امن کی نئی صبح اور پاکستان

غلام مصطفیٰ

دنیا پھر ایک ایسے نازک موڑ سے گزری جہاں جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے، خطے میں بے یقینی صورت حال اور عالمی معیشت دباؤ میں تھی۔ ایسے وقت میں ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے سے متعلق پیش رفت نہ صرف ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک نئی امید کی کرن بھی ہے۔ اس تاریخی پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے اور یہ حقیقت اب تسلیم کی جارہی ہے کہ امن کے اس سفر میں پاکستان نے ایک مثبت، متوازن اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر جس بصیرت، تحمل اور سفارتی دانش مندی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ “جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوا ہے، پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوں گے۔” یہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک حقیقت کی عکاسی ہے کہ دنیا جنگوں سے نہیں بلکہ مکالمے اور امن سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ وزیراعظم نے نہ صرف پاکستان کے اندر سیاسی قیادت کا شکریہ ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ان تمام رہنماؤں کو سراہا، جنہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا یہ طرزِ عمل پاکستان کی جمہوری سوچ اور وسیع النظری کی علامت ہے۔
اس پوری پیش رفت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی ان کی مسلسل مشاورت، حکمت عملی اور سیکیورٹی معاملات میں رہنمائی نے پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنایا۔ ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی تھی، فیلڈ مارشل نے سفارتی سطح پر بھی استحکام کے لیے ایک معاون کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ مضبوط دفاعی ادارے ہی کسی بھی ملک کی سفارتی طاقت کو بڑھاتے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس پورے امن عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی سفارتی مہارت، بین الاقوامی تعلقات کی سمجھ بوجھ اور مسلسل رابطہ کاری نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزارت خارجہ کے افسران کی محنت بھی اس کامیابی کا حصہ ہے، جنہوں نے ہر مرحلے پر اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں بھرپور طریقے سے انجام دیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے عمل میں پاکستان نے ایک متوازن اور غیر جانبدار مؤقف اپنایا۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی رہا ہے اور اس نے ہر عالمی فورم پر یہی پیغام دیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دنیا ایک بڑے بحران سے نکل کر امن کی طرف بڑھ رہی ہے تو پاکستان کا نام احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے بعد بحری ناکہ بندی ختم کردی گئی ہے اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی راحت ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی اور تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ اس راستے کے کھلنے سے نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی تجارت بھی معمول پر آ سکے گی۔
یہ امن معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بھی دنیا سنجیدگی سے مکالمے کی طرف آتی ہے تو بڑے سے بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا اس عمل میں کردار اس کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے، جو ہمیشہ امن، تعاون اور علاقائی استحکام پر مبنی رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے لیے ایک ذمے دار ملک ہے۔
آج اگر دنیا امید کی ایک نئی کرن دیکھ رہی ہے تو اس میں پاکستان کی کوششیں، قیادت کی بصیرت اور اداروں کی محنت شامل ہے۔ یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب قومیں صدیوں یاد رکھتی ہیں کہ کس نے جنگ کے اندھیروں میں امن کا چراغ جلایا۔
بلاشبہ امن ہی دنیا کی ضرورت ہے۔ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں جب کہ امن ترقی، خوش حالی اور انسانیت کو مضبوط کرتا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن کا علمبردار ہے اور اس کا کردار تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔
آنے والے دن یقیناً بہتر ہوں گے، کیونکہ جب نیت امن کی ہو تو راستے خود بخود روشن ہو جاتے ہیں۔