مہروز احمد
پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچ کروز میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان دفاعی میدان میں تیزی سے جدید خطوط پر ترقی کررہا ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک میزائل کے کامیاب تجربے تک محدود نہیں، بلکہ یہ قومی خودمختاری، سائنسی مہارت، عسکری تیاری اور دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک مضبوط قدم بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی دفاعی نظام کا لازمی جزو بن چکی ہے، پاکستان کا اس نوعیت کے جدید میزائل سسٹم کی تیاری میں کامیاب ہونا ایک بڑی پیش رفت تصور کی جارہی ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق فتح 4 جدید ایوی اونکس، جدید نیوی گیشنل سسٹم اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو اسے طویل فاصلے تک انتہائی درستی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ موجودہ دور میں جنگیں صرف طاقت کے بل پر نہیں جیتی جاتیں، بلکہ رفتار، درستی، ٹیکنالوجی اور فوری ردِعمل فیصلہ کن حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنے دفاعی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ پاکستان بھی اسی سمت میں پیش قدمی کررہا ہے اور فتح 4 کا کامیاب تجربہ اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔
اس تربیتی تجربے کا مقصد صرف میزائل فائر کرنا نہیں تھا، بلکہ مختلف ذیلی نظاموں، تکنیکی صلاحیتوں، آپریشنل تیاری اور جدید دفاعی آلات کی مؤثر کارکردگی کو جانچنا بھی تھا۔ کامیاب تجربہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سائنس دان، انجینئرز اور دفاعی ماہرین جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان بتدریج دفاعی میدان میں بیرونی انحصار کم کرکے خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی خود کفالت کسی بھی ملک کی سلامتی اور خودمختاری کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، کیونکہ جدید دنیا میں وہی ممالک زیادہ مضبوط تصور کیے جاتے ہیں جو اپنی دفاعی ضروریات خود پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
فتح سیریز کے میزائل پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال، بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی چیلنجز اور مختلف خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے ایک مضبوط اور جدید دفاعی نظام ناگزیر ہوچکا ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کے دفاعی اثاثے کسی جارحیت کے لیے نہیں بلکہ امن کے تحفظ، قومی سلامتی کے استحکام اور دشمن کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے ہیں۔ فتح 4 کا کامیاب تجربہ بھی اسی دفاعی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی صرف عسکری طاقت میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات سائنس، تحقیق، انجینئرنگ اور قومی معیشت تک بھی پہنچتے ہیں۔ جب کسی ملک کے سائنس دان اور انجینئر اس نوعیت کے پیچیدہ منصوبوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس سے نوجوان نسل میں بھی سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کے دفاعی اداروں نے گزشتہ کئی برسوں میں میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹمز، جنگی سازوسامان اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا اعتراف کیا جارہا ہے۔
صدرِ مملکت، وزیراعظم، عسکری قیادت اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے اس کامیابی پر مبارک باد دینا اس بات کی علامت ہے کہ قومی دفاع کے معاملے پر پوری قوم اور ریاستی ادارے متحد ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے جب کہ سائنس دانوں اور انجینئرز نے اپنی محنت، قابلیت اور لگن سے ملک کو دفاعی میدان میں مضبوط بنانے میں اہم حصہ ڈالا ہے۔ یقیناً فتح 4 کے کامیاب تجربے کے پیچھے کام کرنے والے تمام ماہرین خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دے گی کہ پاکستان ایک ذمے دار، پُرامن مگر مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ مستقبل میں بھی اگر اسی جذبے، تحقیق اور قومی یکجہتی کے ساتھ دفاعی منصوبوں پر کام جاری رکھا گیا تو پاکستان مزید ترقی کرے گا اور دفاعی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرتا رہے گا۔