عبدالعزیز بلوچ
شہر کے مصروف کاروباری علاقے میں حارث نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس کی کئی دکانیں تھیں، عمدہ گھر تھا، مہنگی گاڑی تھی اور معاشرے میں اس کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ لوگ اسے کامیاب انسان کہتے تھے، مگر حارث کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ ہر نئی کامیابی کے بعد اسے چند دن خوشی محسوس ہوتی، پھر دل دوبارہ خالی خالی لگنے لگتا۔ وہ مزید دولت کمانے کی کوشش کرتا، مزید جائیداد خریدتا، مگر سکون اس سے دُور ہی رہتا۔
ایک دن وہ فجر کے بعد مسجد میں بیٹھا تھا۔ مسجد قریباً خالی ہوچکی تھی۔ صرف ایک بزرگ خاموشی سے تسبیح پڑھ رہے تھے۔ حارث نے ان کے چہرے پر ایسی طمانیت دیکھی جو اسے اپنی ساری دولت میں کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ وہ ان کے قریب گیا اور سلام کیا۔ بزرگ نے محبت سے جواب دیا۔ حارث نے کہا، "بابا جی، میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”
"پوچھو بیٹا۔”
حارث نے آہ بھری اور کہا، "میرے پاس سب کچھ ہے، لیکن دل مطمئن نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟” بزرگ مسکرائے اور بولے، "کیونکہ تم نے دولت کمائی ہے، مگر شاید اپنے دل کو اللہ کے قریب نہیں کیا۔” حارث نے حیرت سے پوچھا، "کیا دولت سکون نہیں دے سکتی؟” بزرگ نے جواب دیا، "دولت ضرورت پوری کرتی ہے، سکون نہیں دیتی۔ سکون اللہ کی یاد سے ملتا ہے۔” پھر انہوں نے قرآن کی ایک آیت کا مفہوم بیان کیا: "خبردار! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر ہی سے حاصل ہوتا ہے۔” یہ جملہ حارث کے دل میں اتر گیا۔
اس دن کے بعد اس نے عبادت پر زیادہ توجہ دینی شروع کردی۔ مگر چند ہفتوں بعد اسے محسوس ہوا کہ دل کی بے چینی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ وہ دوبارہ بزرگ کے پاس گیا۔ "بابا جی، میں نماز بھی پڑھتا ہوں، ذکر بھی کرتا ہوں، پھر بھی دل مکمل مطمئن نہیں ہوتا۔” بزرگ نے پوچھا، "اپنے کاروبار میں نیت کیا ہے؟” حارث کچھ لمحے خاموش رہا۔ "سچ کہوں تو میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہوں۔” بزرگ نے نرمی سے کہا، "بس یہی فرق ہے۔ دنیا کمانا برا نہیں، لیکن اگر مقصد صرف دنیا ہو تو دل خالی رہ جاتا ہے۔ اپنی کمائی کو اللہ کی رضا سے جوڑ دو۔” حارث نے پوچھا، "کیسے؟” بزرگ نے جواب دیا، "اپنے رزق کو عبادت بنالو۔ دیانت داری اختیار کرو، لوگوں کی آسانی کا ذریعہ بنو، محتاجوں کی مدد کرو اور ہر کام سے پہلے نیت کرو کہ یہ اللہ کی رضا کے لیے ہے۔”
یہ بات حارث کے لیے نئی تھی۔ اس نے اسی دن سے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے ملازمین کی تنخواہوں کا جائزہ لیا۔ اسے معلوم ہوا کہ کچھ کارکن برسوں سے معمولی اُجرت پر کام کررہے ہیں۔ اس نے ان کی تنخواہیں بڑھادیں۔ اس نے دکانوں میں یہ اصول نافذ کیا کہ کسی گاہک سے جھوٹ نہیں بولا جائے گا، چاہے نفع کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے قرض داروں کے ساتھ نرمی اختیار کی۔ اس نے یتیم بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانا شروع کردیا۔ شروع میں اسے لگا کہ شاید اس سے اس کا منافع کم ہوجائے گا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے کاروبار میں برکت بڑھنے لگی۔ لوگ اس پر پہلے سے زیادہ اعتماد کرنے لگے۔
ایک دن اس کا پرانا دوست نعمان اس سے ملا۔ نعمان نے حیرت سے پوچھا، "حارث! تم پہلے سے زیادہ خوش نظر آتے ہو۔ راز کیا ہے؟” حارث مسکرایا۔ "میں پہلے دولت کا غلام تھا، اب اسے اللہ کی امانت سمجھتا ہوں۔”
وقت گزرتا گیا۔ ایک سال بعد شہر میں شدید معاشی بحران آگیا۔ بہت سے تاجروں کے کاروبار متاثر ہوئے۔ حارث کا کاروبار بھی نقصان میں چلا گیا۔ لوگوں نے سوچا کہ اب وہ پریشان ہوجائے گا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ پہلے کی طرح مطمئن تھا۔ ایک شخص نے اس سے پوچھا، "اتنا نقصان ہونے کے باوجود آپ پریشان کیوں نہیں؟” حارث نے جواب دیا: "پہلے میں دولت کو اپنی کامیابی سمجھتا تھا، اس لیے نقصان مجھے توڑ دیتا تھا۔ اب میں جانتا ہوں کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور لینے والا بھی اللہ ہے۔ میرا کام کوشش کرنا ہے، نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں۔”
اس جواب نے سننے والوں کو خاموش کردیا۔ کچھ عرصے بعد حارث کے والد شدید بیمار ہوگئے۔ ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی، مگر ان کی حالت بگڑتی گئی۔ والد کے انتقال سے پہلے حارث ان کے پاس بیٹھا تھا۔ والد نے کمزور آواز میں کہا: "بیٹا، زندگی بھر میں نے تمہارے لیے دولت جمع کی، مگر آج احساس ہوتا ہے کہ اصل سرمایہ نیک اعمال ہیں۔” یہ الفاظ حارث کے دل میں نقش ہوگئے۔
والد کے انتقال کے بعد اس نے کئی دن خود کا محاسبہ کیا۔ اسے احساس ہوا کہ انسان دنیا میں جتنا بھی کامیاب ہوجائے، ایک دن اسے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اس دن نہ بینک بیلنس کام آئے گا، نہ جائیدادیں، نہ شہرت۔ کام آئے گا تو صرف ایمان، اخلاص اور نیک اعمال۔ اس نے اپنی زندگی کا رخ مزید بدل لیا۔ وہ لوگوں کے مسائل سنتا، ان کی مدد کرتا اور دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دیتا۔ ایک رات وہ اپنی چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنی پرانی زندگی یاد آئی۔ وہ وقت جب اس کے پاس دولت تو تھی مگر سکون نہیں تھا۔ اور آج کا وقت، جب آزمائشیں بھی تھیں مگر دل مطمئن تھا۔ اس نے آہستہ سے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "یااللہ! تیرا شکر ہے کہ تُو نے مجھے یہ سمجھا دیا کہ کامیابی دولت کی کثرت نہیں، بلکہ دل کی اصلاح ہے۔” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ان آنسوؤں میں ندامت بھی تھی، شکر بھی اور محبت بھی۔ اسی لمحے اسے وہ سکون محسوس ہوا جس کی تلاش میں وہ برسوں بھٹکتا رہا تھا۔
ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ پیسہ، بڑا گھر، اچھی گاڑی یا اعلیٰ عہدہ ہوگا تو ہم خوش ہوجائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دل کا سکون صرف مادی چیزوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ جب نیت خالص ہو، رزق حلال ہو، معاملات دیانت داری پر مبنی ہوں اور انسان اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے تو مشکلات کے باوجود دل مطمئن رہتا ہے۔ دنیا کمانا غلط نہیں، مگر دنیا کو مقصدِ زندگی بنالینا نقصان کا سودا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہ بھولے، کیونکہ دولت جیب میں اچھی لگتی ہے، دل میں نہیں، دل میں صرف اللہ کی محبت اور یاد ہی سکون دیتی ہے۔