حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، باضابطہ اعلان پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی میں متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جسے حتمی شکل دینے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے آٹو پالیسی کا دورانیہ پانچ سال کے بجائے کم از کم دس سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی میعاد بڑھاکر پانچ سال کرنے کی تجویز کی بھی مخالفت کی۔
آٹو مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی سطح پر گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ متاثر ہوگی اور اگر حکومت پانچ سال پرانی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت دینا چاہتی ہے یا گاڑیوں کی درآمد سے متعلق جو بھی پالیسی اختیار کرنا چاہتی ہے۔
اس بارے میں واضح اعلان کرے کہ حکومت کیا مینوفیکچرنگ کے بجائے ٹریڈنگ کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی جانب سے آٹو سیکٹر میں نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے آٹو سیکٹر کو کھولنے کی تجویز دی جارہی ہے اور اسی کے تحت گاڑیوں کے لیے ڈیوٹی ٹیکس کے اسٹرکچر پر نظرثانی کی جارہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے نئی پانچ سالہ آٹوپالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے اور مسودے کو حتمی شکل دینے کیلئے اسٹیک ہولڈرز سے حتمی مشاورت کی جارہی ہے اور پالیسی پر آئی ایم ایف کو بھی آن بورڈ لیا جارہا ہے۔
اس کے بعد پالیسی منظوری کیلئے پیش کی جائے گی، منظوری کے بعد نئی آٹوپالیسی کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی میں درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیز ختم کرنے کی تجویز ہے اور پانچ سال کے دوران کسٹم ڈیوٹی 15 فیصد تک لائی جائے گی، سیفٹی اسٹینڈرڈ اور لائسنگ کا نظام سخت کرنے کی بھی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ رواں ماہ کے آخر تک آئی ایم ایف سے شیئر کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے گرین سگنل ملنے پر پالیسی وفاقی کابینہ میں پیش ہوگی۔