حسان احمد
شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کی بارہویں منزل پر کھڑا زوہیب نیچے جگمگاتی سڑکوں کو دیکھ رہا تھا۔ شیشے کی دیوار کے اُس پار پورا شہر اس کے قدموں میں بچھا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جہاں جاتا، لوگ کھڑے ہوکر استقبال کرتے۔ سوشل میڈیا پر اُس کی ایک تصویر ہزاروں لوگوں کے لیے خبر بن جاتی۔
ٹی وی اینکر اُس کے انٹرویو لینے کے لیے مہینوں انتظار کرتے۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا مگر اس سے بھی بڑھ کر، وہ اپنے غرور کا غلام بن چکا تھا۔ زوہیب کبھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کے باپ نے ساری زندگی رکشا چلایا تھا۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھوتی تھی۔ لیکن قسمت نے پلٹا کھایا، زوہیب نے کاروبار شروع کیا، کامیابی ملی، پھر دولت آئی… اور دولت کے ساتھ وہ بیماری بھی، جو اکثر انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی، یعنی غرور۔
شروع شروع میں وہ نرم مزاج تھا، لوگوں کی مدد کرتا تھا۔ مگر جیسے جیسے شہرت بڑھی، اُس کے لہجے میں زہر اترتا گیا۔ ایک دن اُس کے دفتر کے باہر ایک بوڑھا چوکیدار بارش میں بھیگ رہا تھا۔ چوکیدار نے صرف اتنا کہا، “سر، تنخواہ نہیں ملی… گھر میں راشن ختم ہوگیا ہے…” زوہیب نے سگار کا کش لے کر نفرت سے اُسے دیکھا۔ “تم جیسے لوگ ہمیشہ روتے ہی رہتے ہو۔ اگر بھوکے ہو تو مر جاؤ، مجھے کیا؟”
وہ الفاظ سن کر بوڑھے کی آنکھیں بھر آئیں۔ مگر زوہیب ہنستا ہوا اندر چلا گیا۔ اُس دن دفتر میں موجود کئی لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کامیابی نے اس آدمی کے دل کو پتھر بنادیا ہے۔ پھر ایک دن اُس کے ہوٹل میں ایک ویٹر کے ہاتھ سے غلطی سے کافی گر گئی۔ زوہیب نے سب لوگوں کے سامنے اُس لڑکے کو زور سے تھپڑ مارا۔
“تم لوگ غریب اسی قابل ہو۔ تمہاری اوقات صرف جوتے صاف کرنے کی ہے۔”
وہ لڑکا خاموشی سے آنسو پیتا رہا اور اردگرد کھڑے لوگ نظریں جھکائے رہے۔ زوہیب کو لگتا تھا دنیا ہمیشہ اُس کے قدموں میں رہے گی۔ وہ بھول گیا تھا کہ وقت بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو بادشاہ بناتے دیر نہیں لگاتا۔
پھر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ اُس کی کمپنی پر بڑے فراڈ کا الزام لگا۔ میڈیا، جو کل تک اُس کے گُن گاتا تھا، آج اُسی کے خلاف چیخ رہا تھا۔ سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے۔
بینکوں نے اکاؤنٹس منجمد کردیے۔ پارٹنرز غائب ہوگئے۔ جن دوستوں کے ساتھ وہ راتیں گزارتا تھا، اُنہوں نے فون اُٹھانا چھوڑ دیا۔ صرف 6 مہینوں میں زوہیب ارب پتی سے مقروض بن گیا۔
ایک دن عدالت کے باہر میڈیا والے اُس کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ “سر، اب کیسا لگ رہا ہے؟”، “کیا آپ واقعی فراڈیے ہیں؟”، “آپ کے دوست آپ کو چھوڑ گئے؟”
وہی لوگ، جو کل اُس کے سامنے جھکتے تھے، آج اُس کی بے عزتی دیکھ کر لطف لے رہے تھے۔
زوہیب کے پاس گھر نہ رہا۔ گاڑیاں بک گئیں۔ نوکر چلے گئے۔ اور ایک دن ایسا آیا کہ وہ واقعی سڑک پر بیٹھا تھا۔
سردیوں کی ایک رات، پھٹے کوٹ میں ملبوس، وہ ایک بند دکان کے باہر بیٹھا کانپ رہا تھا۔ دو دن سے اُس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ پیٹ میں اینٹھن ہورہی تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔
تبھی ایک شخص اُس کے قریب آیا۔ ہاتھ میں کھانے کا تھیلا تھا۔ “کچھ کھا لیجیے…” زوہیب نے کمزور نظروں سے اُوپر دیکھا… اور اُس کا دل جیسے رک گیا۔
وہ وہی ویٹر تھا… جسے اُس نے سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا۔ لڑکے نے خاموشی سے کھانا اُس کے سامنے رکھا۔ “میں جانتا ہوں بھوک کیا ہوتی ہے…”
زوہیب کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ زندگی میں پہلی بار اُسے اپنی آواز چھوٹی محسوس ہوئی۔
“میں نے… تمہارے ساتھ بہت برا کیا تھا…” لڑکا ہلکا سا مسکرایا۔ “ہاں، کیا تھا۔ بہت ذلیل کیا تھا آپ نے۔ اُس دن میں گھر جا کر بہت رویا تھا۔ میری ماں نے کہا تھا، بیٹا… طاقتور کا غرور ہمیشہ نہیں رہتا۔”
زوہیب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان کی اصل قیمت اُس کی دولت نہیں، اُس کا رویہ ہوتا ہے۔
کچھ دن بعد وہ ایک مسجد کے باہر بیٹھا تھا۔ وہاں اُس نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا… وہی چوکیدار۔ زوہیب شرمندگی سے اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ “مجھے معاف کردو… میں انسان نہیں رہا تھا…”
بوڑھے نے لرزتے ہاتھ اُس کے سر پر رکھے۔ “بیٹا، جب انسان کے پاس سب کچھ آتا ہے نا… تب اُس کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ تم کامیاب ہوکر ناکام ہوگئے تھے۔”
وہ جملہ زوہیب کے سینے میں تیر کی طرح لگا۔ اس رات وہ دیر تک مسجد کے فرش پر بیٹھا روتا رہا۔ اُسے اپنی ماں یاد آئی، جو کہتی تھی، “بیٹا، کبھی کسی غریب کا دل مت توڑنا… کیونکہ غریب کے پاس بددعا کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا…”
مگر اُس نے کتنے دل توڑے تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ زوہیب نے دوبارہ زندگی شروع کی… مگر اس بار مختلف انداز میں۔ وہ اب ایک چھوٹے سے اسٹور پر کام کرتا تھا۔
سادہ کپڑے پہنتا۔ لوگوں سے جھک کر بات کرتا۔ کبھی کسی مزدور کو حقیر نہ سمجھتا۔ ایک دن اُس نے دیکھا کہ ایک امیر آدمی اپنے ڈرائیور پر چیخ رہا ہے۔
زوہیب خاموشی سے آگے بڑھا اور صرف اتنا کہا: “کسی انسان کو اُس کی غربت کی وجہ سے ذلیل مت کرو… زندگی کو صرف ایک لمحہ لگتا ہے سب کچھ بدلنے میں…”
امیر آدمی ہنس کر چلا گیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی زوہیب ہنسا کرتا تھا۔ زوہیب آسمان کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔ کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ غرور انسان کو اونچا نہیں کرتا… صرف تنہا کردیتا ہے۔ اور وقت… وقت سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔