میسا چوسٹس: آپ کے سینے کی ہڈی (اسٹرنم) کے پیچھے ایک چھوٹا سا چکنائی نما غدود موجود ہوتا ہے جسے تھائمس گلینڈ کہا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ بالغ عمر میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی، لیکن ایک تحقیق اس تصور کو چیلنج کر رہی ہے۔
2023 میں امریکی محققین کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کا تھائمس گلینڈ سرجری کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے، ان میں اگلے پانچ برسوں کے دوران کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد میں کینسر لاحق ہونے کے خدشات بھی زیادہ ہوجاتے ہیں۔
تحقیق شائع ہونے کے وقت ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ سرطان ڈیوڈ اسکیڈن کا کہنا تھا کہ محققین نے دریافت کیا کہ تھائمس انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو انسان میں موت اور کینسر کا خطرہ کم از کم دوگنا ہو جاتا ہے۔
البتہ سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کرتی کہ تھائمس کو نکال دینا براہِ راست کینسر یا دیگر جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
اس کے باوجود محققین اپنے نتائج کو تشویش ناک قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تک مزید معلومات سامنے نہیں آ جاتیں، ممکنہ حد تک تھائمس گلینڈ کو محفوظ رکھنا طبی ترجیح ہونی چاہیے۔
بچپن میں تھائمس گلینڈ مدافعتی نظام کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کم عمری میں یہ غدود نکال دیا جائے تو جسم میں ٹی سیلز کی تعداد طویل عرصے تک کم رہ سکتی ہے۔ یہ سفید خون کے خلیات کی ایک اہم قسم ہیں جو جراثیم، وائرس اور بیماریوں کے خلاف جسم کا دفاع کرتی ہے۔
مزید یہ کہ جن بچوں کا تھائمس موجود نہ ہو، ان کے جسم میں ویکسینز کے خلاف مدافعتی ردِعمل بھی نسبتاً کمزور دیکھا گیا ہے، جس سے بیماریوں کے خلاف تحفظ متاثر ہو سکتا ہے۔