فہیم سلیم
ایک گاؤں میں حمزہ نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن اس کے خواب بہت بڑے تھے۔ اس کے والد ایک مزدور تھے اور دن بھر سخت محنت کرکے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ مالی مشکلات کے باوجود حمزہ نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ زندگی میں کامیابی صرف دولت سے نہیں بلکہ اچھے کردار، محنت اور دوسروں کی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ حمزہ کے گاؤں میں اکثر لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مدد سے گریز کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں میں ترقی کی رفتار بہت سست تھی۔ حمزہ کو یہ سب دیکھ کر دُکھ ہوتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر لوگ ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو پورا ماحول بدل سکتا ہے۔ ایک دن گاؤں کے بزرگ استاد عبدالرحمٰن نے اپنے شاگرد رہنے والے نوجوانوں کو جمع کیا اور سوال پوچھا: "اگر ایک کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہو تو اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟”
کسی نے کہا کہ شور مچانا چاہیے، کسی نے کہا کہ اندھیرے کو برا بھلا کہنا چاہیے جب کہ کسی نے کہا کہ اندھیرے سے لڑنا چاہیے۔
استاد مسکرائے اور بولے: "نہیں، صرف ایک چراغ جلانا کافی ہوتا ہے۔”
یہ بات حمزہ کے دل میں اتر گئی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اپنے گاؤں میں ایک چراغ بن جائے تو شاید دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی آسکے۔ اگلے دن سے اس نے اپنے رویے میں مزید بہتری لانا شروع کردی۔ وہ صبح سویرے اٹھتا، والد کی مدد کرتا، پھر اسکول جاتا اور شام کو گاؤں کے چھوٹے بچوں کو مفت پڑھاتا۔ شروع میں لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ "خود کے پاس کچھ نہیں اور دوسروں کو پڑھانے چلا ہے!” "اس سے کیا فرق پڑ جائے گا؟” لیکن حمزہ نے کسی کی بات کا برا نہ مانا۔ وہ جانتا تھا کہ اچھے کام کا پھل فوراً نہیں ملتا۔
چند ماہ بعد وہ بچے جو اس کے پاس پڑھنے آتے تھے، اسکول میں نمایاں کارکردگی دکھانے لگے۔ اساتذہ بھی حیران تھے۔ آہستہ آہستہ والدین نے محسوس کیا کہ حمزہ واقعی خلوص سے کام کررہا ہے۔ اب گاؤں کے مزید بچے اس کے پاس آنے لگے۔ ایک دن بارشوں کے موسم میں گاؤں کے ایک غریب خاندان کا گھر گر گیا۔ لوگ تماشا دیکھتے رہے، لیکن حمزہ فوراً مدد کے لیے پہنچ گیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو اکٹھا کیا اور سب نے مل کر اس خاندان کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کیا۔ اس واقعے نے گاؤں کے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا۔
لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ دوسروں کی مدد کرنے سے دل کو جو سکون ملتا ہے، وہ کسی دولت سے نہیں خریدا جاسکتا۔ وقت گزرتا گیا۔ حمزہ کی چھوٹی چھوٹی نیکیاں ایک تحریک بن گئیں۔ اب گاؤں کے نوجوان صفائی مہم چلاتے، غریب طلبہ کی مدد کرتے اور بزرگوں کا خیال رکھتے تھے۔ ماحول بدلنے لگا۔ جہاں پہلے نفرت اور حسد تھا، وہاں محبت اور تعاون نے جگہ لینا شروع کردی۔ ایک دن استاد عبدالرحمٰن نے حمزہ کو بلایا اور کہا: "بیٹا، یاد ہے میں نے چراغ کی مثال دی تھی؟” حمزہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
استاد بولے: "تم نے ثابت کردیا کہ ایک چراغ واقعی پورے ماحول کو روشن کرسکتا ہے۔” حمزہ نے عاجزی سے جواب دیا: "استاد جی، میں نے صرف پہلا چراغ جلایا تھا، اصل روشنی تو ان سب لوگوں نے پھیلائی ہے جو اب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔”
کئی سال بعد وہی گاؤں پورے علاقے میں اپنی تعلیم، صفائی اور باہمی تعاون کی وجہ سے مشہور ہوگیا۔ دوسرے گاؤں کے لوگ بھی وہاں آتے اور جاننے کی کوشش کرتے کہ یہ تبدیلی کیسے آئی۔ جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا: "یہ سب ایک نوجوان کی چھوٹی سی نیکی سے شروع ہوا تھا۔”
اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ حمزہ نے کبھی دولت، شہرت یا تعریف حاصل کرنے کے لیے کام نہیں کیا۔ اس نے صرف یہ سوچ کر نیکی کی کہ شاید کسی کی زندگی آسان ہوجائے۔ اللہ نے اس کی نیکیوں کو قبول کیا اور انہیں پورے معاشرے کی بہتری کا ذریعہ بنادیا۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ دنیا کو بدلنے کے لیے بڑی طاقت، بڑا عہدہ یا بہت زیادہ دولت چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی ایک مسکراہٹ، ایک اچھے لفظ، ایک مدد کے ہاتھ یا ایک چھوٹی سی نیکی سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔ اندھیرے کو کوسنے کے بجائے ایک چراغ جلانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ زندگی کا اصل حُسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے، جو شخص لوگوں کے دلوں میں امید جگاتا ہے، وہ خود بھی سکون اور خوشی حاصل کرتا ہے۔ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ آج اگر ہم کسی ایک انسان کی مدد کریں تو ممکن ہے کل وہی انسان سیکڑوں لوگوں کی زندگیوں میں خوشی بانٹنے کا سبب بن جائے۔ اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں: اچھے کردار، محنت، صبر، خدمتِ خلق اور مثبت سوچ سے نہ صرف اپنی زندگی بدلی جاسکتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں خیر اور بھلائی کی روشنی پھیلائی جاسکتی ہے۔ ایک چراغ جلائیے، ممکن ہے اسی کی روشنی سے کئی زندگیاں روشن ہوجائیں۔ نیکی، خدمتِ خلق، مثبت سوچ اور مستقل مزاجی کی چھوٹی کوششیں بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔