حسان احمد
سردیوں کی ایک یخ بستہ رات تھی۔ شہر کے ایک پرانے محلے میں واقع چھوٹے سے گھر میں اکرم اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ مزدور تھا۔ صبح سویرے کام کی تلاش میں نکلتا اور شام کو جو کچھ ملتا، لے کر گھر آجاتا۔ کبھی دو وقت کی روٹی میسر ہوتی، کبھی ایک وقت کی۔ اس دن قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ پورا دن گزر گیا مگر کوئی مزدوری نہ ملی۔ شام کو جب وہ گھر لوٹا تو اس کی جیب میں صرف اتنے پیسے تھے کہ چند روٹیاں خرید سکے۔ گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے خاموشی سے روٹیاں دسترخوان پر رکھ دیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے مگر سب اپنے باپ کا انتظار کررہے تھے۔
اکرم نے مسکرا کر بچوں کو اپنے قریب بٹھایا۔ وہ خود بھی شدید بھوکا تھا۔ پورے دن اس کے پیٹ میں ایک لقمہ تک نہیں گیا تھا۔ ابھی سب کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ رات کے اس پہر کون ہوسکتا تھا؟ اکرم نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ "بیٹا، تین دن سے بھوکا ہوں۔ اگر کچھ کھانے کو مل جائے تو زندگی بھر دعا دوں گا۔”
اکرم چند لمحے خاموش رہا۔ اس نے مڑ کر اپنے گھر کی طرف دیکھا۔ دسترخوان پر رکھی وہی چند روٹیاں تھیں جو اس کے بچوں کے لیے بھی ناکافی تھیں۔ ایک طرف اس کے اپنے بچے تھے، دوسری جانب ایک بھوکا انسان۔ انسان اکثر ایسے ہی لمحوں میں پہچانا جاتا ہے۔ اکرم نے آہستہ سے بوڑھے کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے آیا۔ بچوں نے حیرت سے دیکھا۔ بیوی نے بھی سوالیہ نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔ اکرم نے تمام روٹیاں بوڑھے کے سامنے رکھ دیں۔
بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے روٹی اٹھائی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "بیٹا، تمہارے بچے بھی تو بھوکے ہیں۔” اکرم نے مسکرا کر جواب دیا: "چچا، ہم ایک رات بھوکے سوجائیں گے، لیکن اگر آپ بھوکے سو گئے تو شاید مجھے ساری زندگی سکون نہ ملے۔”
اکرم کے یہ جملہ کہنے کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ بوڑھا کھانا کھاتا رہا اور بچوں نے خاموشی سے پانی پی لیا۔ اس رات پورا گھرانہ بھوکا سوگیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کسی کے چہرے پر شکوہ نہیں تھا۔ رات گزر گئی۔ اگلی صبح اکرم ہمیشہ کی طرح کام کی تلاش میں نکلا۔ ابھی وہ محلے سے باہر ہی نکلا تھا کہ ایک گاڑی اس کے قریب آکر رُکی۔ گاڑی سے ایک صاحب اترے۔
"کیا تم اکرم ہو؟” اکرم نے جواب دیا، "جی۔” صاحب نے کہا، "ہم ایک فیکٹری کے لیے ایمان دار سپروائزر ڈھونڈ رہے ہیں۔ کسی نے تمہارا نام بتایا ہے۔ کیا تم کام کرو گے؟” اکرم حیران رہ گیا۔ تنخواہ اس کی توقع سے کئی گنا زیادہ تھی۔
چند ہی مہینوں میں اس کے حالات بدلنے لگے۔ کرائے کے گھر کی جگہ اپنا چھوٹا سا مکان آگیا۔ بچوں نے اچھی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔ گھر میں خوش حالی آنے لگی۔ مگر اکرم کے دل میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہا۔ وہ بوڑھا شخص کون تھا؟
ایک دن وہی سوال لیے وہ محلے کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک بزرگ نے اس سے پوچھا: "بیٹا، تم کچھ پریشان لگتے ہو۔” اکرم نے سارا واقعہ سنادیا۔ بزرگ مسکرائے اور بولے: "کبھی کبھی اللہ تعالیٰ ہماری آزمائش انسانوں کے ذریعے لیتا ہے۔ تم نے اس رات اپنی بھوک پر کسی اور کی بھوک کو ترجیح دی تھی۔ اللہ کو تمہارا یہی عمل پسند آگیا۔”
یہ سن کر اکرم کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ سال گزرتے گئے۔ اب اکرم ایک کامیاب آدمی بن چکا تھا، لیکن اس نے اپنی غربت کے دن کبھی نہیں بھلائے۔ اس نے ایک اصول بنا لیا تھا۔ اس کے گھر سے کوئی بھوکا واپس نہیں جاتا تھا۔ وہ یتیم بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھاتا، بیواؤں کی مدد کرتا اور خاموشی سے ضرورت مندوں کے گھروں تک راشن پہنچاتا۔ ایک دن اس کے بیٹے نے پوچھا: "ابا، آپ اتنا سب کچھ دوسروں پر کیوں خرچ کرتے ہیں؟”
اکرم نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور کہا: "بیٹا، انسان کی اصل دولت اس کے بینک اکاؤنٹ میں نہیں ہوتی، لوگوں کی دعاؤں میں ہوتی ہے۔”
وقت گزرتا رہا۔ پھر اکرم شدید بیمار ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا کہ اس کے پاس زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں۔ خبر پھیلتے ہی سیکڑوں لوگ اس کے گھر پہنچنے لگے۔ کوئی کہتا، "اس شخص نے میری بیٹی کی شادی کروائی تھی۔” کوئی کہتا، "میرے بچوں کی تعلیم کا خرچ اسی نے دیا تھا۔” کوئی کہتا، "جب میرے گھر میں فاقے تھے، یہ خاموشی سے راشن رکھ جاتا تھا۔” گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا اور اندر بستر پر لیٹا اکرم خاموشی سے سب سن رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
زندگی بھر اس نے دولت جمع نہیں کی تھی، دعائیں جمع کی تھیں۔ اپنی آخری رات اس نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور دھیمی آواز میں کہا: "بیٹا، یاد رکھنا… دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو روشنی تلاش کرتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کے لیے چراغ بن جاتے ہیں۔ کوشش کرنا کہ تم چراغ بنو۔”
یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ اگلی صبح اکرم اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا۔ جنازے کے دن ایک عجیب منظر تھا۔ امیر بھی رو رہے تھے اور غریب بھی۔ بوڑھے بھی غم زدہ تھے اور نوجوان بھی۔ لوگ صرف ایک انسان کو دفنانے نہیں آئے تھے، وہ ایک کردار کو الوداع کہنے آئے تھے۔ اس دن بہت سے لوگوں نے پہلی بار سمجھا کہ انسان کی عظمت اس کے مال میں نہیں، اس کے اعمال میں ہوتی ہے۔ اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ جب اللہ تمہیں کسی کی مدد کرنے کا موقع دے تو اسے معمولی مت سمجھو۔ ہوسکتا ہے تمہارے لیے وہ ایک چھوٹا سا عمل ہو، مگر کسی دوسرے کے لیے پوری دنیا ہو۔ جو انسان دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے، وقت اس کے نام کو دلوں میں زندہ رکھتا ہے اور جو صرف اپنے لیے جیتا ہے، وہ زندہ رہ کر بھی بُھلا دیا جاتا ہے۔