بلال ظفر سولنگی
پاکستان اور روس کے درمیان گزشتہ روز غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، انسداد منشیات اور غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی واپسی کے لیے اشتراک کار بڑھانے کے لیے ہونے والا معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے، بلکہ یہ اس وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے، جس کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر کرغزستان میں ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ سے ملاقاتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ خطے کے ممالک اب سرحد پار جرائم، دہشت گردی، منشیات اور غیر قانونی نقل مکانی جیسے مسائل کو تنہا نہیں بلکہ مشترکہ ذمے داری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں غیر قانونی امیگریشن صرف ایک ملک کا اندرونی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ بین الاقوامی چیلنج بن چکی ہے جو معاشی دباؤ، سیکیورٹی خطرات اور سماجی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور جغرافیائی حساسیت کے باعث کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں، ان کے لیے یہ امر نہایت اہم ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی اور سفارتی تعاون کو مزید مؤثر بنائیں۔ روس کے ساتھ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف خطے کے بڑے ریاستی کردار ہیں بلکہ سیکیورٹی اور انسداد جرائم کے حوالے سے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ سے ملاقاتیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جن میں خاص طور پر افغانستان کی صورت حال، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور منشیات کی پیداوار جیسے حساس معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، بلکہ اس سے غیر قانونی نقل و حرکت اور منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بھی تقویت پاتے ہیں۔ اس تناظر میں علاقائی ممالک کا یہ اتفاق کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے، ایک مثبت اور دیرینہ ضرورت ہے۔
اجلاس میں ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق بھی ایک عملی قدم ہے۔ محض بیانات یا سفارتی ملاقاتیں کافی نہیں ہوتیں، جب تک انہیں عملی اقدامات اور ادارہ جاتی تعاون میں نہ بدلا جائے۔ ورکنگ گروپس نہ صرف معلومات کے تبادلے کو بہتر بناتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی مضبوط کرتے ہیں، جو اس نوعیت کے پیچیدہ جرائم سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کے لیے یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے کو صرف سرحدی سختی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے اندرونی اصلاحات، روزگار کے مواقع کی بہتری، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خاتمے اور عوامی آگاہی کی بھی ضرورت ہے۔ اسی طرح واپس آنے والے شہریوں کی بحالی کے لیے جامع پالیسیوں کی تشکیل بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ افراد دوبارہ غیر قانونی راستوں کی طرف نہ جائیں۔ انسداد منشیات کے حوالے سے ہونے والے معاہدے بھی انتہائی اہم ہیں کیونکہ منشیات کی تجارت نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے بلکہ یہ دہشت گردی اور منظم جرائم کی مالی معاونت کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تعاون اگر مؤثر انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اس سے خطے میں منشیات کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک کمزور کیا جا سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایس سی او جیسے پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے معاہدے اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔ اب ریاستیں یہ تسلیم کررہی ہیں کہ تنہائی میں کوئی بھی ملک ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اجتماعی سلامتی، معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ آپریشنز ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور روس سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان شاء اللہ اس حوالے سے معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے اور صورت حال بہتر رُخ اختیار کرے گی۔