حسان احمد
ایک بوڑھا باپ تھا۔ کمزور، نحیف، کانپتے ہاتھوں والا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی محبت زندہ تھی، جو اُس دن تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ شخص ساری زندگی مزدوری کرتا رہا۔ گرمی کی تپتی دوپہریں ہوں یا سردیوں کی یخ بستہ راتیں، اُس نے کبھی آرام نہیں کیا۔ کیونکہ اُس کا ایک خواب تھا… “میرا بیٹا بڑا آدمی بنے گا۔”
گاؤں کے لوگ اکثر اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ کہتے تھے: “خود کے پاؤں میں جوتا نہیں اور خواب شہر کے دیکھتا ہے۔” مگر وہ مسکرا دیتا۔ کیونکہ باپ کی محبت دنیا کے ہر طنز سے بڑی ہوتی ہے۔
وہ اپنے بیٹے کو روز اسکول چھوڑنے جاتا۔ بارش ہوتی تو خود بھیگ جاتا مگر اپنے بیٹے پر ایک قطرہ نہ گرنے دیتا۔ کئی راتیں ایسی گزریں جب اُس نے خود بھوکا رہ کر بیٹے کے لیے دودھ خریدا۔ اپنی دوائیں چھوڑ دیں… نئے کپڑے کبھی نہ لیے… بس ایک ہی ضد تھی: “میرا بیٹا کبھی محرومی نہ دیکھے۔”
وقت گزرتا گیا۔ بیٹا بڑا ہوگیا۔ پڑھ لکھ کر شہر چلا گیا۔ پھر اچھی نوکری مل گئی۔ بڑا گھر… بڑی گاڑی… بڑے لوگ… اور اِدھر گاؤں میں وہ بوڑھا باپ، اُسی ٹوٹی چارپائی پر بیٹھا ہر شام اپنے بیٹے کا انتظار کرتا۔
وہ ہر آنے والے سے ایک ہی سوال پوچھتا: “شہر سے آئے ہو؟ میرے بیٹے کو دیکھا ہے؟”
لوگ کہتے: “وہ تو بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔” یہ سن کر اُس بوڑھے کی آنکھیں چمک اُٹھتیں۔ جیسے اُس نے دنیا جیت لی ہو۔
پھر ایک دن اُس نے اپنے بیٹے کو فون کیا۔ بہت دیر بعد کال اُٹھی۔ “ہیلو؟”
بوڑھے باپ کی آواز کانپ رہی تھی۔ “بیٹا… بس دل چاہ رہا تھا تیری آواز سن لوں…”
اُدھر سے خاموشی آئی… پھر سرد لہجہ گونجا: “ابو میں میٹنگ میں ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں۔” کال کٹ گئی۔
وہ بوڑھا شخص کافی دیر تک فون کو دیکھتا رہا۔ جیسے اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ جس بیٹے کے لیے اُس نے اپنی پوری جوانی قربان کردی… اُس کے پاس آج دو منٹ بھی نہیں۔
اُس رات اُس نے کھانا نہیں کھایا۔ بس خاموشی سے آسمان کو دیکھتا رہا۔ شاید کچھ رشتے آواز نہیں کرتے… بس اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔
چند مہینے بعد بوڑھا شدید بیمار ہوگیا۔ گاؤں والوں نے بیٹے کو خبر دی۔ بیٹا آیا…
مگر تب، جب باپ کی سانسیں آخری حدوں کو چھو رہی تھیں۔ بوڑھے باپ نے لرزتے ہاتھ سے اپنے بیٹے کا چہرہ چھوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آہستہ سے بولا:
“بیٹا… معاف کردینا… شاید میں تجھے بہت زیادہ چاہتا تھا…”
یہ الفاظ سن کر بیٹے کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پہلی بار اُسے احساس ہوا کہ دنیا کی ہر کامیابی، ہر دولت، ہر عہدہ… اُس ایک شخص کے قدموں سے چھوٹا تھا… جو آج اُس سے ہمیشہ کے لیے دور جارہا تھا۔
بوڑھے باپ نے آخری بار اپنے بیٹے کا ہاتھ چوما… اور خاموش ہوگیا۔
کمرے میں عجیب سا سکوت پھیل گیا۔ وہ شخص جو ساری زندگی اپنے بیٹے کے لیے جیتا رہا… آج اُسی بیٹے کی بانہوں میں بے جان پڑا تھا۔
بیٹا چیختا رہا: “ابو اُٹھیں… دیکھیں میں آگیا ہوں… ابو پلیز ایک بار بات کریں…” مگر کچھ آوازیں قبر تک ساتھ جاتی ہیں… واپس نہیں آتیں۔ اُس دن پہلی بار اُس کامیاب انسان کو احساس ہوا… کہ انسان دنیا جیت سکتا ہے، لیکن اگر اُس کے ماں باپ کی دعائیں اُس کے ساتھ نہ ہوں… تو وہ اندر سے ہمیشہ خالی رہتا ہے۔
آج بھی وہ شخص اپنی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر جب کسی مزدور باپ کو اپنے بچے کا ہاتھ پکڑے دیکھتا ہے… تو اُس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ کیونکہ اُسے یاد آجاتا ہے… کہ کبھی ایک بوڑھا شخص بھی اُس کے لیے ایسے ہی دوڑا کرتا تھا۔
زندگی میں دولت کمالینا بڑی بات نہیں… بڑی بات یہ ہے کہ جب آپ کے ماں باپ بوڑھے ہوجائیں، تو اُن کے چہرے پر تنہائی نہ آنے دیں۔ کیونکہ وقت بہت ظالم ہے۔
یہ ایک بار جو چھین لیتا ہے… پھر پوری زندگی رونے کے باوجود واپس نہیں کرتا۔