آخر وہ کون تھا؟

حسان احمد

استنبول کی ٹھنڈی صبح تھی۔ استنبول کی گلیاں ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھیں، مگر باسفورس کے کنارے بیٹھا ایک نوجوان اپنی زندگی کے اندھیروں میں گم تھا۔ اس کا نام ایمرے تھا۔ لوگ اسے ایک سخت دل اور خود غرض انسان کے طور پر جانتے تھے۔ وہ ایک کامیاب کاروباری تھا، مگر اس کی کامیابی میں انسانیت کا کوئی حصہ نہ تھا۔
ایمرے کا بچپن غربت میں گزرا تھا۔ اس نے بھوک، محرومی اور لوگوں کی بے حسی دیکھی تھی۔ شاید اسی لیے اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کبھی کمزور نہیں بنے گا۔ مگر طاقت کی اس دوڑ میں وہ یہ بھول گیا کہ انسانیت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اس نے پیسہ تو کمالیا، مگر دلوں کو کھونا شروع کردیا۔ اس کے ملازمین اس سے ڈرتے تھے، اس کے رشتہ دار اس سے دُور رہتے تھے اور اس کے دوست صرف مفاد کی بنیاد پر اس کے ساتھ تھے۔
ایک دن وہ اپنی قیمتی گاڑی میں باسفورس کے کنارے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔ وہ شخص سردی میں کانپ رہا تھا اور اس کے پاس پہننے کے لیے مناسب کپڑے بھی نہیں تھے۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش فریاد تھی، جیسے وہ دنیا سے صرف تھوڑی سی توجہ مانگ رہا ہو۔ ایمرے نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا، مگر پھر اپنی نظریں پھیر لیں اور گاڑی آگے بڑھادی۔ اس کے دل میں ذرا بھی ہمدردی نہ جاگی۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اسی رات ایمرے ایک بڑی کاروباری ڈیل کے لیے جارہا تھا۔ سڑک سنسان تھی اور رات کی تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اچانک ایک تیز رفتار ٹرک اس کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ گاڑی بے قابو ہوکر الٹ گئی۔ ایمرے شدید زخمی ہوکر سڑک کے کنارے پڑا رہا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور سردی اس کے وجود کو جکڑ رہی تھی۔
وہ مدد کے لیے پکار رہا تھا، مگر اس کی آواز کمزور ہوتی جارہی تھی۔ کئی گاڑیاں گزریں، مگر کوئی نہِیں رُکا۔ ہر شخص اپنی دنیا میں مصروف تھا، جیسے وہ خود کبھی دوسروں کو نظرانداز کیا کرتا تھا۔ اس لمحے اسے اپنی زندگی کے وہ تمام لمحے یاد آنے لگے جب اس نے کسی کی مدد کرنے سے انکار کیا تھا۔
کچھ دیر بعد ایک سایہ اس کے قریب آیا۔ وہی بوڑھا شخص تھا، جسے ایمرے نے صبح دیکھا تھا۔
بوڑھے شخص نے بغیر کچھ سوچے ایمرے کو اٹھایا، اپنی پرانی چادر اس پر ڈالی اور اسے قریبی اسپتال لے گیا۔ اس کے پاس نہ پیسے تھے، نہ کوئی وسیلہ، مگر اس کے دل میں انسانیت تھی۔ اس نے ڈاکٹرز سے منت سماجت کی اور ایمرے کا علاج شروع کروایا۔
چند دن بعد جب ایمرے کو ہوش آیا، تو اس نے اپنے پاس اس بوڑھے شخص کو بیٹھا پایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے دھیرے سے پوچھا، “آپ نے میری مدد کیوں کی؟ میں تو آپ کو پہچانتا بھی نہیں…”
بوڑھا شخص مسکرایا اور بولا، “بیٹا، نیکی کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔ میں نے زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں مگر میں نے یہ سیکھا ہے کہ اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، تو اللہ ہمارے لیے راستے آسان کردیتا ہے۔ اگر تمہارے پاس کچھ ہے، تو اسے دوسروں کے ساتھ بانٹو۔ یہی اصل کامیابی ہے۔”
یہ الفاظ ایمرے کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئے۔ اس نے پہلی بار اپنی زندگی پر غور کیا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے کتنے لوگوں کو ٹھکرایا، کتنے غریبوں کو دھتکارا اور کتنی بار کسی کی مدد کرنے کا موقع ضائع کیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ خود سے شرمندہ تھا۔
اس دن کے بعد ایمرے بدل گیا۔ اس نے اپنے کاروبار کا ایک حصہ غریبوں کی مدد کے لیے وقف کردیا۔ وہ ہر روز گرینڈ بازار جاتا، جہاں وہ چھوٹے تاجروں کی مدد کرتا، ان کے قرضے چکاتا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیتا۔ وہ یتیم بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے لگا، بیماروں کے علاج کے لیے فنڈ قائم کیا اور بے گھر لوگوں کے لیے رہائش کا انتظام کرنے لگا۔
لوگ حیران تھے کہ یہ وہی ایمرے ہے جو کبھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا مگر اب اس کی آنکھوں میں نرمی تھی، اس کے لہجے میں محبت تھی اور اس کے اعمال میں خلوص تھا۔
ایک دن وہ اسی جگہ کھڑا تھا، جہاں اس نے پہلی بار اس بوڑھے شخص کو دیکھا تھا مگر آج وہاں کوئی نہیں تھا۔
لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بوڑھا شخص چند دن پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا تھا۔
ایمرے کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ وہیں بیٹھ گیا اور زار و قطار رونے لگا۔
“میں آپ کا شکریہ بھی ادا نہ کرسکا…” اس کے لبوں پر صرف یہی الفاظ تھے۔ مگر شاید وہ بوڑھا شخص اپنا کام کر چکا تھا۔ اس نے ایک دل کو جگادیا تھا، ایک روح کو بدل دیا تھا۔
ایمرے نے آسمان کی طرف دیکھا اور عہد کیا کہ وہ باقی زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اصل کامیابی دولت میں نہیں، بلکہ دل جیتنے میں ہے۔
برسوں بعد، استنبول میں ایمرے کا نام ایک ایسے انسان کے طور پر لیا جاتا تھا، جس نے سیکڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں مگر وہ ہمیشہ کہتا تھا، “میں کچھ نہیں ہوں، یہ سب ایک اجنبی کی دی ہوئی روشنی ہے۔”
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک چھوٹا سا عمل بھی کسی کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کچھ ہے، تو اسے بانٹیں۔ اگر آپ کسی کی مدد کرسکتے ہیں، تو دیر نہ کریں۔ کیونکہ کبھی کبھی، ایک لمحہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے… اور شاید آپ کسی کے لیے وہ روشنی بن جائیں جو اس کی اندھیری دنیا کو جگمگا دے۔