دانیال جیلانی
پاکستان میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے اس موضوع پر سیاسی حلقوں، ماہرین، دانشوروں اور میڈیا میں بحث جاری ہے جب کہ سندھ اسمبلی میں بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق تحریکِ التوا پر بحث ہوئی ہے۔ اس بحث نے ایک بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی گنجائش باقی ہے یا وقت آ گیا ہے کہ انتظامی نقشے پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے؟
یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی سرگرمیوں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، مگر ہمارا انتظامی نظام بڑی حد تک اسی ڈھانچے کے ساتھ چل رہا ہے جو آبادی، وسائل اور ضروریات کے موجودہ حجم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک عام شہری کو آج بھی کئی بنیادی کاموں کے لیے ضلعی یا صوبائی دارالحکومت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ سفر صرف وقت اور پیسے کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں تک رسائی کی ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس میں حکمرانی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے، افسران کی نگرانی بہتر ہوسکتی ہے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھ سکتی ہے اور وسائل کی تقسیم زیادہ متوازن انداز میں کی جاسکتی ہے۔ یہ دلیل بھی وزن رکھتی ہے کہ جس علاقے کی انتظامی نگرانی ایک نسبتاً محدود جغرافیائی دائرے میں ہو، وہاں حکومت کے لیے عوامی مسائل کی نشان دہی اور ان کے حل کی رفتار زیادہ بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور ماہرین کی حالیہ قومی بحث میں نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھا دینے سے پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے؟ یقیناً نہیں۔ اگر نئے صوبے بن بھی جائیں مگر وہی کمزور ادارے، وہی سست بیوروکریسی، وہی ناقص بلدیاتی نظام، وہی سیاسی مداخلت اور وہی غیر مؤثر احتساب جاری رہے تو نقشہ بدلنے کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اصل ضرورت انتظامی اصلاحات کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات کی ہے۔ اختیارات کو صرف صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رکھنے کے بجائے اضلاع، تحصیلوں اور مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا ہوگا۔ دنیا کے کامیاب انتظامی ماڈلز کا بنیادی اصول یہی ہے کہ فیصلے وہاں کیے جائیں جہاں مسائل موجود ہوں۔ اگر کراچی کے شہری مسئلے کا فیصلہ کراچی میں، تھر کے مسئلے کا فیصلہ تھر کے قریب اور جنوبی پنجاب کے مسئلے کا فیصلہ مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں ہوسکتا ہے تو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سنجیدگی سے غور کیوں نہ کیا جائے؟
سندھ کے معاملے میں یہ بحث مزید حساس ہوجاتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ صوبائی اسمبلی کا اختیار ہے اور انہوں نے صوبے کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان سمیت بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ سندھ کے بڑے شہروں اور علاقوں میں بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ یوں یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی، آئینی، تاریخی اور جذباتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو کسی ایک جماعت، شہر یا صوبے کے خلاف مہم نہ بنایا جائے۔ اگر کسی علاقے کے عوام بہتر انتظام، زیادہ وسائل، فوری انصاف اور مؤثر سرکاری خدمات چاہتے ہیں تو ان کے مطالبے کو سنا جانا چاہیے، لیکن ہر تجویز کو آئین، قومی مفاد، مالی استعداد اور عوامی رضامندی کے پیمانے پر پرکھنا بھی ضروری ہے۔ ماہرین نے بھی نشان دہی کی ہے کہ نئے یونٹس کے قیام سے پہلے مالی وسائل، انتظامی اخراجات، محصولات، قرضوں اور وسائل کی تقسیم جیسے معاملات پر جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ صوبے بڑے ہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے عوام کے لیے کتنے قابلِ رسائی، جواب دہ اور مؤثر ہیں۔ اگر نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو ان کے ساتھ مضبوط مقامی حکومتیں، بااختیار بلدیاتی ادارے، شفاف مالیاتی نظام، مؤثر پولیس، بہتر صحت و تعلیم اور تیز رفتار انصاف بھی ضروری ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کو قومی انتظام کی اصلاح کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو مزید صوبے چاہئیں یا مضبوط ڈویژن، نئے انتظامی یونٹس چاہئیں یا بااختیار بلدیاتی حکومتیں، اس کا فیصلہ جذبات نہیں بلکہ اعداد و شمار، تحقیق، عوامی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ آج پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جس میں شہری کو اپنا جائز کام کروانے کے لیے طاقتور دروازوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو ان کے مسائل کے حل کے قریب لے آتے ہیں تو یہ بحث قابلِ غور ہے۔
وقت آگیا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث کو سیاسی نعروں سے نکال کر قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ پاکستان کو تقسیم نہیں، بہتر انتظام چاہیے، اختیار کی مرکزیت نہیں، عوام تک رسائی چاہیے اور ایسے ادارے چاہئیں جو شہری کو یہ احساس دلائیں کہ ریاست واقعی اس کے دروازے پر موجود ہے۔