حسان احمد
عرشیان شہر کے امیر ترین گھرانوں میں پیدا ہوا تھا۔ بچپن سے ہی اسے ہر وہ چیز میسر تھی، جس کا دوسرے لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں۔ قیمتی گاڑیاں، عالی شان بنگلہ، نوکر چاکر اور بے حساب دولت۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ تھے مگر اس آسائش نے اس کے دل کو سخت اور رویے کو بے رحم بنادیا تھا۔
ویسے تو وہ بچپن سے ہی خودسر تھا، لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی عرشیان حد سے زیادہ بگڑ چکا تھا۔ اسے نہ کسی کی عزت کا خیال تھا اور نہ ہی کسی کے درد کا احساس۔ راتیں رنگین محفلوں میں گزرتیں، دن غرور اور تکبر میں۔ وہ غریبوں کو حقیر سمجھتا، انہیں انسان ہی نہیں سمجھتا تھا۔ سڑک پر چلتے کسی مزدور کو اپنی گاڑی سے ٹھوکر مار دینا، کسی ریڑھی سے گاڑی ٹکرا کر اسے الٹ دینا یا کسی کمزور پر ظلم کرنا اس کے لیے عام بات تھی۔ قانون بھی اس کے خلاف حرکت میں نہیں آتا تھا کہ یہ بہت بااثر گھرانے کا فرد تھا۔ لوگ اس کی ان عادتوں کی وجہ سے اس سے دل ہی دل میں نفرت کرتے تھے۔
ایک دن وہ اپنی نئی مہنگی گاڑی میں شہر کی سڑکوں پر تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ نشہ، غرور اور لاپروائی اس کے حواس پر سوار تھے۔ اچانک ایک موڑ پر اس کی گاڑی بے قابو ہوئی اور زوردار حادثہ پیش آیا۔ گاڑی کئی بار الٹتی ہوئی سڑک کنارے جا گری۔ عرشیان شدید زخمی ہوچکا تھا۔ اس کا جسم لہولہان تھا اور سانسیں مدھم ہوتی جا رہی تھیں۔
لوگ جمع تو ہوگئے مگر کوئی آگے بڑھ کر مدد کرنے کو تیار نہ تھا۔ اسی دوران ایک ایمبولینس سائرن بجاتی آئی اور اسے فوری طور پر شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ عرشیان کی حالت نہایت نازک ہے اور اسے فوری طور پر خون کی ضرورت ہے۔ اس کے گھر والے ابھی تک نہیں پہنچے تھے اور خون کا گروپ بھی نایاب تھا، جس کی دستیابی آسان نہ تھی۔ عرشیان کے گھر والے پہنچے۔ خون ارینج کرنے کی کوششیں کرنے لگے، لیکن کامیابی نہیں مل پارہی تھی۔ عرشیان کے والد کا پُرانا ڈرائیور رحیم بھی یہاں موجود تھا۔ یہ وہی غریب تھا، جو اکثر عرشیان کے عتاب کا نشانہ بنتا تھا۔ عرشیان نے اسے کبھی انسان سمجھا ہی نہیں تھا۔ دلاور اور اُن کی بیگم شبانہ بہت پریشان تھے۔ اُن کا اکلوتا بیٹا اور تمام جائیداد کا تنہا وارث زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ اپنے مالک اور مالکن کی پریشانی دیکھتے ہوئے رحیم نے جھجکتے ہوئے اُنہیں کہا، سر میں اپنا خون ٹیسٹ کرادیتا ہوں، شاید عرشیان بابا کے خون سے میچ کرجائے۔ دلاور نے بنا کچھ سوچے سمجھے فوری رحیم ڈرائیور کو ڈاکٹرز کے ہمراہ بھیج دیا۔
وقت بہت کم تھا۔ ٹیسٹ کیا گیا تو اس کا خون عرشیان کے گروپ سے مل گیا۔ دلاور اور شبانہ کی مُرادیں بر آئیں۔ اس وقت اس خون کے بدلے کوئی اُن کی ساری جائیداد بھی لے لیتا تو وہ اس پر بلا چون و چرا راضی ہوتے۔ بالآخر کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد عرشیان کی جان بچ گئی۔
جب عرشیان کو ہوش آیا تو وہ اسپتال کے بستر پر پڑا تھا۔ جسم کمزور تھا اور دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ والدین اس کے پاس ہی بیٹھے تھے۔ اُسے اُنہوں نے بتایا، جس رحیم کا تم مذاق اُڑاتے اور دُھتکارتے تھے، اگر آج وہ نہ ہوتا تو تم ہمارے درمیان زندہ موجود نہ ہوتے۔ اس نے اپنا خون دے کر تمہیں بچایا ہے۔ اب تو اپنی عادتوں میں سُدھار لاؤ۔ یہ سن کر اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ وہی غریب، جنہیں وہ انسان نہیں سمجھتا تھا، آج اس کی زندگی کا سہارا بن گیا تھا۔
عرشیان نے رحیم کو بلوایا۔ جب وہ اس کے سامنے آیا تو عرشیان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ کمزور آواز میں بولا، “میں نے ہمیشہ تم جیسے لوگوں کو حقیر سمجھا… اور آج تم نے مجھے زندگی دی۔ میں اس احسان کا بدلہ کیسے چکا سکتا ہوں؟”
رحیم نے مسکرا کر کہا، “صاحب، آپ کے والدین کے مجھ پر بہت احسانات ہیں، جن کا قرض میں کبھی چُکا نہیں سکتا۔ انسانیت کا کوئی بدلا نہیں ہوتا۔ بس وعدہ کریں کہ آئندہ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کریں گے اور اگر ہوسکے تو لوگوں کی مدد کریں گے۔”
رحیم کے یہ الفاظ عرشیان کے دل میں اتر گئے۔ اس دن کے بعد اس کی زندگی بدل گئی۔ وہی عرشیان جو کبھی غرور میں ڈوبا رہتا تھا، اب عاجزی اور محبت کا پیکر بن گیا۔ اس کے والدین بیٹے میں آنے والی اس تبدیلی پر خوشی سے نہال تھے۔ عرشیان نے اپنی دولت کو لوگوں کی فلاح کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ غریبوں کے لیے اسکول بنوائے، اسپتال قائم کیے اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنا مقصد بنا لیا۔
لوگ جو کبھی اس سے نفرت کرتے تھے، اب اس کے لیے دعائیں کرنے لگے۔ عرشیان نے سیکھ لیا تھا کہ اصل طاقت دولت میں نہیں بلکہ انسانیت میں ہے۔ اس ایک حادثے اور ایک غریب ڈرائیور کے ایثار نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، مگر وہ دن عرشیان کبھی نہیں بھولا۔ وہ اکثر کہتا تھا، “مجھے زندگی دولت نے نہیں، انسانیت نے دی ہے۔”
یوں ایک بگڑا ہوا امیرزادہ، ایک نیک دل انسان میں بدل گیا، صرف اس لیے کہ کسی غریب نے اسے اپنا خون دے کر یہ سکھایا کہ انسانیت سب سے بڑی دولت ہے۔