اسد احمد
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ عرب کے ایک سرسبز شہر میں، جہاں کھجوروں کے باغ ہوا کے ساتھ جھومتے تھے اور بازاروں میں خوشبوؤں کی مہک پھیلی رہتی تھی، ایک نہایت امیر تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ اس کے پاس اونٹوں کے قافلے، سونے چاندی کے سکے، قیمتی کپڑے اور دُور دُور تک پھیلا ہوا کاروبار تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر کسی کے پاس دولت کا سمندر ہے تو وہ عبدالرحمٰن ہے، لیکن اگر کسی کے دل میں سکون کا صحرا ہے تو وہ بھی عبدالرحمٰن ہی ہے۔
وہ ہر وقت پریشان رہتا۔ کبھی مال کی فکر، کبھی دشمنوں کی فکر، کبھی نقصان کا خوف اور کبھی مزید دولت جمع کرنے کی خواہش۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ جیسے برسوں سے مہمان نہ بنی ہو۔ ایک دن وہ اپنے قافلے کے ساتھ شام کی طرف جارہا تھا۔ دوپہر کی تیز دھوپ نے سب کو تھکادیا، اس لیے قافلہ ایک نخلستان میں رکا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے نہایت سادہ تھے، ہاتھ میں لکڑی کی ایک چھڑی تھی، مگر چہرے پر ایسی روشنی اور سکون تھا جیسے دنیا کی کوئی فکر اسے چُھو بھی نہ سکتی ہو۔ عبدالرحمٰن نے حیرت سے پوچھا: "بابا! آپ کے پاس نہ مال ہے، نہ محل، نہ غلام، پھر بھی آپ اتنے مطمئن کیوں ہیں؟”
درویش نے مسکرا کر جواب دیا: "بیٹا! میرے پاس وہ ہے جو اکثر امیروں کے پاس نہیں ہوتا۔” "کیا؟” "قناعت۔”
تاجر نے ہنس کر کہا: "قناعت سے پیٹ نہیں بھرتا۔”
درویش نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا: "لالچ سے بھی کبھی دل نہیں بھرتا۔” یہ الفاظ عبدالرحمٰن کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے، مگر اس نے بات بدل دی۔ چند لمحوں بعد درویش نے اپنی تھیلی سے ایک چھوٹا سا آئینہ نکالا اور تاجر کے ہاتھ میں دے دیا۔ "اس میں کیا دیکھتے ہو؟”
"اپنا چہرہ۔”
پھر درویش نے جیب سے ایک چاندی کا سکہ نکالا۔ "اب اس میں دیکھو۔”
عبدالرحمٰن نے حیرت سے کہا: "اس میں بھی اپنا ہی عکس نظر آ رہا ہے۔”
درویش مسکرایا۔ "فرق صرف اتنا ہے کہ آئینہ شفاف ہے، اس لیے تم دنیا کو بھی دیکھ سکتے ہو۔ لیکن جب شیشے پر چاندی چڑھ جائے تو صرف اپنی شکل نظر آتی ہے۔”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا: "انسان کا دل بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب اس پر دولت، غرور اور لالچ کی چاندی چڑھ جاتی ہے تو اسے صرف اپنی ذات دکھائی دیتی ہے، دوسروں کا درد نہیں۔”
عبدالرحمٰن خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اس کے دل پر بھی ایسی ہی چاندی چڑھ چکی ہے۔ رات کو قافلہ آگے روانہ ہوا۔ راستے میں اچانک شدید آندھی آگئی۔ ریت کے طوفان نے آسمان کو ڈھانپ لیا۔ اونٹ بدک گئے، سامان بکھر گیا اور کئی صندوق گم ہوگئے۔ صبح جب طوفان رکا تو عبدالرحمٰن نے دیکھا کہ اس کی دولت کا بڑا حصہ غائب ہوچکا تھا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اسی وقت وہی درویش آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔
اس نے پوچھا: "کیوں بیٹا، بہت نقصان ہوا؟” عبدالرحمٰن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بابا! میری عمر بھر کی کمائی چلی گئی۔” درویش نے نرمی سے کہا: "اگر تمہارا دل بھی اس کے ساتھ چلاگیا ہے تو واقعی تم فقیر ہوگئے ہو، لیکن اگر دل سلامت ہے تو تم ابھی بھی امیر ہو۔” یہ سن کر عبدالرحمٰن کی آنکھیں جھک گئیں۔ درویش نے اسے اپنے ساتھ قریبی گاؤں چلنے کو کہا۔ وہاں لوگ انتہائی غریب تھے۔ کسی کے پاس صرف ایک روٹی تھی، کسی کے پاس دو کھجوریں، مگر جب مہمان آئے تو ہر شخص نے اپنی تھوڑی سی چیز دوسروں کے ساتھ بانٹ دی۔
ایک بوڑھی عورت نے اپنی آخری روٹی بچوں میں تقسیم کرنے کے بعد آدھی روٹی عبدالرحمٰن کی طرف بڑھادی۔ عبدالرحمٰن حیران رہ گیا۔ اس نے پوچھا: "تمہارے پاس تو خود کچھ نہیں، پھر بھی مجھے کیوں دے رہی ہو؟”
بوڑھی عورت نے مسکرا کر کہا: "بیٹا! رزق دینے والا اللہ ہے، ہم تو صرف وسیلہ ہیں۔” یہ جملہ سن کر عبدالرحمٰن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اس نے سوچا: "میرے پاس ہزاروں روٹیاں تھیں، مگر میں کسی کو دینے سے پہلے حساب لگاتا تھا۔ ان کے پاس ایک روٹی ہے، پھر بھی خوشی سے بانٹ رہے ہیں۔” اسی دن اس کی زندگی بدل گئی۔
شہر واپس پہنچ کر اس نے اپنے کاروبار کو جاری رکھا، مگر اب مقصد صرف دولت کمانا نہیں تھا بلکہ لوگوں کی خدمت کرنا بھی تھا۔ اس نے یتیموں کے لیے گھر بنوائے، مسافروں کے لیے سرائے تعمیر کروائیں، کنویں کھدوائے، غریب تاجروں کو قرض حسنہ دینا شروع کیا اور ہر جمعہ کو خود اپنے ہاتھ سے محتاجوں میں کھانا تقسیم کرتا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ وہی عبدالرحمٰن ہے جو پہلے ایک درہم خرچ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچتا تھا۔ کئی برس بعد کسی نے اس سے پوچھا: "آپ کی زندگی کا سب سے قیمتی سودا کون سا تھا؟”
عبدالرحمٰن نے مسکراکر جواب دیا: "میں نے ایک دن غرور بیچا، قناعت خرید لی۔ لالچ چھوڑا، سکون پا لیا۔ دولت بانٹ دی، عزت کمالی۔” پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "اس بوڑھے درویش نے مجھے کوئی خزانہ نہیں دیا تھا، صرف ایک آئینہ دیا تھا… مگر اس آئینے میں پہلی بار میں نے اپنا اصل چہرہ دیکھا تھا۔”
کہتے ہیں کہ وہ درویش پھر کبھی کسی کو نظر نہیں آیا، مگر اس کی باتیں شہر بھر میں مشہور ہو گئیں۔ لوگ اپنے بچوں کو یہ حکایت سناتے اور کہتے: "دولت سے بڑا خزانہ اچھا دل ہے اور اچھے دل کی پہچان یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے دھڑکتا ہے۔”
دولت انسان کو امیر بنا سکتی ہے، مگر قناعت، شکر گزاری، عاجزی اور سخاوت ہی انسان کو واقعی خوش حال بناتی ہیں۔ جس دل میں لالچ کم اور اللہ پر بھروسا زیادہ ہو، وہی دل حقیقی سکون پاتا ہے۔