پاکستان کا امن کوششیں جاری رکھنے کا عزم

دانیال جیلانی

پاکستان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا جنگ بندی برقرار رکھیں، پاکستان سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر دی گئی حالیہ بریفنگ خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم اور قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عدم اعتماد اور سیاسی تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، پاکستان کا سہولت کاری کا کردار ایک مثبت اور فعال سفارتی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد ادوار اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جن میں 24 گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی، جن کی قیادت اہم سیاسی شخصیات نے کی۔ یہ امر خاص طور پر اہم ہے کہ پاکستان کی درخواست پر فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی بلکہ اسلام آباد آ کر مذاکرات میں حصہ لینے پر بھی رضامندی دکھائی۔ پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ مذاکرات ممکن ہو سکے۔ اس عمل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے بھی معاونت فراہم کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سول اور عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی جنگ بندی یا مکالمے کو فوری طور پر دیرپا امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا آغاز ہمیشہ چھوٹے مگر اہم قدموں سے ہوتا ہے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات اسی سمت ایک پیش رفت کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر خود کو خطے میں ایک ذمے دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، جو تنازعات کو بڑھانے کے بجائے انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نہ صرف اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا بلکہ مستقبل میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے اور مکالمے کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس سفارتی کوشش کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے خطے کے دیگر اہم ممالک کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے اسحاق ڈار کے روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو کسی محدود دائرے میں نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ایک وسیع تر علاقائی سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنا اور انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد کی کوششوں کو علاقائی سطح پر اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی کردار کی توثیق بھی ہے۔ تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل نہایت حساس اور نازک ہوتا ہے۔ کسی بھی فریق کی جانب سے معمولی خلاف ورزی یا سیاسی دباؤ اس پورے عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے پاکستان سمیت تمام متعلقہ فریقین پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کو مستقل مزاجی اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
پاکستان کے لیے یہ ایک نازک مگر اہم موقع ہے کہ وہ عالمی سفارت کاری میں اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کرے۔ ایک طرف یہ کردار اس کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بناسکتا ہے، تو دوسری جانب اسے یہ ثابت کرنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ پاکستان صرف خطے کا ایک ریاستی فریق نہیں بلکہ امن کے قیام میں ایک سہولت کار کے طور پر بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ خطے کی موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جائے۔ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتی ہیں بلکہ معاشی اور سماجی ترقی کو بھی دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی یہ کوشش کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری رہے، ایک مثبت سفارتی سوچ کی عکاس ہے۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر یہ کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں اور فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھول سکتی ہیں۔