عبدالعزیز بلوچ
شہر کی ایک پرانی بستی میں سلمان نامی نوجوان رہتا تھا۔ عمر کوئی تیس برس تھی، مگر چہرے پر زندگی کی تھکن چالیس برس کی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں موٹر سائیکلیں ٹھیک کرتا تھا۔ آمدن زیادہ نہیں تھی، لیکن سلمان ایک اصول پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا تھا: رزق کم ہو سکتا ہے، حلال ہونا چاہیے۔ ایک رات ورکشاپ بند کرنے سے پہلے سلمان نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل کا مالک اپنا پرس وہیں بھول گیا ہے۔ پرس میں خاصی رقم تھی۔ سلمان نے پرس اٹھایا، دکان بند کی اور گھر چلا گیا۔
گھر میں اس کی بیوی مریم بچوں کے لیے کھانا تیار کررہی تھی۔ سلمان نے پرس میز پر رکھا اور کہا: "یہ کسی کا ہے، کل صبح مالک کو واپس کردوں گا۔” مریم نے پرس کھولا تو اس میں اتنی رقم تھی کہ گھر کا کئی ہفتوں کا خرچ چل سکتا تھا۔ اس نے خاموشی سے سلمان کی طرف دیکھا، پھر بولی: "سلمان، گھر میں آٹا بھی کم ہے، بچوں کی فیس بھی دینی ہے۔ اگر یہ شخص نہ ملا تو؟”
سلمان کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر مسکرا کر بولا: "اگر ہم نے کسی کا حق رکھ لیا تو شاید گھر کا چولہا جل جائے، مگر دل کا چراغ بجھ جائے گا۔”
مریم نے سر جھکالیا۔ اگلی صبح سلمان نے ورکشاپ کھولی تو وہی شخص گھبرایا ہوا وہاں پہنچا۔ وہ ایک غریب ڈرائیور تھا جس کا نام بشیر تھا۔ بشیر نے سلمان کو دیکھتے ہی پوچھا: "بھائی، میرا پرس ملا تھا؟”
سلمان نے پرس اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ بشیر نے پرس کھولا۔ رقم پوری تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بھائی! یہ میری بیٹی کے آپریشن کے پیسے تھے۔ میں ساری رات سوچتا رہا کہ اب کیا ہوگا۔”
سلمان نے صرف اتنا کہا: "آپ کی چیز تھی، آپ تک پہنچنا ہی تھی۔” بشیر نے کچھ رقم سلمان کو دینے کی کوشش کی، مگر اس نے صاف انکار کردیا۔
دن گزرتے گئے۔ کچھ ہی ہفتوں بعد سلمان کی ورکشاپ کے حالات مزید خراب ہوگئے۔ مالک نے کرایہ بڑھا دیا۔ گاہک بھی کم ہوگئے۔ ایک دن وہ پریشان بیٹھا تھا کہ ایک صاف ستھری گاڑی ورکشاپ کے سامنے آکر رکی۔ گاڑی سے ایک صاحب اترے اور پوچھا: "کیا آپ سلمان ہیں؟”
"جی۔”
انہوں نے کہا: "میں ایک کمپنی چلاتا ہوں۔ مجھے ایسے مکینک کی ضرورت ہے جو کام کے ساتھ دیانت دار بھی ہو۔”
سلمان حیران رہ گیا۔ "آپ کو میرے بارے میں کیسے معلوم؟”
وہ شخص مسکرایا: "بشیر میرا ڈرائیور ہے۔ اس نے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔” سلمان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسے اچانک یاد آیا کہ چند ہفتے پہلے وہ ایک ایسا فیصلہ کرچکا تھا جس کا دنیا کے لحاظ سے اسے کوئی فوری فائدہ نہیں ملا تھا۔ مگر اللہ کے ہاں شاید وہ فیصلہ ضائع نہیں ہوا تھا۔
چند دن بعد سلمان نے نئی ملازمت شروع کردی۔ تنخواہ پہلے سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اس نے سب سے پہلے بچوں کی فیس ادا کی، گھر کا راشن خریدا اور مریم سے کہا: "دیکھا؟ اللہ کے لیے چھوڑا ہوا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔”
مریم مسکرائی اور بولی: "اصل میں اللہ نے ہمیں پیسے سے پہلے یقین دیا تھا۔” سلمان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ فجر کا وقت قریب تھا۔ آسمان پر روشنی پھیل رہی تھی۔ اس نے وضو کیا، جائے نماز بچھائی اور سجدے میں چلاگیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: "یااللہ! مجھے اتنا ہی دے جتنا میرے لیے بہتر ہو، مگر میرے رزق سے برکت کبھی نہ نکالنا۔”
اس دن سلمان کو سمجھ آیا کہ انسان اکثر مدد کو صرف اس وقت مدد سمجھتا ہے جب وہ فوراً اس کے ہاتھ میں آجائے۔ حالانکہ کبھی اللہ کی مدد کسی آزمائش کی شکل میں آتی ہے، کبھی کسی نقصان کی صورت میں، کبھی کسی انتظار کے ذریعے اور کبھی کسی ایسے فیصلے میں جس کا فائدہ بہت دیر بعد سمجھ آتا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔”(سورۃ الطلاق: 2-3)
سبق: جب حلال اور حرام کے درمیان انتخاب ہو تو یہ نہ دیکھیں کہ آپ کے ہاتھ سے کیا جارہا ہے، یہ دیکھیں کہ اللہ کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں، کیونکہ دنیا میں بعض اوقات نیکی کا صلہ دیر سے ملتا ہے، مگر اللہ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔