غلام مصطفیٰ
کچھ لوگ سیاسی بغض میں پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ حکومت عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مقابلے میں بہت مہنگا پٹرول بیچ رہی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس اور بالکل مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان زیادہ تر تیل باہر سے خریدتا ہے، اس لیے عالمی قیمت، ڈالر، جنگ اور جہاز کے خرچ کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ اگر دکان دار کو دودھ باہر سے مہنگا ملے، تو وہ اسے پرانی قیمت پر نہیں بیچ سکتا۔ پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔
کے پی ایم جی کے جولائی 2026 کے آئل پرائسنگ جائزے (Regional Comparison) کے مطابق پاکستان قریباً 78 فیصد خام تیل اور 70 فیصد پٹرول بیرونِ ملک سے منگواتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں پٹرول بنگلادیش، سری لنکا اور ترکیہ سے سستا جب کہ بھارت کے برابر ہے۔ اس لیے پاکستان کو خطے میں سب سے مہنگا پٹرول فروخت کرنے والا ملک کہنا حقائق کے خلاف ہے۔
کے پی ایم جی کی رپورٹ میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ کیونکہ پاکستان تیل پیدا کرنے والا نہیں بلکہ تیل خریدنے والا ملک ہے، لہٰذا اس کا سعودی عرب اور قطر سے موازنہ درست نہیں، کیونکہ وہ اپنے ملک سے تیل نکالتے اور عوام کو سرکاری سطح پر رعایت دینے کی اہلیت اور معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے پہلے خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ بحران کے دوران یہ اوسط 105 ڈالر اور ایک وقت میں 170 ڈالر تک پہنچ گئی۔ حکومت نے یہ قیمت نہیں بڑھائی، یہ عالمی منڈی میں غیر معمولی اضافی تھا۔
ڈیزل بنانے کا عالمی خرچ بھی بہت تیزی سے بڑھا۔ جنگ سے پہلے یہ اضافی خرچ قریباً 14 ڈالر فی بیرل تھا، جو بحران میں ایک وقت پر 138 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی لیے خام تیل کچھ سستا ہونے کے باوجود ڈیزل فوراً سستا نہیں ہوتا۔ کے پی ایم جی کے تجزیے کے مطابق مڈل ایسٹ کی صورت حال کشیدہ ہونے سے پہلے خام تیل کی اوسط قیمت قریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ بحران کے دوران یہ اوسط 105 ڈالر ہوگئی اور ایک موقع پر 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ یہ اضافہ حکومتِ پاکستان نے نہیں، مڈل ایسٹ کی صورت حال، امریکا ایران کشیدگی اور سپلائی کے بحران نے پیدا کیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا بڑا حصہ عالمی خریداری کے اخراجات ہیں۔ اس میں تیل کی عالمی قیمت، جہاز کا کرایہ، انشورنس، کسٹم اور ڈالر کی قیمت شامل ہوتی ہے۔حکومت صرف اپنی مرضی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے نہیں کرسکتی۔حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے عالمی منڈی سے منسلک، شفاف اور خودکار نظام اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو دنیا کے بہت سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے۔
اب اوگرا عالمی قیمتوں کو دیکھ کر روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت طے کرے گی اور اسے اپنی ویب سائٹ پر عوام کے سامنے رکھے گی۔ حکومت کا براہِ راست اختیار کم ہوگا اور نظام زیادہ شفاف ہوگا۔
یہ نیا نظام صرف اضافہ نہیں، کمی بھی خودکار طور پر عوام تک پہنچائے گا۔ 13 جون کو پٹرول 373 روپے 78 پیسے اور ڈیزل 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر تھا۔ عالمی نرخ کم ہوئے تو 20 جون کو پٹرول 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل 311 روپے 47 پیسے ہوگیا۔ یعنی پٹرول میں 74 روپے 28 پیسے اور ڈیزل میں 67 روپے 31 پیسے فی لیٹر کمی عوام تک منتقل کی گئی۔ اگر قیمت صرف حکومت کی مرضی سے بڑھتی، تو اتنا بڑا ریلیف عوام تک کیسے پہنچایا گیا؟
مڈل ایسٹ کی صورت حال اور عالمی سطح پر مہنگے تیل کے باوجود پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو خطے کے کئی ممالک سے کم یا برابر رکھا ہے۔ جو ایک بڑا چیلنج تھا، جس میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ناکام نظر آئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ قیمت کا حساب شفاف ہوگا، عالمی سطح پر کمی کا فائدہ عوام تک پہنچے گا، سپلائی محفوظ رکھی جائے گی اور ناجائز منافع خوری یا مصنوعی قلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بحران عالمی ہے، مگر عوام کا تحفظ حکومت کی قومی ذمے داری ہے، جسے یقینی بنایا جائے گا۔