شوہر سے صلح، ڈاکٹر نبیہا نے خلع کی درخواست واپس لے لی

لاہور: فیملی عدالت نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈاکٹر نبیہا کی جانب سے دائر خلع کی ڈگری کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔ فیملی جج انسا یوسف نے درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر نبیہا کی جانب سے ان کے وکیل مدثر چوہدری پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ فریقین کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں، اس لیے خلع کی ڈگری کے لیے دائر دعوی واپس لینا چاہتے ہیں۔
عدالت نے درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے خلع کی ڈگری کے لیے دائر دعوی کیس نمٹادیا۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نبیہا اور حارث کھوکھر کی علیحدگی اور طلاق سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے بعد دونوں نے سامنے آکر وضاحت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے درمیان پیدا ہونے والی ناراضی ختم ہوچکی ہے اور وہ باہمی صلح کر چکے ہیں۔
حارث کھوکھر نے تنازع کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا، جتنا سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک پوڈکاسٹ کے دوران تیسرے شخص کی مداخلت اور شرارت کی وجہ سے انہیں ناگواری محسوس ہوئی، جس کے باعث انہوں نے غصے میں ایک ویڈیو ریکارڈ کردی۔ انہوں نے کہا، چونکہ معاملہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا، اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ جواب بھی اسی پلیٹ فارم پر دیا جائے، تاہم اس سے غلط فہمیاں مزید بڑھ گئیں۔
حارث کھوکھر کا کہنا تھا کہ اب ان کے دل میں کسی قسم کی ناراضی یا شکوہ باقی نہیں، کیونکہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرچکے ہیں اور دونوں کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر نبیہا نے اینکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے اپیل کی کہ کسی بھی شخص کی نجی زندگی کو غیر ضروری بحث کا موضوع نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے، اتنا ہی حساس بھی ہوتا ہے، اس لیے ذاتی معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ڈاکٹر نبیہا نے مزید کہا کہ لوگ اکثر مشورہ دیتے ہیں کہ گھریلو مسائل گھر کے اندر ہی حل کیے جائیں، لیکن ان کے بقول ان کے درمیان ایسا کوئی گھریلو مسئلہ تھا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی ایک بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، پھر اگلے ہی دن مختلف ویڈیوز اور تبصرے سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں، جس سے ایک غیر ضروری پروپیگنڈا جنم لیتا ہے۔ دونوں کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی علیحدگی اور طلاق کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔