نوجوان سی ایس ایس سے دُور کیوں ہورہے ہیں؟

بلال ظفر سولنگی

سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کو ہمیشہ پاکستان کی باوقار ترین سرکاری ملازمتوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ امتحان صرف ایک ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی خدمت، قیادت، سماجی وقار اور ریاستی نظم و نسق میں کلیدی کردار ادا کرنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ملک کے ذہین ترین نوجوان برسوں تک شب و روز محنت کرتے، مہنگی کوچنگ لیتے، بے شمار کتابیں پڑھتے اور اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کی تعبیر کے لیے وقف کردیتے تھے۔ ایک وقت تھا جب سی ایس ایس میں کامیابی نوجوانوں کے لیے زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تصور کی جاتی تھی، لیکن آج منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار اس تبدیلی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران سی ایس ایس کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد میں قریباً 48 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2022 میں جہاں 35 ہزار سے زائد امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی، وہیں 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر قریباً 18 ہزار رہ گئی۔ یہی رجحان فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی دیگر بھرتیوں میں بھی دیکھا گیا، جہاں درخواست گزاروں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ امتحان میں شریک ہونے والوں کا تناسب کسی حد تک بہتر ہوا، لیکن مجموعی طور پر درخواست دینے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اب سرکاری ملازمت کو پہلے جیسا پُرکشش کیریئر نہیں سمجھ رہی۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، معاشی اور نفسیاتی اشارہ ہے۔ نوجوانوں کی ترجیحات میں آنے والی یہ تبدیلی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ پاکستان کی روزگار کی منڈی، معیشت اور پیشہ ورانہ مواقع میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل روایتی سرکاری ملازمت کے بجائے ایسے شعبوں کی طرف متوجہ ہے جہاں ترقی کی رفتار تیز، آمدن بہتر اور مواقع عالمی سطح پر دستیاب ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، فری لانسنگ اور ریموٹ ورک جیسے شعبوں نے نوجوانوں کے لیے نئی دنیا کے دروازے کھول دیے ہیں۔ آج ایک باصلاحیت نوجوان اپنے گھر بیٹھے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کام کرکے ایسی آمدن حاصل کرسکتا ہے جو کئی سرکاری ملازمتوں کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نوجوان اب سرکاری امتحانات کے بجائے اپنی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب سی ایس ایس کا امتحان اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت مشکل، طویل اور بے یقینی عمل ہے۔ ایک امیدوار کئی برس تیاری کرتا ہے، مہنگے تعلیمی وسائل استعمال کرتا ہے، مالی اور ذہنی دباؤ برداشت کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود کامیابی کی شرح انتہائی محدود رہتی ہے۔ مزید یہ کہ امتحان، انٹرویو، نتائج اور تقرری کے مراحل طویل ہونے کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد متبادل کیریئرز کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
سرکاری ملازمتوں میں ترقی کا نسبتاً سست نظام، محدود اسامیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نجی شعبے کے مقابلے میں کم مالی مراعات بھی اس رجحان کی اہم وجوہ میں شامل ہیں۔ آج کا نوجوان صرف ملازمت نہیں بلکہ بہتر معیارِ زندگی، مالی استحکام، پیشہ ورانہ آزادی اور تیز رفتار ترقی چاہتا ہے۔ اگر سرکاری نظام ان توقعات پر پورا نہ اترے تو اس کا متبادل تلاش کرنا ایک فطری عمل بن جاتا ہے۔
تاہم اس تمام صورت حال کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ سی ایس ایس کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک مضبوط، دیانت دار، باصلاحیت اور پیشہ ور سول سروس ریاست کی کامیابی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی افسران قومی پالیسی سازی، قانون کے نفاذ، عوامی خدمات، بحرانوں سے نمٹنے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اس شعبے میں ملک کے بہترین ذہن آنے سے گریز کریں گے تو مستقبل میں ریاستی انتظامی ڈھانچے کی استعداد اور کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور متعلقہ ادارے مل کر اس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ امتحانی نظام میں شفافیت اور بروقت نتائج کو یقینی بنایا جائے، نصاب کو بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے، ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، پبلک پالیسی، موسمیاتی تبدیلی، سائبر سیکیورٹی اور جدید انتظامی علوم جیسے موضوعات کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ اسی طرح بھرتی کے مراحل کو مختصر، مؤثر اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے، تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو۔
مزید برآں، نوجوان افسران کے لیے بہتر تربیتی مواقع، جدید دفتری ماحول، پیشہ ورانہ آزادی، کارکردگی کی بنیاد پر ترقی، مناسب تنخواہیں اور سہولتیں فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر سرکاری ملازمت جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگی تو باصلاحیت نوجوان لازماً نجی شعبے یا عالمی مارکیٹ کا رخ کریں گے، جس کا نقصان بالآخر ریاستی اداروں کو اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان کی ترقی صرف مضبوط معیشت یا جدید انفرا اسٹرکچر سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک مؤثر، قابل، ایمان دار اور وژن رکھنے والی سول سروس بھی ناگزیر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک ایسا پُرکشش کیریئر بنایا جائے جہاں قومی خدمت، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشی استحکام ایک ساتھ میسر ہوں۔ اگر حکومت بروقت اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقیناً سی ایس ایس دوبارہ نوجوانوں کے خوابوں کی منزل بن سکتی ہے اور یہی مضبوط، جدید اور مؤثر سول سروس پاکستان میں بہتر حکمرانی، شفاف انتظامیہ اور پائیدار قومی ترقی کی ضامن ثابت ہوگی۔