یومِ استحصال کشمیر اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں

دانیال جیلانی

جنوبی ایشیا کی سیاست میں اگر کوئی مسئلہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنارہا ہے تو وہ مسئلہ کشمیر ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ معاملہ ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک ہر حکومت نے مختلف سفارتی، سیاسی اور قانونی ذرائع سے کشمیر کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے جب کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا رہتا ہے۔ انہی متضاد مؤقف کی وجہ سے یہ تنازع آج بھی عالمی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔
ہر سال 5 اگست کو پاکستان سمیت دُنیا بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے حکومت، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں، سفارتی مشنز، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں مختلف تقریبات منعقد کرتی ہیں، تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیر کے مسئلے کی جانب مبذول کرائی جاسکے۔ پاکستان کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا، اسی لیے اس تاریخ کو قومی یادداشت کا حصہ بنایا گیا ہے۔ خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد کسی بھی ملک کے قومی مفادات کا تحفظ، علاقائی امن کا فروغ اور عالمی سطح پر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کے نزدیک کشمیر ان تمام پہلوؤں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور دیگر عالمی فورمز پر اس معاملے کو مسلسل اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سب سے اہم پلیٹ فارم رہا ہے۔ پاکستانی نمائندے جنرل اسمبلی اور دیگر متعلقہ فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اٹھاتے رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس تنازع کے حل کے لیے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی بنیاد فراہم کرتی ہیں اور ان کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا موقع ملنا چاہیے۔ پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب دیرینہ تنازعات کو پُرامن ذرائع سے حل کیا جائے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) بھی پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا اہم حصہ رہی ہے۔ پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے اور مختلف اجلاسوں میں کشمیر سے متعلق اپنا مؤقف پیش کرتا ہے۔ او آئی سی کے متعدد اعلامیوں میں کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں پاکستان اپنی سفارتی کامیابیوں میں شمار کرتا ہے۔ ان اعلامیوں کے ذریعے پاکستان عالمی اسلامی برادری کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سفارت کاری صرف سرکاری بیانات یا اجلاسوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ جدید دور میں عوامی سفارت کاری (Public Diplomacy) بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان کے سفارتی مشنز دنیا کے مختلف ممالک میں سیمینارز، تصویری نمائشوں، علمی نشستوں اور میڈیا بریفنگز کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جاسکے۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری برادری بھی مختلف شہروں میں ریلیوں اور کانفرنسوں کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے سفارت کاری کی نوعیت کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ آج سوشل میڈیا عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر مختلف ڈیجیٹل مہمات، ویڈیو پیغامات، دستاویزی مواد اور معلوماتی پروگراموں کے ذریعے عالمی عوام تک اپنا مؤقف پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ وزارتِ خارجہ، سفارت خانے اور دیگر سرکاری ادارے بھی مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی سرگرمیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں انسانی حقوق کا پہلو بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان مختلف بین الاقوامی اداروں کی ان رپورٹس کا حوالہ دیتا ہے، جن میں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور بنیادی آزادیوں کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے، اس لیے کشمیر کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب بھارت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو آئینی اور انتظامی اصلاحات قرار دیتا ہے۔
پاکستان بارہا اس بات کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستانی قیادت مختلف مواقع پر اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے دیرینہ تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے نزدیک جامع اور بامعنی مذاکرات ہی جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی، اقتصادی تعاون اور علاقائی ترقی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
یومِ استحصالِ کشمیر صرف سفارتی سرگرمیوں کا دن نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان بھر میں خصوصی تقاریب، مذاکرے، ریلیاں، انسانی زنجیریں اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کشمیر کی تاریخ، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے کردار اور سفارت کاری کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے سمجھ سکے۔ پاکستانی میڈیا بھی اس دن خصوصی نشریات، تجزیے، انٹرویوز اور دستاویزی پروگرام پیش کرتا ہے۔ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں جبکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا عالمی سطح پر کشمیر سے متعلق بحث کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے صحافیوں، دانشوروں اور سفارتی ماہرین کی آراء بھی عوام تک پہنچائی جاتی ہیں۔
عالمی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات، اقتصادی مفادات اور جغرافیائی سیاست نے بین الاقوامی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اقتصادی سفارت کاری، ڈیجیٹل سفارت کاری، پارلیمانی روابط اور عوامی سفارت کاری کو یکجا کرکے مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر برقرار رکھنا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی برادری عمومی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور پُرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ متعدد ممالک اور بین الاقوامی ادارے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایسے اقدامات کریں جو اعتماد سازی اور علاقائی استحکام میں معاون ثابت ہوں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور بنیادی موضوع ہے۔ یومِ استحصالِ کشمیر اسی سفارتی جدوجہد کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ رکھا جاسکے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی کوششیں ان شاء اللہ ایک دن رنگ لائیں گی اور کشمیری مسلمانوں پر بھارتی تسلط سے ضرور نجات ملے گی۔