وقاص بیگ
شہر کے قدیم بازار میں وسیم نام کا شخص کاروبار کرتا تھا۔ لباس نفیس، گفتگو میٹھی اور چہرے پر ہر وقت مصنوعی مسکراہٹ سجی رہتی۔ جو اسے پہلی بار دیکھتا، یہی سمجھتا کہ اس سے زیادہ شریف آدمی شاید ہی کوئی ہو۔ مگر اس کی ایک عادت ایسی تھی جس نے آہستہ آہستہ اس کی پوری شخصیت کو کھوکھلا کردیا تھا۔ وہ لوگوں سے قرض لیتا، وعدے کرتا، قسمیں کھاتا، لیکن واپس کرنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ شروع میں وہ واقعی مجبوری کے تحت قرض لیتا تھا۔ کبھی بچے کی فیس، کبھی ماں کی دوا، کبھی کاروبار کا نقصان۔ لوگ اس پر ترس کھاتے اور مدد کردیتے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے قرض کو سہارا نہیں بلکہ عادت بنالیا۔ وہ ایک سے پیسے لے کر دوسرے کو ٹالتا، پھر تیسرے سے قرض لے کر پہلے کو جزوی رقم دیتا اور باقی خود خرچ کردیتا۔ جب بھی کوئی تقاضا کرتا تو وہ بڑی مہارت سے بہانے تراش لیتا۔ "بھائی، اگلے ہفتے ضرور دے دوں گا۔”، "بس ایک ادائیگی آنی ہے، پھر سب سے پہلے آپ کا حق ادا کروں گا۔”، "اللہ گواہ ہے، میری نیت خراب نہیں۔”
لوگ اس کی باتوں پر یقین کرلیتے، لیکن ہفتے مہینوں میں اور مہینے سال میں بدل جاتے۔ رفتہ رفتہ پورا بازار اس سے تنگ آگیا۔ اب دکان دار اسے دیکھ کر نظریں چرانے لگتے۔ دوست فون اٹھانا چھوڑ دیتے۔ رشتہ دار اس کی آمد سے گھبراتے کہ کہیں پھر قرض نہ مانگ بیٹھے۔
لیکن وسیم کے دل پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ کہتا، "دنیا ایسے ہی چلتی ہے۔ تھوڑا بہت قرض تو سب پر ہوتا ہے۔” ایک دن اس کے محلے کا ایک بزرگ، حاجی عبدالرحمٰن، شدید بیمار ہوگیا۔ وہی حاجی صاحب جس نے برسوں پہلے وسیم کو دو لاکھ روپے دیے تھے تاکہ وہ اپنا کاروبار سنبھال سکے۔ حاجی صاحب نے کبھی سختی سے تقاضا نہیں کیا، صرف اتنا کہتے تھے، "بیٹا! جب آسانی ہو، میرا حق لوٹا دینا۔”
وسیم ہر بار نئی تاریخ دے دیتا۔ جب حاجی صاحب کی بیماری بڑھ گئی تو انہوں نے وسیم کو بلوایا۔ کمزور ہاتھوں سے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولے، "بیٹا، مجھے اپنے پیسوں کی نہیں، اپنے حق کی فکر ہے۔ میں دنیا سے چلا گیا تو یہ حساب تمہارے اور میرے درمیان نہیں رہے گا، اللہ کے سامنے ہوگا۔”
وسیم نے حسبِ عادت کہا، "حاجی صاحب، بس چند دن اور…” بزرگ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے دھیمی آواز میں کہا، "مجھے ڈر ہے کہ شاید میرے پاس چند دن نہیں بچے۔” یہ الفاظ سن کر بھی وسیم کا دل پوری طرح نہ پگھلا۔
چند دن بعد فجر کے وقت اعلان ہوا کہ حاجی عبدالرحمٰن انتقال کرگئے ہیں۔ نمازِ جنازہ میں پورا بازار موجود تھا۔ نماز کے بعد حاجی صاحب کا بڑا بیٹا لوگوں سے مل رہا تھا۔ وسیم بھی تعزیت کے لیے آگے بڑھا۔ بیٹے نے احترام سے کہا، "چچا، ابا اکثر آپ کے لیے دعا کرتے تھے۔ کہتے تھے، اللہ وسیم کو ہدایت دے، وہ میرا قرض ضرور واپس کرے گا۔” یہ جملہ وسیم کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ اس رات وہ سو نہ سکا۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس نے صرف لوگوں کے پیسے نہیں کھائے تھے بلکہ ان کا اعتماد بھی لوٹا تھا۔ اسی رات اس نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ ایک وسیع میدان میں کھڑا تھا۔ ہر طرف وہی لوگ تھے جن سے اس نے قرض لیا تھا۔ کوئی رسید ہاتھ میں لیے کھڑا تھا، کوئی حساب کی کاپی، کوئی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ سب کی نظریں اس پر تھیں، مگر زبان پر صرف ایک جملہ تھا: "ہمارا حق واپس کرو۔” وہ بھاگنا چاہتا تھا مگر قدم زمین میں دھنس گئے۔ اسی گھبراہٹ میں اس کی آنکھ کھل گئی۔
صبح کی اذان ہورہی تھی۔ اس نے وضو کیا، نماز پڑھی اور برسوں بعد پہلی مرتبہ سچے دل سے اللہ کے سامنے رو پڑا۔ "یااللہ! میں نے لوگوں کے حقوق مارے۔ مجھے معاف فرما، لیکن میں جانتا ہوں کہ جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کروں، صرف رونا کافی نہیں۔” نماز کے بعد اس نے اپنی الماری کھولی۔ سونے کی انگوٹھی، مہنگی گھڑی، اضافی موبائل، غیر ضروری فرنیچر… سب نکال کر الگ رکھ دیا۔ اسی دن اس نے اپنی موٹر سائیکل بھی فروخت کر دی۔ لوگ حیران تھے۔
وسیم ایک ایک شخص کے پاس جانے لگا۔ کسی کو پوری رقم دی، کسی سے معافی مانگی، کسی سے مہلت لی اور تحریری وعدہ کیا کہ فلاں تاریخ تک قرض ادا کردے گا۔ کئی لوگ اس کی بات سن کر حیران رہ گئے۔ ایک دکان دار نے کہا، "آج پہلی بار تمہارے چہرے پر سچائی نظر آرہی ہے۔”
وسیم نے جواب دیا، "پہلے میں قرض سے نہیں، اپنے ضمیر سے بھاگ رہا تھا۔” سب سے مشکل مرحلہ حاجی عبدالرحمٰن کے گھر جانا تھا۔ وہ ان کے بیٹے کے سامنے بیٹھا، روتے ہوئے پوری رقم اور کچھ اضافی رقم پیش کی۔ کہنے لگا، "یہ آپ کے والد کا حق تھا۔ میں نے بہت دیر کردی۔ اگر ممکن ہو تو مجھے معاف کردیجیے اور میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ میرے اس گناہ کو معاف فرما دے۔”
حاجی صاحب کے بیٹے کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ اس نے رقم لی اور کہا، "کاش آپ یہ رقم ابا کی زندگی میں واپس کردیتے، وہ بہت خوش ہوتے۔” یہ جملہ وسیم کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ چند برس بعد وسیم کا کاروبار دوبارہ چل نکلا، مگر اس کی زندگی بدل چکی تھی۔
اب اگر کوئی ضرورت مند اس کے پاس قرض مانگنے آتا تو وہ پہلے یہی کہتا، "قرض لینا آسان ہے، لیکن اس کا بوجھ انسان کی نیند، عزت اور آخرت تینوں چھین لیتا ہے۔ اگر واقعی مجبوری ہو تو ضرور لو، مگر واپس کرنے کی نیت اور کوشش کبھی نہ چھوڑنا۔” بازار کے لوگ جو کبھی اس سے نفرت کرتے تھے، اب اس کی دیانت کی مثال دینے لگے۔
وسیم اکثر نوجوانوں کو ایک بات ضرور سناتا تھا: "میں نے زندگی میں دو غلطیاں کیں۔ پہلی، قرض لینا نہیں… بلکہ قرض واپس نہ کرنا۔ دوسری، توبہ میں بہت دیر کرنا۔ اگر میں پہلے ہی اپنے رب سے ڈر جاتا تو نہ لوگوں کی بددعائیں لیتا، نہ اپنے ضمیر کا سکون کھوتا۔”
سبق: قرض لینا گناہ نہیں، لیکن استطاعت کے باوجود قرض واپس نہ کرنا ظلم ہے۔ انسان دولت چرا کر شاید کچھ عرصہ فائدہ اٹھا لے، مگر دوسروں کے حقوق کھا کر نہ دل کا سکون حاصل ہوتا ہے، نہ عزت باقی رہتی ہے اور نہ ہی آخرت میں جواب دہی سے بچا جاسکتا ہے۔ سچی توبہ صرف آنسو بہانے سے نہیں ہوتی، بلکہ حق دار کا حق واپس کرنے اور اپنی غلطی کی تلافی کرنے سے ہوتی ہے۔