ہر موسم کی مضبوط دوستی

دانیال جیلانی

دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور تزویراتی صف بندیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کی بنیاد پر اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، لیکن بعض تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت، حالات اور آزمائشوں کی ہر کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی انہی منفرد تعلقات میں شمار ہوتی ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت نے ہمیشہ "آہنی برادری” اور "ہر موسم کی دوستی” قرار دیا ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے 99ویں یومِ تاسیس کی تقریب کے موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ "پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے” درحقیقت دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عملی رویے پر قائم ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں دونوں ممالک نے نہ صرف دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ تجارت، معیشت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے میدان میں بھی تعاون کو مسلسل فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو دنیا بھر میں ایک کامیاب اور مثالی شراکت داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب کی اہمیت اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ اس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران، چین کے دفاعی اتاشی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارت خانے کے حکام اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ اعتماد، ہم آہنگی اور مشترکہ وژن پر مبنی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے پیپلز لبریشن آرمی کی پیشہ ورانہ خدمات، چین کی قومی ترقی اور عالمی امن کے لیے کردار کو سراہنا اس دیرینہ تعلق کی مضبوطی کا واضح اظہار ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کو جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں دہشت گردی، انتہاپسندی، سرحدی سلامتی، سائبر خطرات اور غیر روایتی جنگیں نمایاں ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور عسکری مشقوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔ یہ تعاون نہ صرف دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری کا سب سے نمایاں معاشی پہلو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کا سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ سی پیک کے تحت توانائی، شاہراہوں، بندرگاہوں، صنعتی زونز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ اگرچہ اس منصوبے کو مختلف چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا بھی رہا، تاہم دونوں ممالک نے اپنے عزم اور باہمی اعتماد کے ذریعے اس تعاون کو جاری رکھا۔ یہی اعتماد مستقبل میں بھی پاکستان کی معاشی بحالی اور علاقائی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کی اہمیت صرف اقتصادی یا دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفارتی سطح پر بھی چین نے متعدد مواقع پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان نے بھی ہمیشہ "ایک چین” پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح رکھا ہے۔ یہی باہمی اعتماد دونوں ممالک کے تعلقات کو دیگر بین الاقوامی شراکت داریوں سے ممتاز بناتا ہے۔ تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہنا بھی نہایت اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور کٹھن جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے، جبکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ عالمی برادری کی جانب سے ان قربانیوں کا اعتراف نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے بلکہ مستقبل میں سکیورٹی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ امر بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو وقتاً فوقتاً مختلف بیرونی عوامل اور علاقائی کشیدگیوں کے تناظر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا رہا ہے، مگر دونوں ممالک نے ہمیشہ اپنے تعلقات کو باہمی مفادات، خودمختاری کے احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات، اقتصادی دباؤ اور جغرافیائی سیاست کے باوجود یہ دوستی نہ صرف برقرار رہی بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
آج پاکستان کو معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے جیسے اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون ان شعبوں میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے، بشرطیکہ منصوبہ بندی، شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح تعلیم، تحقیق، مصنوعی ذہانت، زرعی جدت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے نئے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک چین تعلقات کو صرف ریاستی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں، تعلیمی تعاون اور نوجوان نسل کے درمیان رابطوں کو بھی مزید فروغ دیا جائے۔ مضبوط ریاستی تعلقات اس وقت زیادہ پائیدار بنتے ہیں جب دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کے قریب ہوں اور باہمی اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہو۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ بیان کہ پاکستان اور چین حقیقی شراکت دار ہیں، صرف ایک سفارتی اظہار نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ بارہا ثابت کرچکی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں دونوں ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو نئی جہتوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے امن، ترقی، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوش حالی کے اہداف کے حصول کے لیے مل کر آگے بڑھیں۔ یہی مضبوط شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی امید کی ایک روشن کرن ثابت ہو سکتی ہے۔