ وعدے اگر ٹوٹ جائیں… تو صرف ایک دل نہیں ٹوٹتا…
ایک پوری زندگی بکھر جاتی ہے۔