بلال ظفر سولنگی
پاکستان کی معیشت کی جڑیں آج بھی کھیت، کھلیان، کسان اور دیہی معیشت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی لیے اسے زرعی ملک گردانا جاتا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، مگر افسوس کہ ہماری زرعی صلاحیت ہمیشہ اس معاشی قوت میں تبدیل نہیں ہوسکی جس کی ملک کو ضرورت ہے۔ پیداوار کے باوجود عالمی منڈی میں ہماری رسائی محدود رہی، برآمدی معیار اور ویلیو ایڈیشن کے میدان میں ہم کئی مواقع سے محروم رہے اور کسان کو اس کی محنت کا وہ صلہ نہ مل سکا جس کا وہ مستحق تھا۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی و غذائی شعبے میں تعاون کا نیا عزم امید کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک نے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات تین ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ محض ایک تجارتی ہدف نہیں بلکہ پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے ایک اہم موقع بھی ہے۔ اگر اس ہدف کو محض اعداد تک محدود رکھنے کے بجائے ایک جامع زرعی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے تو اس کے اثرات کھیت سے منڈی، منڈی سے صنعت اور صنعت سے برآمدی بازار تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن اے الفضلی کے دورۂ اسلام آباد کے دوران ہونے والے مذاکرات اس اعتبار سے اہم ہیں کہ دونوں ملکوں نے محض روایتی سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر عملی اقتصادی شراکت داری کی سمت قدم بڑھایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی دلچسپی اور وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی قیادت میں ہونے والی پیش رفت اس امر کی متقاضی ہے کہ اب فیصلوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان کے پاس چاول، گوشت، پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس کی پیداوار کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں، معیار، پیکیجنگ، ذخیرہ کاری، کولڈ چَین، سرٹیفکیشن، برانڈنگ اور بروقت ترسیل کا بھی ہے۔ عالمی منڈی میں وہی ملک مستقل کامیابی حاصل کرتا ہے جو خام مال فروخت کرنے کے بجائے اسے معیار، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ قدر مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی پھلوں، سبز چارے اور دیگر غذائی مصنوعات میں دلچسپی اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستانی زرعی شعبے کے لیے ایک وسیع منڈی موجود ہے۔ ہمیں اس موقع کو روایتی برآمدی طریقوں سے نہیں بلکہ جدید زرعی سوچ کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ کسان کو صرف فصل اگانے والا نہیں بلکہ برآمدی معیشت کا بنیادی شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ چاول کی تجارت میں اضافہ اور سرخ گوشت کی برآمدات کو بتدریج دوگنا کرنے کا ہدف بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا باسمتی چاول دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتا ہے جب کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی ملک میں وسیع امکانات کا حامل ہے۔ لیکن برآمدات بڑھانے کے لیے عالمی معیار کی صفائی، صحت، جانچ، پیکیجنگ اور ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ایک معمولی معیار کی خرابی بھی پوری برآمدی مارکیٹ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس تناظر میں سعودی سرمایہ کاری اور تجربے سے فائدہ اٹھانا پاکستان کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ آب پاشی کے جدید طریقوں، پانی کے بہتر استعمال، زرعی ٹیکنالوجی اور چھوٹے کاشت کاروں کی معاونت کے شعبوں میں باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خصوصاً پانی پاکستان کی زراعت کا سب سے اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ بدلتے موسم، پانی کی قلت اور روایتی آب پاشی کے طریقے مستقبل میں زرعی پیداوار کے لیے بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے پانی کے ہر قطرے کو پیداوار میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی اختیار کرنا ہوگی۔ بھکر میں آب پاشی کے کامیاب ماڈل کو سعودی وفد کی جانب سے سراہنا اور چھوٹے کاشت کاروں کے لیے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری پر آمادگی ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ پاکستان کی زرعی معیشت کی اصل طاقت بڑے فارم نہیں بلکہ لاکھوں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان ہیں۔ اگر انہیں جدید بیج، مناسب پانی، زرعی مشاورت، سستی ٹیکنالوجی، آسان قرض، بہتر منڈی اور برآمدی چَین سے جوڑ دیا جائے تو زرعی شعبہ ملکی معیشت کے لیے غیر معمولی قوت پیدا کرسکتا ہے۔ یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ زرعی تعاون کے نام پر ایسے منصوبے نہیں ہونے چاہئیں جن کا فائدہ صرف بڑے سرمایہ کاروں تک محدود رہ جائے۔ کسان اس پورے عمل کا مرکز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری آئے، صنعت لگے، برآمدات بڑھیں، مگر اس معاشی سفر میں کسان کی آمدن، زمین کی پیداوار اور دیہی روزگار بھی بڑھنا چاہیے۔ یہی کسی بھی زرعی پالیسی کی اصل کامیابی ہوگی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی مراسم تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی اور عوامی سطح پر گہری وابستگی موجود ہے۔ اب اس تعلق کو معاشی شراکت داری کی نئی منزل تک لے جانے کا وقت ہے۔ زراعت اس سفر کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔ تین ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف بلاشبہ بڑا ہے، مگر پاکستان کے لیے ناممکن نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پالیسی میں تسلسل ہو، اداروں میں ہم آہنگی ہو، کسان کو اعتماد دیا جائے، نجی شعبے کو سہولت ملے اور برآمد کنندگان کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی زمین کی زرخیزی کو اپنی معاشی خوش حالی میں تبدیل کرے۔ اگر سعودی سرمایہ، پاکستانی زمین، کسان کی محنت اور جدید ٹیکنالوجی ایک سمت میں جمع ہوجائیں تو زرعی شعبہ صرف خوراک پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری اور قومی خوش حالی کا سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاک سعودی زرعی تعاون دراصل دو ملکوں کے درمیان ایک تجارتی معاہدے سے بڑھ کر ہے۔ یہ پاکستان کے کھیت کو عالمی منڈی سے جوڑنے، کسان کی محنت کو قدر دینے اور زرعی معیشت کو نئی زندگی دینے کا موقع ہے۔ اس موقع کو اگر بصیرت، دیانت اور مستقل مزاجی سے استعمال کیا گیا تو آج کا تین ارب ڈالر کا ہدف کل ایک بہت بڑی معاشی حقیقت بن سکتا ہے۔