دُنیا کو انٹارکٹیکا میں ایک آتش فشاں نے ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے کیونکہ یہ آتش فشاں آگ کے ساتھ سونا بھی اُگلتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انٹارکٹیکا کے ماؤنٹ ایریبس زمین پر موجود دیگر آتش فشاؤں سے بالکل مختلف ہے۔
دنیا کے سب سے جنوبی فعال آتش فشاں میں نہ صرف مستقل لاوا جھیل ہے بلکہ یہ وہ واحد آتش فشاں ہے جو خالص سونے کے چھوٹے چھوٹے کرسٹل فضا میں اگلتا ہے۔
اسی حوالے سے 1991 میں جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں ایک تحقیق شائع ہوئی تھی جس کے مطابق ماؤنٹ ایریبس روزانہ قریباً 80 گرام مائیکرو اسکوپک سونے کے کرسٹل کا اخراج کرتا ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سونا گرم آتش فشاں گیسوں میں اوپر فضا کی جانب جاتا ہے جو کلورین یا سلفر سے بھرپور مرکبات سے منسلک ہوتا ہے، جیسے جیسے گیسیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، سونا الگ ہوکر کرسٹل بن جاتا ہے۔
تاہم ماؤنٹ ایریبس دوسرے آتش فشاں سے مختلف برتاؤ کرتا ہے اور یہ ایک ایسا معمہ ہے جو حل طلب ہے۔
اس کے لیے محققین نے دو ممکنہ وضاحتیں تجویز کی ہیں، ایک خیال یہ ہے کہ سونا براہ راست کلورین سے بھرپور آتش فشاں گیسوں سے ٹھنڈا ہوکر کرسٹلائز ہوتا ہے، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشکل ہے، کیونکہ گیسوں میں سونا بہت کم ہوتا ہے جب کہ دوسرا خیال ہے کہ آتش فشاں گیسوں کے ساتھ ہوا میں اٹھنے سے پہلے کرسٹل آتش فشاں کی لاوا جھیل کی سطح پر آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔
اس دریافت کو تین دہائیوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا، تاہم سائنس دان ابھی تک قطعی طور پر نہیں جان سکے کہ ماؤنٹ ایریبس اپنے خوردبین سونے کے کرسٹل کیسے تخلیق اور اگلتا ہے۔