محمد راحیل وارثی
سلیم احمد کی عمر 55 برس تھی۔ دولت کی کمی نہیں تھی۔ شہر کے پوش علاقے میں بنگلہ، کئی گاڑیاں، کاروبار، شہرت… سب کچھ تھا۔ مگر ایک چیز روز بروز اس سے دور ہوتی جارہی تھی… سکون۔
ہر صبح جب وہ اپنے گھر کی بالکونی میں آتا تو سامنے دھویں کا ایک بادل اس کا استقبال کرتا۔ کبھی فیکٹریوں کا دھواں، کبھی گاڑیوں کا شور، کبھی جلتے ہوئے کچرے کی بدبو۔ اسے لگتا جیسے شہر زندہ نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہو۔ ایک دن اس کا آٹھ سالہ پوتا حسن سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتال پہنچ گیا۔ ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھتے ہوئے کہا: "بیماری صرف بچے کی نہیں، ماحول کی بھی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو آنے والے برسوں میں صاف ہوا سب سے مہنگی چیز ہوگی۔” یہ الفاظ سلیم احمد کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے۔
اسی شام وہ فیملی کے ہمراح شہر سے باہر اپنے آبائی گاؤں چلا گیا۔ گاؤں کے کنارے ایک بہت پرانا برگد کا درخت تھا۔ بچپن میں وہ اپنے والد کے ساتھ اکثر اس کے نیچے بیٹھا کرتا تھا۔ آج بھی وہی درخت کھڑا تھا، مگر اردگرد کے سیکڑوں درخت غائب تھے۔ وہ خاموشی سے اس برگد کے نیچے بیٹھ گیا۔ اچانک ایک بوڑھا شخص لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا۔ "بیٹا! اس درخت کو پہچانا؟” سلیم نے چونک کر دیکھا۔
"جی… یہ تو ہمارے بچپن کا درخت ہے۔” بوڑھا مسکرایا۔ "یہ صرف درخت نہیں، تمہارے والد کی جانب سے لگایا گیا صدقۂ جاریہ ہے۔”
سلیم حیران رہ گیا۔ بوڑھے نے بتایا: "تمہارے والد نے یہ درخت برسوں پہلے لگایا تھا۔ اس کی چھاؤں میں ہزاروں مسافر آرام کرچکے ہیں۔ پرندوں نے یہاں گھونسلے بنائے، جانوروں نے گرمی سے پناہ لی، کسانوں نے سستانا سیکھا اور کتنے ہی بچوں نے اس کے سائے میں کھیل کر اپنا بچپن گزارا۔”
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "تمہارے والد دنیا سے چلے گئے، مگر ان کا ایک عمل آج بھی زندہ ہے۔”
یہ سن کر سلیم کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسی لمحے اسے رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث یاد آئی کہ: "جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس سے انسان، پرندہ یا جانور کھاتے ہیں تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔”
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ ایک درخت صرف لکڑی نہیں، عبادت بھی بن سکتا ہے۔ وہ واپس شہر لوٹا، مگر اس بار اس کی سوچ بدل چکی تھی۔
اس نے اپنے نئے پلازے کا نقشہ منگایا۔ سب سے پہلے پارکنگ کم کی… اور درختوں کی جگہ بڑھا دی۔ لوگوں نے مذاق اڑایا۔ "سلیم صاحب! یہاں دکانیں بنا لیتے تو کروڑوں کمالیتے۔”
وہ صرف مسکرا دیتا۔ "میں اس زمین پر صرف دولت نہیں، اپنی آخرت بھی بونا چاہتا ہوں۔” اس نے اپنی کمپنی میں ایک نیا اصول نافذ کیا۔
ہر نئے ملازم کی تقرری پر ایک پودا لگایا جائے گا۔ ہر شادی کی تقریب میں تحفے کے ساتھ ایک پودا دیا جائے گا۔ ہر بچے کی پیدائش پر ایک درخت لگایا جائے گا۔ پہلے لوگ ہنسے… پھر سوچنے لگے… اور چند ہی برسوں میں پورا شہر اس مہم کا حصہ بن گیا۔ سڑکیں بدلنے لگیں۔ گرمی کی شدت کم محسوس ہونے لگی۔ پرندے واپس آنے لگے۔
فضا میں تازگی گھلنے لگی۔ ایک روز ایک صحافی نے سلیم احمد سے پوچھا: "آپ نے اتنا بڑا کام کیوں شروع کیا؟”
اس نے آہستہ سے جواب دیا: "میں نے اپنے پوتے کو آکسیجن کے لیے تڑپتے دیکھا تھا۔ اس دن سمجھ آیا کہ انسان دولت کے بغیر کچھ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، مگر درختوں کے بغیر نہیں۔”
چند سال بعد سلیم احمد بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ لوگ اس کے جنازے میں شریک تھے۔ لیکن اس کے بعد بھی اس کے لگائے ہوئے ہزاروں درخت خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتے رہے۔ کسی کو سایہ دیتے… کسی کو آکسیجن… کسی پرندے کو گھر… کسی مسافر کو آرام… اور شاید ہر جھومتی ہوئی شاخ اپنے لگانے والے کے نامۂ اعمال میں ایک نئی نیکی بھی لکھوا رہی تھی۔
آج ہم ترقی کے نام پر جنگلات کاٹ رہے ہیں۔ کنکریٹ کے جنگل کھڑے کررہے ہیں۔ اپنے بچوں سے صاف ہوا چھین رہے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ بیماریاں کیوں بڑھ رہی ہیں، گرمی کیوں بڑھ رہی ہے، بارشیں بے ترتیب کیوں ہوگئی ہیں۔ یاد رکھیے… ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار نہ کوئی مشین ہے، نہ کوئی قانون۔ صرف پودے اور درخت ہیں۔ شاید یہی وہ عمل ہے جو دنیا کو بھی بچا سکتا ہے اور آخرت کو بھی سنوار سکتا ہے۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اپنے بچوں کے لیے بینک بیلنس چھوڑنا چاہتے ہیں… یا ایسی زمین جہاں وہ سکون سے سانس لے سکیں؟ یاد رکھیے، قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اللہ کا حکم نہ ہو، لیکن اگر انسان نے درختوں سے دشمنی جاری رکھی تو بہت سے لوگوں کے لیے زندگی ضرور قیامت بن جائے گی۔
آئیے، آج عہد کریں… کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔ ممکن ہے کل یہی پودا کسی اجنبی کو سایہ دے، کسی پرندے کو آشیانہ دے، کسی بچے کو سانس دے… اور آپ کے لیے قبر میں روشنی کا سبب بن جائے۔