آئی پی پیز کا کھیل

غلام مصطفیٰ

پاکستان میں توانائی کا شعبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بدانتظامی، غیر مؤثر پالیسیوں اور مہنگے معاہدوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں سامنے آنے والے انکشافات کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کو سالانہ 3400 ارب روپے تک کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک کا توانائی ڈھانچہ اصلاحات کا متقاضی ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب پاکستان پہلے ہی شدید مالی بحران، بڑھتی مہنگائی اور عوامی سطح پر بجلی کے ناقابل برداشت نرخوں کا سامنا کر رہا ہے۔
آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سب سے بڑا مسئلہ “کپیسٹی پیمنٹس” کا نظام ہے۔ اس نظام کے تحت حکومت کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ بجلی استعمال کرے یا نہ کرے، ہر صورت میں نجی پاور کمپنیوں کو مقررہ ادائیگیاں کرے۔ یہ ماڈل ابتدا میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے اپنایا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک مالی بوجھ بن گیا ہے جس کا خمیازہ براہ راست عوام کو مہنگی بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف گھریلو صارفین کے بجلی کے بل آسمان سے باتیں کررہے ہیں بلکہ صنعتی شعبہ بھی شدید متاثر ہورہا ہے، جس سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں جام شورو پاور پلانٹ سے متعلق اوور انوائسنگ کے الزامات نے معاملے کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ اگر واقعی ایسے منصوبوں میں مالی بے ضابطگیاں اور غیر شفاف طریقے سے اخراجات بڑھائے گئے ہیں تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ قومی خزانے کے ساتھ سنگین زیادتی کے مترادف ہے۔ ایسے معاملات میں شفاف اور آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ ذمے داران کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں کی روک تھام ہو سکے۔
دوسری جانب نیپرا حکام کا یہ مؤقف کہ کپیسٹی اور انرجی ادائیگیاں ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ کمزوریاں نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں اور ان میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے آئی پی پیز کی تمام ادائیگیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرنا ایک مثبت اور قابلِ تعریف قدم ہے، تاہم صرف رپورٹس اور اجلاس کافی نہیں ہوں گے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان رپورٹس کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر ازسرِنو نظرثانی کرے اور ایسے معاہدے کیے جائیں جو ملکی معیشت اور عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔
مزید یہ کہ توانائی کے شعبے میں دیرپا حل کے لیے متبادل اور سستی توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور مقامی وسائل پر زیادہ توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سورج اور ہوا کی وافر توانائی موجود ہے، وہاں مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ناگزیر ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جب تک توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات، شفافیت اور احتساب کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک نہ تو بجلی سستی ہوسکتی ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ موجودہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت فوری، مؤثر اور طویل المدتی اصلاحات نافذ کرے، تاکہ توانائی کا شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کے بجائے اس کا محرک بن سکے۔