بھارت کی پھر جگ ہنسائی

دانیال جیلانی

بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ملک کا مقام صرف اس کی عسکری یا معاشی طاقت سے متعین نہیں ہوتا بلکہ اس کی سفارتی بصیرت، عالمی ساکھ، ذمے دارانہ طرزِ عمل اور علاقائی کردار بھی اس کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہدف پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا قرار دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2016 میں بڑے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کردیا جائے گا، مگر وقت نے ثابت کردیا کہ خارجہ پالیسی نعروں، پروپیگنڈے اور سیاسی خواہشات کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی، تدبر اور مستقل مزاجی سے کامیاب ہوتی ہے۔ عرب میڈیا بالخصوص الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے اس حقیقت کو مزید واضح کردیا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں بُری طرح ناکام رہیں۔ اس کے برعکس پاکستان آج نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم اور مؤثر فریق کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ، تہران، ریاض اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے فعال روابط اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے اپنی سفارتی حیثیت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید مستحکم بھی کیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی اس کا توازن اور اعتدال ہے۔ پاکستان نے ایک جانب چین کے ساتھ اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنایا تو دوسری طرف امریکا، خلیجی ممالک، ترکی، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو وسعت دی۔ یہی متوازن سفارت کاری پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ پاکستان نے کسی ایک بلاک پر انحصار کرنے کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کیے۔
اس کے برعکس بھارت کی خارجہ پالیسی کا بڑا حصہ پاکستان مخالف بیانیے کے گرد گھومتا رہا۔ دنیا کو مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، مگر عالمی برادری نے ہر الزام کو بغیر ثبوت تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ پچھلے برسوں میں پیش آنے والے مختلف واقعات نے بھی یہ ثابت کیا کہ عالمی طاقتیں اب محض سیاسی بیانات پر یقین کرنے کے بجائے حقائق اور شواہد کو اہمیت دیتی ہیں۔ پاکستان نے مشکل علاقائی حالات میں بھی دانش مندانہ اور ذمے دارانہ رویہ اختیار کیا۔ امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت پاکستان کی مستقل پالیسی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمے دار ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کی کوششیں جاری رکھیں اور خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ ان عوامل نے پاکستان کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کو اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مذہبی رواداری، اقلیتوں کے حقوق اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات نے بھارت کے اس تشخص کو نقصان پہنچایا ہے جسے وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ جب کسی ملک کے اندرونی حالات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بننے لگیں تو اس کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات بھی خطے کی ایک اہم حقیقت بن چکے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت مختلف منصوبوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی روابط بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ پاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو برقرار رکھا۔ قومی سلامتی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے معاملات پر یکسوئی نے پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کیا۔ یہی قومی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے اور یہی وہ عنصر ہے جس نے پاکستان کو مشکل حالات میں بھی کامیابی دلائی۔ آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنی سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی استحکام، اقتصادی اصلاحات اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا گیا تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مزید مؤثر کردار ادا کرسکے گا۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے میں وہی ممالک آگے بڑھتے ہیں جو تدبر، دانش مندی اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی کو اپناتے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے۔ اس کی سفارتی کامیابیاں، عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد اور مختلف ممالک کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا وقار بلند ہورہا ہے۔ دوسری جانب الزام تراشی، محاذ آرائی اور منفی بیانیے پر مبنی پالیسیوں نے بھارت کو وہ نتائج نہیں دیے جن کی اسے توقع تھی۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کامیابی انہی قوموں کے حصے میں آتی ہے جو بصیرت، توازن اور ذمے دارانہ طرزِ عمل کو اپنا شعار بناتی ہیں اور پاکستان آج اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔