بلوچستان: 4 روز میں 54 دہشت گرد جہنم واصل، 42 شہادتیں ہوئیں، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 روز میں بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 3 واقعات میں وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے 42 شہادتیں ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا، بلوچستان کے بہادر عوام اورپولیس نے دلیری سے مقابلہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہنہ اوڑک میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے عوام پر حملہ کیا، ہنہ اوڑک کے عوام ان دہشت گردوں کے ساتھ بہادری سے لڑے، بہادر عوام نے دہشتگردوں سے علاقہ خالی کرایا، اس دوران 4 شہری شہید 6 زخمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوسرا واقعہ 6 جولائی کو مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کے قریب پولیس کی چیک پوسٹ پر پیش آیا، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد نے پمپنگ اسٹیشن کے چیک پوسٹ پر حملہ کیا، پولیس کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، 15 خارجی جہنم واصل کیے، 6 جولائی کو دہشت گردوں سے لڑائی میں پولیس کے 9 جوان شہید ہوئے ، سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے پہلے دہشتگردوں نے پولیس جوانوں کو یرغمال بنالیا تھا، دہشت گرد 15 خارجیوں کی لاشیں وہاں چھوڑ کر گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پولیس کے ان یرغمال جوانوں کا تعلق بلوچستان سے تھا، سیکیورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کے گرد احتیاط سے گھیرا تنگ کیا ان کے پاس ہمارے بچے یرغمال تھے، 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑوں میں ان دہشت گردوں سے اینگیجمنٹ چل رہی تھی، ان دہشت گردوں کو لگا کہ گھیرا تنگ ہوچکا ہے تو ان بزدلوں نے 18 پولیس جوانوں کو شہید کردیا، اس انگیجمنٹ میں 11 خارجیوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے لیکن تعداد اس سے زیادہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مانگی چیک پوسٹ واقعے میں اب تک 27 پولیس جوان شہید ہوئے، چیک پوسٹ پر حملے میں اب تک 26 خارجی جہنم واصل کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا واقعہ آج بیلہ میں فوجی قافلے کی بی ایل اے کے دہشت گردوں سے انگیجمنٹ کا پیش آیا، بی ایل اے کے دہشت گردوں سے لڑائی میں 14 دہشت گرد مارے گئے، اس کارروائی میں فوج کے ایک جے سی او اور 10 جوان شہید ہوئے، خاران اور دالبندین میں آج آپریشن کیے گئے، خاران میں 6 اور دالبندین میں 8 فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمےکے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی خوش حالی اور ترقی کے دشمن دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد کارروائیاں بھارت اور وہ قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کی عزت اور استحکام برداشت نہیں ہوتی، افغانستان کی سرزمین غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے زیر قبضہ اس دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، دہشت گردی کے ان واقعات میں زیادہ تر مارے گئے دہشت گرد افغان تھے، کراچی واقعے میں ملوث 4 حملہ آوروں میں 3 افغان دہشت گرد تھے، ان دہشت گردوں کو سہولت کاری افغان طالبان رجیم فراہم کررہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے عزت اور وقار سے مسئلہ ہے، ان کو ہر اس چیز سے مسئلہ ہے جو بلوچستان کے عوام کے لیے ہے، ان کو کوئٹہ کے لیے جانے والی پانی کی پائپ لائن سے مسئلہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہم روز ان دہشت گردوں کا تعاقب کریں گے اور ان کو ہدف بنائیں گے، بلوچستان کے وزیراعلیٰ بائی روڈ زیارت گئے، تین سال سے ریاست جو واضح پالیسی دکھارہی ہے ان کو اس سے پریشانی ہے، ریاست واضح بتارہی ہے کہ یہ فتنہ الہندوستان ہے، ان کا بلوچستان یا بلوچیت سے تعلق نہیں، ریاست واضح بتارہی ہے کہ یہ فتنہ الخوارج ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، غیرقانونی افغان مقیم باشندوں کو پاکستان سے اٹھا کر باہر پھینکیں گے، دنیا میں کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوا جو پاکستان کو دھمکا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کردیا کہ پاکستان اور بلوچستان یہاں ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہر دہشت گرد اور ان کے تمام سہولت کاروں کا پیچھا کریں گے، تم ہمارے بچوں اور شہریوں پر ہاتھ ڈالتے ہو اور سمجھتے ہو ہم آکر بات چیت کریں گے، عوام، فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ہر صورت ہمیں کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ ہم حق اور سچ پر کھڑے ہیں